پیر , 21 اکتوبر 2019

ٹیکسز کی جنگ میں چین کی امریکہ پر کاری ضرب

(تحریر: سید نعمت اللہ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا ایک انتہائی اہم ایشو چین سے تجارتی تعلقات ہیں۔ وہ حتی دو سال پہلے صدارتی الیکشن کی مہم میں شرکت سے پہلے بھی اس ایشو پر بات کرتے تھے اور انہیں تجارت میں اپنے شریک ملک چین کو شدید بیانات کا نشانہ بنانے کیلئے اسٹیو بینن جیسے اسٹریٹجسٹ افراد کا تعاون بھی حاصل تھا۔ اب اگرچہ بینن ان کے ساتھ نہیں رہے لیکن اس کے باوجود نہ صرف چین کے خلاف ان کے بیانات میں کمی نہیں آئی بلکہ مزید وسعت دیکھنے میں آئی ہے۔ گذشتہ چند دنوں میں اس بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر پیغامات یہ دعوی ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔ درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے خلاف ٹوئٹر پر اپنی جنگ کا آغاز گذشتہ ہفتے منگل والے دن سے کیا جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہونا ہی چاہتا تھا۔ انہوں نے چین پر گذشتہ معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دھمکی دی کہ وہ جمعہ کے روز سے چین سے درآمد ہونے والی اشیاء پر عائد ٹیکس میں 10 سے 25 فیصد اضافہ کر دیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں وہ اپنے اس ٹوئٹر پیغام کے ذریعے مذاکرات پر اثرانداز ہونا چاہتے تھے اور چینی وفد کو خوفزدہ کر کے انہیں اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کرنے کے درپے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے پہلا اور اصلی ترین مطالبہ جس پر وہ چین سے تجارتی جنگ کے آغاز سے زور دیتے آئے ہیں امریکہ اور چین کے درمیان تجارت میں مناسب توازن قائم کرنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوی ہے کہ موجودہ توازن امریکہ کے نقصان میں ہے کیونکہ فی الحال چین سے تجارت میں امریکہ کو 350 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے لہذا وہ چین سے درآمد ہونے والی اشیاء پر اضافی ٹیکس عائد کر کے اس نقصان کو کسی حد تک پورا کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح وہ چین کو اس بات پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ سے چین برآمد ہونے والے اشیاء کیلئے اپنے دروازے مزید کھول دے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ چین سے برآمد ہونے والی مصنوعات پر ٹیکسز بڑھانے کے پہلے مرحلے اور چند ماہ جنگ بندی کے بعد اب ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر چین پر زیادہ سے زیادہ تجارتی دباو ڈالنے کا ارادہ کر چکے ہیں اور جیسا کہ امریکہ کے تجارتی نمائندے رابرٹ لائٹیزر کہتے ہیں چین سے آنے والی تقریبا تمام مصنوعات پر ٹیکس عائد کر دیا جائے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس زیادہ سے زیادہ دباو کے ذریعے کم ترین ممکنہ وقت میں چینی حکام سے مراعات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات کئی ماہ تک طولانی ہو جائیں۔ درحقیقت وہ اس وقت بھی ان ٹیکسز کی نسبت پریشان ہیں جو چین نے امریکی مصنوعات پر عائد کر رکھے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ٹیکسز کا شکار ہونے والی امریکی مصنوعات کا بڑا حصہ شعبہ زراعت سے وابستہ ہے جبکہ ریپبلکن پارٹی کے حامیوں کی اکثریت زراعت کے شعبے سے ہی منسلک ہے۔ یہ وہی افراد ہیں جنہوں نے دو سال پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔ شاید ڈونلڈ ٹرمپ کو توقع نہیں تھی کہ چین کے ساتھ ٹیکسز کی جنگ میں ان کا ووٹ بینک متاثر ہو جائے گا لہذا جب انہوں نے اس جنگ کے اثرات کا مشاہدہ کیا تو تقریباً دو ماہ پہلے چینی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کے شعبہ زراعت سے وابستہ مصنوعات پر سے ٹیکسز ختم کر دے۔ چین نے ان کا یہ مطالبہ نہیں مانا جس کے نتیجے میں اب امریکہ کے کسانوں پر دباو بڑھ گیا ہے۔

حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں حکومت کی جانب سے کسانوں کو 15 ارب ڈالر تک سبسڈی دینے کا عندیہ دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس رقم کا بندوبست چینی مصنوعات پر نئے ٹیکسز لگا کر اور گذشتہ ٹیکسز میں اضافہ کر کے کریں گے۔ لیکن واضح ہے کہ ان کی یہ سبسڈی بھی کسانوں کو پہنچنے والے نقصان کا مکمل ازالہ نہیں کر سکتی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو پہنچنے والا سیاسی نقصان اس نقصان سے ہٹ کر ہے جو چین سے تجارتی جنگ میں امریکہ کی معیشت کو پہنچ رہا ہے۔ امریکہ کی جی ڈی پی میں 0.6 فیصد کمی آئی ہے اور احتمال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کمی 1.5 فیصد تک جا پہنچے گی۔ ان اعداد و شمار نے امریکی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ٹیکسز کی جنگ میں چین کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود زیادہ نقصان امریکی معیشت کو پہنچے گا۔ امریکہ کی وزارت تجارت و صنعت نے اعلان کیا ہے کہ چین، یورپی یونین، کینیڈا اور میکسیکو سے تجارتی جنگ کے نتیجے میں امریکہ کو گذشتہ دس برس میں سب سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اور عین ممکن ہے ہم دوبارہ اقتصادی بحران کا شکار ہو جائیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ تجارتی جنگ کے ذریعے چین اور دیگر ممالک کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دینا چاہتے تھے لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں نہ صرف امریکہ دوبارہ اقتصادی بحران کے خطرے سے روبرو ہے بلکہ ریپبلکن پارٹی کا ووٹ بینک بھی ٹوٹتا جا رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اربعین واک: عراق میں نجف سے کربلا تک پیدل سفر کی کہانی

منزہ انوار یہاں جا بجا دورانِ سفر کسی بھی مسافر کو پیش آنے والی ہر …