منگل , 21 مئی 2019

امریکہ اور ایران کی جنگ ہوئی تو فاتح کون ہوگا ؟؟

( حسن عسکری ناز، ایڈووکیٹ)

امریکہ کاوتیرہ ایک تیر سے دو شکار ۔۔۔۔۔ مگر اس دفعہ ناکامی اسکی مقدر ۔۔۔۔۔۔۔ امریکہ کے ایران پر حملوں کی تیاری مکمل ہوئی ہے جبکہ ایران نے بھی تیاری انجام تک پہنچائی ہے ۔۔۔ ایک طرف سے دنیا اس جنگ سے امریکہ کی نیست ونابودی دیکھ رہی ہے اور دوسری طرف اسرائیل کا وجود ہمیشہ کےلئے ختم ہوتا نظر آرہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جنگ غزوۂ خیبر سے مماثلت رکھتی ہے ۔۔۔ ایران پہ حملے کی مخالفت کرنے والے ممالک میں سب سے پہلے انڈیا سامنے آرہا ہے کیوں کہ چابہار بندرگاہ سے جو مفادات بھارت حاصل کرنا چاہتا تھا اور بڑی مقدارتیل ایران سے خرید رہا تھا وہ سب مفادات بھارت کے چکنا چور ہوتے نظر آرہے ہیں اس لیے بھارت اس جنگ میں امریکہ کی حمایت نہیں کرسکتا ۔۔۔۔ دوسری طرف چین اور پاکستان امریکہ مخالف سمت میں کھڑےہیں ۔۔۔ کیونکہ ایران پر حملہ کرنے سے سی پیک کو روکنا آسان ہوگا، اسطرح چین اور پاکستان کا خواب مڈل ایسٹ کے تیل تک اور چینی تجارت کے مقاصد جس کےلئے سی پیک بنائی جارہی ہے شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔۔ دوسری طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان اور چین دونوں متاثر ہونگے جبکہ چین تیل کا بڑا ذخیرہ ایران سے حاصل کرتا ہے ۔۔۔۔ اس لیے چین اور پاکستان امریکہ مخالف اور ایران کی حمایت میں کھڑے ہیں ۔

دوسری طرف روس اور ایران کی دوستی پہلے سے مستحکم ہے اور اتحادی بھی ہیں ۔۔۔ شام میں ایران اور روس نے ملکر داعش کا مقابلہ کیا تھا ۔۔ اور اب روس کسی حالت میں دوبارہ مڈل ایسٹ میں امریکہ کے اثر رسوخ کا حامی نہیں ۔۔۔ اس لئے وہ ایران کے ساتھ کھڑا ہے ۔۔۔۔۔۔ ایشیا کی سپر ایٹمی طاقتیں امریکہ کے مقابلہ میں ایران کے ساتھ کھڑی ہیں جبکہ یورپی ممالک بھی امریکہ کی مخالفت میں کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے روس اور چین اس جنگ میں بذات خود شریک بھی ہوں ۔۔۔ ایران نے جنگی پالیسی مرتب کی ہے ۔۔۔۔ امریکہ کے پہلے حملے کے جواب میں ۔۔۔۔ حزب اللہ اور شامی افواج کے ذریعے ١٠٠٠ بلیسٹک میزاٸلوں سے چاروں اطراف اسراٸیلی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے ۔۔۔۔۔ جس سے اسرائیل کا نقشہ دنیا کے نقشے سے ختم ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف عراق اور یمن کے ذریعے سعودی عرب پر تیز ترین میزاٸل حملوں سے اسے جنگ میں مصروف رکھنا ہے ۔۔۔۔۔ تیسری پالیسی یہ ہے کہ آبناۓ حرمس جو کہ ایران کی سمندری حدود سے گذر تا ہے ۔۔۔۔ یورپ اور امریکہ کو تیل کی سپلائی بند کردینا ہے ۔۔۔ جس سے یورپ اور امریکہ میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنا شروع کردینگی ۔۔۔ چوتھی پالیسی یہ ہے کہ ایران میں حکومت مذہبی لیڈرز کی ہے ۔۔۔ اگر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای فتوی دے دیں تو پوری دنیا سے امریکہ کو بڑا ریکشن آسکتا ہے ۔۔ حتی کہ امریکہ کے اندر خود اندرونی سیکورٹی حالات پہ قابو کرنا مشکل ہوگا ۔۔۔۔۔۔ اور یہ جنگ امریکہ نے تنہا ہی لڑنی ہوگی اور نہایت مشکل ثابت ہوگی ۔۔۔۔۔ جبکہ ایران کے پاس ایسے ہتھیار ضرور پاٸے جاتے ہیں جن سے امریکی جنگی بیڑوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ پھر اس جنگ میں چین اور روس بھی میدان میں آسکتے ہیں ۔۔۔۔ جس سے امریکہ کو سوائے پیچھے ہٹنے کے کوٸی چارہ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ جنگ عظیم سوم ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔ اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ احمق امریکہ کو ایسی جنگ میں دھکیل رہا ہے جس سے امریکہ نہ صرف سپر پاور سے نیچے گر سکتا ہے بلکہ امریکی معیشت ہمیشہ کے لیے تباہ و برباد ہوسکتی ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

الاعیان من آل حسن علیہ السلام(1)

(تحریر: سید اسد عباس) امام حسن علیہ السلام خاندان نبوت و امامت کا پہلا چشم …