جمعرات , 23 مئی 2019

آئی ایم ایف کی کڑی شرائط، مہنگائی کا عفریت اور پاکستانی عوام

(تحریر و ترتیب: آئی اے خان)

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے بڑے معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے، سابقہ لئے گئے قرضوں کا سود ادا کرنے کی بھی سکت نہیں اور خالی خزانہ حکومت کا منہ چڑا رہا ہے، قرضداروں کا منہ بند کرنے کیلئے حکومت کئی شعبوں میں عوام کو دی گئی سبسٹڈیز ختم کر رہی ہے، جس کا بوجھ لامحالہ عوام پہ پڑ رہا ہے اور وہ ریاست بالخصوص حکومت سے متنفر ہو رہے ہیں۔ اس بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت یکے بعد دیگر ے مشکل سے مشکل فیصلے کر رہی ہے، ظاہر ہے کہ ان فیصلوں کے مثبت یا منفی اثرات فوری طور پر تو سامنے آنے سے رہے، مگر یہ بات طے ہے کہ آنے والا وقت پاکستان کے عوام کیلئے کہیں زیادہ مشکل اور سنگین محسوس ہو رہا ہے۔ خالی خزانے اور سابقہ حکومتوں کی خراب ترین کارکردگی کے ساتھ موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے کاسہ لیس ہے۔ اگرچہ موجودہ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار ملنے سے قبل ہمیشہ سے ہی آئی ایم ایف میں جانے کو پاکستان کے مفاد کے منافی قرار دیا تھا، مگر ان دعووں، وعدوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کی ٹیم گذشتہ کئی ماہ سے آئی ایم ایف سے قرض لینے کیلئے سرتوڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

آخری اطلاعات تک وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف جائزہ مشن نے نئے قرضہ پروگرام کی تقریباً تمام جزئیات آپس میں طے کر لیں تھیں۔ آئی ایم ایف تین سالہ پروگرام کے تحت پاکستان کو 8 ارب ڈالر تک کا قرضہ دے گا۔ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ جائزہ مشن کی رپورٹ کی روشنی میں پاکستان کے لیے قرضہ پروگرام کی منظوری دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کی شرح 11.7 فیصد سے بڑھا کر 13.2 فیصد جبکہ براہ راست ٹیکسوں کا حجم 1619 ارب روپے سے بڑھا کر 1904 ارب روپے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جو کہ حکومت کو تسلیم کرنا پڑا۔ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو اگلے بجٹ میں 750 ارب روپے کے ٹیکس لگانے کا ورکنگ پلان پیش کیا گیا ہے، وفاقی بجٹ میں چینی پر جی ایس ٹی کی شرح بڑھائی اور گیس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ الیکٹرانکس اور فوم انڈسٹری کی مصنوعات پر سیلز ٹیکس لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ جی ایس ٹی کی معیاری شرح 17 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا بھی امکان ہے۔

