جمعرات , 23 مئی 2019

گوادر میں دہشتگردی

بلوچستان کے ایک اہم ساحلی شہر گوادر کے فائیوسٹار ہوٹل پر دہشت گردانہ حملے کو سیکورٹی فورسز نے ناکام بناتے ہوئے 3حملہ آور دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے ہوٹل کا سیکورٹی گارڈ شہید ہوگیا۔ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، حملے کی ذمہ داری علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے نے قبول کی ہے، آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ روز سہ پہر 4بجے کے قریب دہشتگردوں نے ہوٹل میں داخل ہونے کی کوشش کی اور سیکورٹی گارڈ کی مزاحمت کے نتیجے میں مذکورہ سیکورٹی گارڈ حملہ آوروں کی گولیوں سے جاں بحق ہوا، صورتحال کے پیش نظر خطرے کے الارم بجائے گئے جبکہ پاک فوج کے کوئیک رسپانس یونٹ نے فوری طور پر ہوٹل پہنچ کر حملہ آوروں کو انگیج کیا اور انہیں ہوٹل کے بالائی منزل پر لے جانے میں کامیاب ہوئے جبکہ ہوٹل کے مہمان اور عملے کو بہ حفاظت نکال لیا گیا، تاہم بعض افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، سیکورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کے نتیجے میں رات گئے تک جاری آپریشن کے دوران تمام دہشتگرد مار دیئے گئے، البتہ حملہ آوروں کی اتنی دیر تک مزاحمت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ نہ صرف تربیت یافتہ تھے بلکہ پوری طرح تیار ہو کر اور بھاری مقدار میں اسلحہ وگولہ بارود لیکر ہی حملہ آور ہوئے تھے، حملے سے ہونے والے نقصانات کی تفصیل تو ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئی لیکن کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تنظیم ابھی پوری طرح پسپا نہیں ہوئی بلکہ جہاں موقع ملتا ہے وہاںحملہ کر کے اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے۔

اگرچہ اب اس کے حملوں میں وہ شدت نہیں رہی جو چند برس پہلے تھی کیونکہ اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان کے سیکورٹی فورسز نے بلوچستان میں فعال مختلف شدت پسند تنظیموں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ ان علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کرنے والے غیر ملکی نیٹ ورکس کو بھی تہس نہس کیا جا چکا ہے اور پاکستانی افواج کے اقدامات کیساتھ ساتھ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے کئی فراری کیمپ بند اور تشدد پر آمادہ فراری ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں جو صورتحال کی تبدیلی کی واضح تصویر ہے، دراصل مٹھی بھر گمراہ افراد کے ورغلانے کی وجہ سے کچھ لوگ ماضی میں وطن دشمن کارروائیوں پر بوجوہ مجبور کر دیئے گئے تھے، ان کو کسی تحریص یا پھر منفی پروپیگنڈے نے اپنے ہی ملک سے غداری پر آمادہ کیا تھا لیکن صورتحال واضح ہونے اور ان کے مربیوں کی پشت پناہی میں پاکستان دشمن غیر ملکی قوتوں کے ملوث ہونے جبکہ انہی غیر ملکی قوتوں کی نگرانی میں تخریب کاری کیمپوں کے قیام سے آگاہ ہونے کے بعد بہت سے فراریوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تو انہوں نے ہتھیار پھینک کر واپس قومی دھارے میں شمولیت کا دانشمندانہ فیصلہ کیا،۔

اس ضمن میں اصل حقائق اب کوئی راز نہیں رہے کہ بلوچستان کے بعض سردار بلوچستان کی نام نہاد آزادی کا خواب لئے بھارتی ایجنسیوں کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر نہ صرف یورپ وامریکہ میں بلوچستان کے عوام پر مبینہ مظالم کے حوالے سے مکروہ پروپیگنڈہ کرر ہے ہیں جبکہ دراصل وہ بلوچستان کی نام نہاد آزادی کے نام پر اربوں ڈالر کے چندے وصول کر کے خود تو عیاشی کر رہے ہیں مگر اپنے ملک میں غریب لوگوں کو قربانی کا بکرا بنا کر دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں، ان مٹھی بھر گمراہ افراد کی وجہ سے اگرچہ بلوچستان میں آگ وخون کا کھیل رچانے کی کوششیں ابتداء میں تو کامیاب رہیں مگر پاکستان کی سیکورٹی فروسز کی کامیاب آپریشن اور ساتھ ہی بلوچستان میں پسماندہ طبقوں کی بحالی کے اقدامات سے عوام میں شعور بتدریج اُجاگر ہوتا رہا اور جو لوگ ان مٹھی بھر علیحدگی پسندوں کے چنگل میں گرفتار ہو کر غلط راہ پر گامزن ہوگئے تھے انہیں اصل حقائق کا احساس ہونے کے بعد توبہ تائب ہونے میں زیادہ تردد نہیں کرنا پڑا، اور گزشتہ کچھ عرصے میں بڑی تعداد میں فراریوں کے ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے کے بعد نہ صرف دہشتگردوں کے حوصلے پست ہوئے بلکہ ان کی پشت پر سرگرم اصل قوتوں کے عزائم بھی طشت ازبام ہوگئے، یوں دشمنوں میں اب وہ دم خم باقی نہیں رہا جس کی وجہ سے انہوں نے ماضی میں عوام کو جھوٹ کا سہارا لیکر گمراہ کرنے اور اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی تھی، تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان ملک دشمن قوتوں نے ہار مان لی ہے بلکہ ان کی بچی کھچی قوت اب بھی جہاں موقع ملتا ہے حملہ آور ہو کر اپنے ہونے کا احساس دلانے میں کامیاب ہو جاتی ہے جبکہ اب ان کی حیثیت اس دیئے کی مانند ہے جو گل ہونے سے پہلے بھڑک کر اپنا وجود ظاہر کرتا ہے، مگر تابکے، اب ان میں اتنی قوت باقی نہیں رہی کہ یہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوسکیں۔ تاہم تازہ حملے کی تفصیل سامنے آنے کے بعد ہی اس حوالے سے مزید کچھ کہا جا سکے گا جبکہ شہید ہونے والے سیکورٹی گارڈ کے ورثا کیلئے مالی امداد بھی ضروری ہے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

’پاکستان میں بجٹ خسارہ نہیں، اعتماد کا خسارہ ہے’

(راجہ کامران) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے گزشتہ 10 ماہ کے …