جمعرات , 23 مئی 2019

مایوس لوگ !

(عباس مہکری)

پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط کو بہت حد تک تسلیم کر لیا۔ ان شرائط کو پاکستان کی معیشت میں بہتری لانے کے لئے ’’ریفارمز پیکیج‘‘ کا نام دیا جارہا ہے۔ ہر پاکستانی کا سوال ہے کہ کیا اس پیکیج سے پاکستان کی معیشت بہتر ہوگی؟ معروف امریکی دانشور اور مورخ دل ڈیورانٹ اپنی کتاب ’’نشاط فلسفہ‘‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’ماضی میں جن باتوں کا ہمیں مکمل ادراک ہوتا تھا، وہ باتیں آج ہمیں سمجھ میں نہیں آتی ہیں۔‘‘ مذکورہ بالا سوال بھی شاید ہمارے ذہن میں اس لئے آرہا ہے کہ ماضی میں جو حقیقت ہم پر عیاں تھی، ہم آج اسے سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حقیقت یہ تھی اور ہے کہ پاکستان عالمی سامراجی جکڑ بندیوں کا شکار ایک ریاست ہے، جسے معاشی اصطلاح میں ایک جدید نوآبادیاتی ریاست کہا جاسکتا ہے۔ اس کی قومی معیشت نہیں بن سکی ہے اور یہ اپنی معیشت اور سیاست کے بارے میں آزادانہ فیصلے نہیں کر سکتا ہے ۔ پاکستان جیسے ملکوں میں عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے دیئے گئے اقتصادی اصلاحات کے پیکیجز سے سامراجی جکڑ بندیوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت بہتر ہو گی ؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جو بات ہمیں ماضی میں سمجھ آتی تھی ، وہ اب ہمیں سمجھ کیوں نہیں آتی ۔ کیا بعد میں آنے والی نسلیں اپنی پہلے کی نسلوں سے زیادہ بے وقوف اور جاہل ہوتی ہیں ؟ تاریخ انسانی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ بعد والی نسلیں نہ ہی بے وقوف ہوتی ہیں اور نہ جاہل ۔ انہیں ماضی سے لاتعلق کر دیا جاتا ہے ۔ انسان طویل جدوجہد ، قربانیوں ، ذہنی اور علمی ریاضت کے بعد حقائق تک پہنچتا ہے ۔ پھر جو لوگ واضح اور غیر مبہم الفاظ میں ان حقائق کو بیان کرتے ہیں ، انہیں عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے ۔ نئی نسل اس انجام سے بچنے کے لیے لاتعلق ہو جاتی ہے اور یوں ماضی کی حقیقت اس طرح سمجھ نہیں آتی ، جس طرح پہلے والی نسل کو سمجھ آتی تھی ۔

صدیوں کے ظلم اور استعماریت کا شکار انسانیت پر 18 ویں صدی کے آخر میں انقلاب فرانس کے ذریعہ سامراج ، نو آبادیاتی اور جدیدنو آبادیاتی نظاموں کے بارے میں نادر انکشافات ہونا شروع ہوئے اور 19 ویں صدی کے آخر میں ان استعماری اور استحصالی نظاموں کے بارے میں حقائق کو بیان کرنے کے لیے انسانوں کے پاس الفاظ بھی تھے ، دلائل بھی تھے اور ان سے نجات کے نظریات بھی تھے ۔ مختصر یہ کہ 20 ویں صدی کے چھٹے اور 7 ویں عشرے تک انسانی تاریخ نے سب سے زیادہ انقلاب دیکھے اور پھر پاکستان جیسے ملکوں میں جو عالمی سامراجی جکڑ بندیوں میں پھنستے گئے ، ان جکڑ بندیوں سے نکلنے کا نعرہ لگانے والے سیاسی قائدین کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ اس کے بعد کھل کر یہ بات کسی نے نہیں کہی ، جس طرح ہونی چاہئے تھی ۔ اب کالم کی طوالت سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کے موجودہ ’’ ریفارمز پیکیج ‘‘ پر بات کرتے ہیں ۔ رپورٹس کے مطابق اس پیکیج کے تحت روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 160 سے 165 روپے ہو سکتی ہے ۔ گیس اور بجلی کے نرخ بڑھ جائیں گے ۔ مختلف اوقات میں 700 روپے کا ٹیکسوں میں جو استثنی دیا گیاتھا، وہ دو سال میں واپس لینا ہو گا۔ بہت سے ٹیکسوں خصوصاََ براہ راست ٹیکسوں میں اضافہ ہو جائے گا ۔