یوں تو اپنی پیدائش کے تین سال بعد ہی پاکستان نے آئی ایم ایف کی رکنیت اختیار کر لی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک طرف آئی ایم ایف سے حاصل کئے گئے قرضوں کے حجم، مدت میں اضافہ ہوا تو دوسری طرف اس قرضے کی شرائط بھی سخت سے سخت تر ہوتی گئیں۔ پاکستان تاحال 21 مرتبہ آئی ایم ایف سے رجوع کر چکا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1988ء سے پہلے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین ہونے والے معاہدے قلیل مدتی بنیادوں پر ہوتے تھے، جن میں عمومی طور پر قرض معاشی اصلاحات سے مشروط نہیں ہوتے تھے۔ تاہم 1988ء کے بعد سٹرکچلرل ایڈجسمنٹ پروگرامز شروع ہوئے۔ سٹرکچلرل ایڈجسمنٹ پروگرامز یعنی ایس اے پی وہ ہوتے ہیں، جن میں قرض دینے والا ادارہ شدید معاشی مشکلات کے شکار قرض حاصل کرنے والے ممالک کو مخصوص شرائط کے تحت نیا قرض دیتا ہے۔ گذشتہ 31 برسوں میں مشروط قرض کا یہ 12واں معاہدہ ہوگا۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ممبر ممالک جو قرض حاصل کرتے ہیں، وہ ان ممالک کے اپنے ہی پیسے ہوتے ہیں۔ آئی ایم ایف ہر ممبر سے اس کے حصے کے پیسے حاصل کرتا ہے اور اسی حاصل شدہ پیسوں سے ان کا کوٹہ ترتیب دیتا ہے۔ یہی کوٹہ فیصلہ کرتا ہے کہ ممبر ملک کس حد تک قرضہ لے سکتا ہے۔ اگر کوئی رکن ملک اپنی استعداد سے زیادہ قرضے کے حصول کا خواہشمند ہو تو اس پھر اس کیلئے معاشی اصلاحات کے نام پہ آئی ایم ایف کی شرائط پہ عملدرآمد کرنا پڑتا ہے۔ عمومی طور پر یہ شرائط اتنی سخت ہوتی ہیں کہ قرضہ حاصل کرنے والا ملک من و عن ان پہ عمل کرنے سے قاصر رہتا ہے اور نتیجے میں ایک طرف ساکھ خراب ہوتی ہے اور دوسری طرف ان اصلاحات کے نتیجے میں عوامی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف سے حاصل کئے گئے اب تک کے قرضوں میں پاکستان کی یہ بھی تاریخ رہی ہے کہ پاکستان قرضہ تو لے لیتا ہے، مگر اس پہ عائد شرائط پوری نہیں کر پاتا۔

موجودہ حکومت کو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے میں جن مشکلات کا سامنا رہا۔ ان میں ایک بڑی مشکل قرضوں کی مد میں پاکستان کی خراب تاریخ اور معاشی اصلاحات و شرائط پہ عدم عملدرآمد۔ دوسری مشکل امریکہ کی سفارش کا نہ ہونا بھی ہے۔ اس کے باوجود حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین قرضے کا معاہدہ طے پایا ہے۔ اس قرضے میں جو شرائط لاگو کی گئی ہیں، ان پہ عملدرآمد کی صورت میں مہنگائی کا جن بے قابو جبکہ ٹیکسز میں اضافے کے باعث کاروباری سیکٹر کو بھی دھچکا لگنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پہ قرضہ لینے کے معاملے پہ اظہار خیال کرتے ہوئے ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو جن شرائط پہ قرضہ دینے کی حامی بھری ہے، یہ شرائط مصر ماڈل سے میل کھاتی ہیں۔ آئی ایم ایف میں مصر کو ایک پوسٹر چائلڈ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے سے پہلے مصر میں تقریبا 30 فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے تھے اور آج یہ شرح 55 فیصد ہے۔ مصر میں اس طرح کے پروگرام کے ثمرات یہ ہیں کہ غربت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ مصر کی کرنسی کی قدر کم ہونے سے وہاں مہنگائی بہت تیزی سے بڑھی۔

حالیہ شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے توقع یہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ بھی یہی ہوگا۔ ڈسکانٹ ریٹ بڑھے گا، روپے کی قدر کم ہوگی، غربت اور بے روزگاری بڑھے گی، تمام طرح کی سبسڈیز ختم ہوں گی۔ گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی اور یہ سب پاکستانی عوام کے لیے بہت تکلیف دہ ہوگا جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف سے لئے جانے والے قرض سے پاکستان میں کسی طور بھی معاشی استحکام بھی نہیں آئے گا۔ ڈاکٹر اشفاق کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کے دو سے تین برس تک ہمیں اپنے جی ڈی پی کی شرح نمو دو سے اڑھائی فیصد رکھنا ہوگی۔ جس ملک میں 15 لاکھ نوجوان ہر برس روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں، اس ملک میں شرح نمو کم از کم سات سے آٹھ فیصد ہونا ضروری ہے۔ آئی ایم ایف نے مذاکرات کرکے پاکستان کو ایک پروگرام دے دینا ہے، جو کسی صورت ملک کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔ روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی وجہ سے بالواسطہ عوام متاثر ہوں گے اور مہنگائی بڑھے گی اور تمام درآمدی اشیاء کی قیمت بڑھے گی۔ پاکستانی عوام پر اس قرضے کے شدید معاشی اثرات ہوں گے۔ معاشی میدان میں موجودہ مشکلات اور مہنگائی میں صحیح معنوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط ہر عملدرآمد کے ساتھ شروع ہوگا۔

