پیر , 15 جولائی 2019

لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

(نسیم صلاح الدین)

برسا برس سے سندھ کے قصبوں اور دیہاتوں میں الاؤ جلائے جاتے رہے ہیں۔ الاؤ جنگل کی آگ میں بدل گئے اور اب یہ آگ تیزی سے جنگل نگلتی جا رہی ہے۔بہادر فائر فائٹرز آتش زدگی کو بجھانے کی جدوجہد میں جُٹے ہیں۔ دراصل یہاں آگ سے مراد 3 مہلک وائرسز، ہیپاٹائٹس بی (ایچ بی وی)، ہیپاٹائٹس سی (ایچ سی وی) اور ہیومن امیون ڈیفی شینسی وائرس (ایچ آئی وی) ہیں، اس کے علاوہ اس بیکٹریا کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے جو آتشک (syphilis) کا باعث بنتا ہے۔ یہ تمام مذکورہ وائرسز اور بیکٹیریا ایک ہی طرح سے پھیلتے ہیں، یعنی جنسی تعلق، خون کے ذریعے اور حاملہ خاتون سے بچے میں منتقل ہو کر۔

کچھ ہی عرصہ قبل اگرچہ پاکستان میں ایچ آئی وی کے شکار افراد کی تعداد (صفر اعشاریہ ایک فیصد کے ساتھ) کافی کم تھی مگر سندھ میں ہونے والے حالیہ انکشاف کے بعد ان اعداد و شمار میں ناخوشگوار تبدیلی آسکتی ہے۔ افسوس کے ساتھ پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں ہیپاٹائٹس سے متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ پائی جاتی ہے، جبکہ چند علاقوں میں 25 فیصد تک آبادی کو ہیپاٹائٹس وائرسز سے متاثر رپورٹ کیا گیا۔

پاکستانیوں میں صحتمند غذائیت اور طرز زندگی کے بجائے انجیکشنز اور ڈرپس کے ذریعے طبی مسئلے کے فوری حل کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔ جبکہ لائسنس یافتہ اور غیر لائسنس یافتہ طبی عملے کی جانب سے ان کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی اور ترغیب دی جاتی ہے۔ موت کے ان پیمبروں کو استعمال شدہ وائرس زدہ سوئیاں اور سرنجز، ریزرز، جراحی چاقو، دندانی ساز و سامان یا کان یا ناک چھدوانے کے آلات کے دوبارہ استعمال میں کسی قسم کی ندامت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ تازہ یا خشک خون کی بوند کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی وائرس کے لاکھوں ذرات منتقل کرسکتا ہے۔ متاثرہ خون کی واحد اکائی کا انتقال بھی بیماری کے حملے کے عمل کو ناگزیر طور پر تیز کردے گا۔

دہائیوں سے لاڑکانہ ٹیکوں کے ذریعے منشیات کا استعمال کرنے والے افراد کا مرکز بنا ہوا ہے، ان افرد میں سے 27 فیصد تک ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔ علاوہ ازیں، شہر میں موجود لائسنس اور غیر لائسنس یافتہ بلڈ بینکس یا تو عطیہ دینے والوں کا طبی معائنہ کرتے نہیں ہیں یا پھر خون کی جانچ کے لیے غیر معیاری سامان استعمال کرتے ہیں، یوں انفیکشن کی حقیقی حالت کا پتہ ہی نہیں چل پاتا۔ آئی ڈی یوز اور ان کی جانب سے کمرشل بلڈ بینکوں کو عطیہ کیے گئے خون کا مہلک ملاپ عام آبادی میں انفیکشن کے انتقال کی راہ ہموار کرنے کی ایک اہم وجہ بنتا ہے۔