شرح سود میں 12 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا ۔ سیدھی سی بات یہ ہےکہ اس سارے پیکیج کا بوجھ صرف عام آدمی پرہی پڑے گا ۔ وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ڈیڑھ دو سال مشکل ہیں ۔ اس کے بعد سب بہتر ہو جائے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان زندگی میں صرف عظیم کامیابیاں اور عظیم فتوحات حاصل کرنے والے شخص ہیں ۔ انہوں نے کبھی تکلیفیں نہیں دیکھی ہیں اور نہ ہی ناکامیوں کا سامنا کیا ہے ۔ ملکی اور عالمی طاقتور حلقوں کی مخالفت اور قہر سے وہ ابھی تک بچے ہوئے ہیں ۔ شاید اس لیے وہ منفی نہیں مثبت اپروچ رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے انتہائی معتمد ساتھی اسد عمر کو وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹایا ۔ انہوں نے گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر بھی تبدیل کیے ۔ انہوں نے یہ فیصلے کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان کو یہ احساس ہو گیا ہو گا کہ پاکستان جیسے ملکوں کے وزرائے اعظم بھی کس قدر مجبور ہوتے ہیں ۔ گزشتہ 8، 9 ماہ کی حکمرانی میں وزیر اعظم عمران خان کو معیشت کے حوالے سے کچھ تجربات بھی ہوئے ہیں ۔ مثلا اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے آؤٹ آٖ ف بجٹ خرچ کرنا پڑے ۔ یہ بھی ایک مجبوری تھی ۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی نے بھی کھربوں روپے ہڑپ کر لیے یہ دو عوامل ایسے ہیں ، جو مستقل ہیں ۔ آئی ایم ایف کے نئے پیکیج سے عوام پر کھربوں روپے کا جو اضافی بوجھ ڈالا جائے گا ، وہ بھی ان دو عوامل کی نذر ہو جائے گا ۔ کرپشن کے خلاف مہم میں سال بھر کے دوران لوٹی ہوئی جتنی دولت واپس آتی ہے ، وہ ایک دن کے ’’ آؤٹ آف بجٹ ‘‘ اخراجات کو بھی پورا نہیں کر سکتی ہے ۔

معیشت کے حوالے سے ان تجربات کے بعد بھی وزیر اعظم عمران خان دو سال میں بہتری کی امید رکھتے ہیں تو بھی شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی مایوسی والے حالات نہیں دیکھے ۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ معیشت مزید تباہ ہو گی ، لوگوں کی زندگی اجیرن ہو جائے گی ، پاکستان مزید عالمی سامراجیوں کی جکڑ بندیوں میں کستا چلا جائے گا ۔ پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک ) کے حوالے سے پاکستان کو اپنی پالیسی رول بیک کرنا پڑے گی ۔ چین ، روس ، ایران اور پاکستان کا نیا عالمی بلاک بنانے کے تصور کے حامی حلقوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑے گی اور نئی عالمی صف بندی میں پاکستان اگر کچھ اور سوچ رہا ہے تو اسے اپنی سوچ واپس لینی پڑے گی ۔ ایسی باتیں کرنے والے لوگ دراصل ماضی کے حقائق پر تاریخ کی پڑی گرد کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ پاکستان جیسے ملکوں میں رہنے والے اکثریتی لوگ اس طرح کی مایوسی کا شکار ہوتے ہیں ۔ انہوں نے مسلسل کامیابیاں دیکھی ہوتیں تو ان کی یہ سوچ نہ ہوتی ۔ یہ لوگ صرف مایوسی کی باتیں کرتے ہیں ۔ ماضی کے لوگوں کی طرح نہ واضح اور غیر مبہم الفاظ میں حقیقت بیان کرتے ہیں اور نہ ہی کھل کر سیاسی مزاحمت کرتے ہیں ۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

’پاکستان میں بجٹ خسارہ نہیں، اعتماد کا خسارہ ہے’

(راجہ کامران) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے گزشتہ 10 ماہ کے …