آئی ایم ایف سے حالیہ معاہدے سے متعلق مختلف ماہرین معاشیات نے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کیا ہے۔ ماہر معاشیات محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے جا رہا ہے، اگر مزید بوجھ ڈالا گیا تو یہ معیشت ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے معیشت کی بحالی سے متعلق کہا کہ مجموعی ٹیکسز بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ماہر معاشیات قیصر بنگالی نے کہا کہ پاکستان کے فیصلے عالمی مالیاتی فنڈ کے لوگ کر رہے ہیں کیونکہ مذاکرات آئی ایم ایف بامقابلہ آئی ایم ایف ہی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تباہ کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف کا پروگرام استحکام کا پروگرام نہیں ہے، ہمارے ٹیکسز میں صرف ریونیو کو دیکھا جاتا ہے اور آئی ایم ایف بھی ایسا ہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی پر حملہ کسی حوالے سے بھی جائز نہیں، ہم دو سال سے بول رہے تھے کہ معیشت بحران کی طرف جا رہی ہے تو انہیں بھی معلوم ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم آئی ایم ایف کو اپنا پروگرام دے دیں تو وہ کڑی شرائط نہیں رکھتا لیکن ہم ایسا نہیں کرتے۔

قیصر بنگالی نے معیشت کی بحالی سے متعلق کہا کہ مکمل طور سے ہمیں تین سے چار ارب کے امپورٹ پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے، صنعتوں پر ٹیکس کم کرنا ہوگا اور ٹیکس ریٹ کم کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس معیشت میں مزید ٹیکس بنانے کی گنجائش نہیں ہے، اس وقت آئی ایم ایف کی ٹیم حکومت پر قابض ہے۔ سابق وزیر خارجہ سلمان شاہ نے کہا کہ ہمیں گورننس نے تباہ کیا ہے، ورنہ اس ملک میں بہت کچھ ہے اور پاکستان ایک نوجوان ملک ہے، جس کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 80 فیصد معیشت صوبوں کے پاس ہے، آئی ایم ایف کا پروگرام تھوڑا ریلیف دے گا، اس وقت شرح سود اتنے بلند نہیں ہیں، اس وقت سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایف بی آرنے جتنا نقصان پہنچایا ہے، وہ کسی نے نہیں پہنچایا، اس وقت آئی ایم ایف کی کوشش ہے کہ پاکستان کو مستحکم کیا جائے اور یہ پاکستان کی ضرورت ہے۔

القصہ مختصر پاکستانی معیشت میں بہتری کے امکانات مسلسل معدوم ہو رہے ہیں، جبکہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے خوفناک نتائج ہوشربا مہنگائی، مزید لاکھوں خاندانوں کے خط غربت کے نیچے آنے اور روپے کی قدر میں کمی، ڈالر کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ پٹرولیم، ذرائع توانائی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں برآمد ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرض ملنے کے بعد مسائل کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس پریشان کن صورتحال میں مستحکم اور امیر دوستوں کا وجود کیوں ڈھونڈے سے بھی دکھائی نہیں دے رہا کہ جن کی دوستی کی مثال سمندر، پہاڑ اور شہد سے دیتے ہیں یا جن کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے کی ہم قسمیں کھاتے نہیں تھکتے۔

یہ بھی دیکھیں

’پاکستان میں بجٹ خسارہ نہیں، اعتماد کا خسارہ ہے’

(راجہ کامران) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے گزشتہ 10 ماہ کے …