اتوار , 20 اکتوبر 2019

ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپی ملکوں کا اجلاس

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران اور ایٹمی معاہدے کے بارے میں تین یورپی ملکوں کے وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کا برسلز میں ایک اجلاس تشکیل پایا ہے۔رپورٹ کے مطابق پیر کے روز برسلز میں یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ اور برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کا ایران اور ایٹمی معاہدے اور بدھ کے روز تہران کی جانب سے کئے جانے والے اعلان کے بارے میں ایک ہنگامی اجلاس تشکیل پایابرسلز میں یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ اور برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کی شرکت سے تشکیل پانے والے اس اجلاس میں ایٹمی معاہدے کے تعلق سے ایران کے حالیہ فیصلے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔مغربی ذرائع‏ ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق برسلز اجلاس میں ایران کے ساتھ تجارت کے مالی سسٹم انسٹیکس پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

ایٹمی معاہدے پر ایران کی جانب سے دیئے جانے والے انتباہ کے بعد یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ اور برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کا یہ پہلا اجلاس تشکیل پایاہے۔یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے برسلز میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ سے ملاقات سے قبل کہا کہ یورپی ممالک کو چاہئے کہ جتنا ممکن ہو سکے اپنے تمام وسائل اور پورے سیاسی عزم و ارادے کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی حمایت کریں۔پیر کے روز تشکیل پانے والے اجلاس سے قبل فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایوے لے دریان نے کہا ہے کہ یورپ چاہتا ہے کہ ایران ایٹمی معاہدے میں باقی رہے۔انھوں نے ایران کے بارے میں امریکہ کے بے تحاشا دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کے سلسلے میں امریکی اقدام نامناسب ہے۔

جرمنی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی ممالک ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے تحفظ اور اس بین الاقوامی معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کئے جانے کے خواہاں ہیں۔ہیکوماس نے پیر کے روز برسلز میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں تاکید کے ساتھ کہا کہ یورپی ممالک ایٹمی معاہدے کے تحفظ اور اس پر عمل درآمد کے تعلق سے مکمل طور پر متحد ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس معاہدے پر عمل کیا جائے۔جرمنی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے اب تک اس معاہدے پر کامیاب طریقے سے عمل کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات میں ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی حمایت کی جا رہی ہے اور ہم اسی بنا پر دوبارہ مذاکرات کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یورپ چاہتا ہے کہ ایران ایٹمی معاہدے کے دائرے میں اپنے وعدوں پر عمل کرتا رہے اور وہ اس معاہدے پر بتدریج عمل کرنا بند نہ کرے۔دریں اثنا حکومت جرمنی کے ترجمان نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ تجارت کے لئے ایک قانونی چینل بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔حکومت جرمنی کے ترجمان اسٹیفن زائیبرٹ نے پیر کے روز کہا کہ جرمنی اپنے یورپی شرکا کے ساتھ ایسے اقدامات عمل میں لانے کی کوشش کر رہا ہے کہ جن کی بنیاد پر خاصطور سے مالی ٹرانزیکشن کے ذریعے ایران کے ساتھ قانونی تجارت کی راہ ہموار ہو سکے۔

یہ بھی دیکھیں

جاپان: خوفناک سمندری طوفان میں 65 ہلاکتوں کی تصدیق

ٹوکیو: جاپان کے وسطی اور شمالی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سمندری طوفان ‘ہیگی …