حالیہ دنوں میں ایچ آئی وی کی کیسز کی پھوٹ اس وقت سامنے آیا جب ایچ آئی وی-تربیت یافتہ بچوں کے ماہر ڈاکٹروں نے پایا کہ معمول سے ہٹ کر بڑی تعداد میں بچوں، جن کی مائیں انفیکشن سے پاک ہیں، کو انہیں ریفر کیا جا رہا ہے۔ اس بات نے انفیکشن سے پھیلنے والی بیماری (آئی ڈی) کے ماہرین میں ہل چل مچا دی، ماہرین نے اسلام آباد میں واقع نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی چین آف کمانڈ سے رجوع کیا، عالمی فنڈ کی جانب سے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام بہت زیادہ انفیکشن زدہ علاقوں میں قائم کردہ مراکز میں صوبائی پروگرامز کے ذریعے ایچ آئی وی کے شکار مریضوں کو تشخیص اور علاج کی فراہمی کا پابند ہے۔

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام متحرک ہوا اور ہنگامی بنیادوں پر لاڑکانہ اور رتودیرو میں مقامی افسران کے ساتھ بلائی گئی میٹنگز کے ذریعے ڈی جی ہیلتھ سندھ، این اے سی پی، عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، پیپلز پبلک ہیلتھ انیشیئٹو، ایکسپینڈیڈ پروگرام آف ایمیونائزیشن، لیڈی ہیلتھ ورکز اور میڈیکل مائیکروبائیولوجی اینڈ انفیکشن ڈیزیز سوسائٹی آف پاکستان (ایم ایم آئی ڈی ایس پی) سے تعلق رکھنے والے کلینکل آئی ڈی ماہرین پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تا کہ اس مہلک بیماری کے پھیلاؤ کی تحقیقات کی جائے اور اس پر قابو پایا جاسکے۔ جبکہ اس حوالے سے اہم اقدامات کی تجویز اور عمل درآمد کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی حکمت عملی بھی سامنے لائی گئی۔

کمیونٹی لیڈرز اور میڈیا سے رجوع کیا گیا اور ان سے درخواست کی گئی کہ ایچ آئی وی کے حوالے سے رپورٹنگ انسانی اقدار کے مطابق اور ہمدردانہ انداز میں کی جائے۔ میڈیا کو تجویز دی گئی کہ وہ بیماری سے متعلق فرسودہ خیالات کی نفی کریں اور متاثرہ افراد کے نام، تصاویر اور طبی رپورٹ کی نشر واشاعت سے گریز کرتے ہوئے ان کی پرائیوسی کا خیال رکھیں۔ متاثرہ ڈاکٹر کی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ویڈیو کو ناگوار اور انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا گیا، اور اس کے ذمہ داروں کو متنبہ کیا گیا۔

جے آئی ٹی کے مقاصد میں حالیہ ایچ آئی وی پھوٹ کے پیچھے وبائی محرکات (آبادیاتی اور رسک عناصر، مشتبہ وائرس زدہ ماحول اور جنسی رویے) کی نشاندہی کرنا شامل ہے تا کہ ایچ آئی وی کی شدت اور اس کے محرکات کا اندازہ لگایا جاسکے، اس کے علاوہ ان جگہوں اور اضافی ذرائع کی تلاش بھی شامل ہے جہاں ممکنہ طور پر ایچ آئی وی دیگر لوگوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ پتہ لگانا بھی ہے کہ انفیکشن کے پھیلاؤ کی ابتدا کہاں سے ہوئی اور کس طرح یہ لوگوں میں پھیلتا گیا، ساتھ ہی ساتھ جے آئی ٹی مناسب اور مؤثر تجاویز پیش کرے گی تاکہ اس انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

رتودیرو کے تعلقہ ہسپتال میں زیادہ خطرے کی زد میں آبادیوں کے خون کا معائنہ کیا گیا۔ سندھ ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز کی جانب سے 4656 افراد کے گئے خون کے معائنے پر مبنی سروے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق محض 12 دنوں کے اندر ہی 186 افراد یعنی 3.9 فیصد میں ایچ آئی وی کی نشاندہی ہوئی۔ ان میں سے 108 (58.4 فیصد) مرد تھے، جبکہ 2 سے 5 برس کی عمر کے بچوں کی تعداد افسوس کے ساتھ 102 (54.8 فیصد) تھی۔ علاج معالجے کے مراکز دور دراز علاقوں میں واقع ہیں۔ غیر مجاز لیبارٹریوں، بلڈ بینکوں اور کلنکس کو بند کردیا گیا ہے، اور لوگ بیماری کے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی نشستوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ اسکریننگ (معائنہ) کیمپس کو قائم کیا گیا ہے، جو دیگر قصبوں اور شہروں میں دیگر چھپی ہوئی بیماریوں کا پتہ لگانے میں مدد دیں گے۔ یہ تمام عوامل تو محض اس مشکل صورتحال کے حوالے سے ایک معمولی اقدام کے برابر ہے۔سندھ میں شعبے صحت کی اس غضب ناک غفلت سے کئی اسباق سیکھتے جاسکتے ہیں۔

پہلا سبق، کسی بھی بیماری سے بچاؤ کا بہترین طریقہ اس کی وجوہات کی آگاہی دینا ہے۔ رجسٹر یا غیر رجسٹر شدہ شبعہ صحت سے وابستہ ملازمین کو صرف نفع خوری کی خاطر انجیکشنز اور ڈرپس دینے کے عمل کو ترک کرنا چاہیے، جبکہ مریضوں کو بھی غیر ضروری طور نوک دار آلہ جات کے استعمال سے مرتب ہونے والے ممکنہ سنگین اثرات کا فہم ہونا ضروری ہے۔ صحت حکام کو بلڈ بینکوں میں ہونے والی خون کے معائنے پر سخت نگرانی رکھنی ہوگی۔ لوگوں میں یہ آگاہی پھیلانے ہوگی کہ کس طرح غیر محفوظ جنسی سرگرمیاں جنسی طور پر انفیکشنز کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔

دوسرا سبق یہ کہ، کسی بھی بیماری کی تشخص ابتدائی دنوں میں ہوجانے سے علاج کے نتائج کافی بہتر برآمد ہوتے ہیں۔ بیماریوں سے جڑے فرسودہ خیالات، رازداری کی کمی، اور (جیسا کہ ہم نے مختلف تحقیقوں میں پایا ہے) غیر تجربہ کار ڈاکٹرز کی جانب سے بیماری کی ٹھیک طور پر تشخیص نہ ہوپانے کے باعث مرض کا علاج اور نتائج بدتر صورتحال اختیار کرجاتے ہیں۔

پاکستان کے زیادہ تر ’کاروباری‘ طبی کالجوں میں طبی نصاب میں آئی ڈی کا مضمون شامل نہیں ہوتا حالانکہ پاکستان میں یہ موضوع خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایچ آئی وی، اس کی تشخیص، بچاؤ اور اس سے جڑی دیگر بے تحاشا پیچیدگیاں بیماری کے ناقابلِ علاج مرحلے تک پہنچ جانے تک نظر انداز رہتی ہیں۔ آئی ڈی کی اسپیشلائزیشن میں کثیر تعداد میں مختلف کلنک بیماریوں کی اقسام اور انفکیشن کنٹرول کے حوالے سے تعلیم شامل ہوتی ہے۔ ایم ایم آئی ڈی ایس پی ایک مضبوط ادارہ ہے جس نے حالیہ لاڑکانہ میں مہلک بیماری کی پھوٹ کی صورتحال کو بہتر انداز میں نمٹنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ادارے کے ممبران آئی ڈی کے نصاب کو از سر نو تحریر اور وہ ڈاکٹرز جو کبھی بھی معلمانہ اور عملی تربیت حاصل نہیں کرسکے ہیں ان کی تربیت کے لیے صوبے میں کہیں بھی تعلیمی نشستوں کے انعقاد کی خاطر حکومت کی مدد کے لیے تیار ہیں۔

آخری بات یہ کہ، پورے پاکستان میں نکاس آب اور ٹھوس کچرے کے انتظامات، جو کہ پاکستان میں مسائلِ صحت کی اہم وجہ ہے، کو بہتر بنانے کی ذمہ داری مقامی بلدیاتی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ ہمیں آگ بجھانے کی جدوجہد کرنے سے زیادہ اس سے بچنا ہوگا۔ ہمارے لوگ امراض و تکلیف کے نہیں بلکہ بہتر صحت کے مستحق ہیں۔بشکریہ ڈان نیوز

یہ بھی دیکھیں

وفاق کی ڈکشنری میں گلگت بلتستان کی تلاش

(تحریر: لیاقت علی انجم) معروف دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے ایک …