منگل , 21 مئی 2019

کیا امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کرے گا؟

1982’میں صابرہ اور شتیلا جو کہ لبنان میں موجود دو کیمپس تھے پر حملہ کیا گیا اور محض دو دن میں پانچ ہزار کے قریب بے گناہ نہتے مظلوم فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔ ویسے تو ان فلسطینیوں میں شیعہ سنی مسلمان شامل تھے مگر اکثریت شیعہ مسلمانوں کی تھی۔ ہر طرف خاک و خون میں لت پت لاشیں تھیں۔ مایوسی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ہر شخص ان مظلوم مسلمانوں کے مستقبل سے مایوس تھا کہ غیبی مدد آ پہنچی۔ عباس موسوی( رح) اور ان کے ساتھیوں نے ان خاک و خون میں غلطاں مسلمانوں کو آگ کی چنگاریوں اور خاک و خون سے اٹھایا اور ایک تنظیم حزب اللہ کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم کی مالی و عسکری مدد کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے ہاتھ بڑھائے اور اس تنظیم کو مضبوط کرنا شروع کیا۔ اس تنظیم نے صیہونی فوجی ٹارگٹس کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس گروپ کے مجاہدین نے صیہونیت کی ناک رگڑ دی۔

یہاں تک کہ ایک سترہ سالہ حزب اللہ کے سپاہی نے خود کش حملہ کر کے امریکہ کا ایک بحری بیڑا ڈبو دیا۔ ان مجاہدین کی کارروائیوں نے اسرائیل کو مجبور کر دیا کہ وہ سنہ 2001 میں اپنی فوجیں لبنان سے نکال لے۔ اسی دوران جرمنی نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ثالثی کروائی جس میں طے ہوا کہ حزب اللہ اسرائیلی فوجیوں کی باقیات واپس کرے گی اور اسرائیل حزب اللہ کے گرفتار فوجی رہا کرے گا۔ حزب اللہ نے حسب وعدہ باقیات جرمنی کے ائیرپورٹ پر بھیج دیں مگر اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سمیر قنطار سمیت حزب اللہ کے کچھ اہم کمانڈر رہا نہ کیے جس پر حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو وارننگ دی کہ اس وعدہ خلافی کا حساب اسرائیل کو دینا ہو گا۔ اسی دوران لبنان کا وزیراعظم رفیق حریری ایک حملے میں مارا گیا تو امریکہ اور اسرائیل نے یہ الزام لگایا کہ اس کے قتل میں شام کی فوج شامل ہے جو کہ عرصہ دراز سے لبنان میں قیام امن کے لیے معاون کا کردار ادا کر رہی تھی۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ حزب اللہ جسے ایران کے ساتھ شام کی حمایت بھی حاصل تھی کو اکیلا کر کے لبنان میں نشانہ بنایا جائے اور غیر مسلح کیا جائے۔

شامی فوج کو اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے ذریعے لبنان سے انخلاء کروایا گیا۔ شامی فوج کے انخلاء کے بعد امریکہ اور اسرائیل سمجھتے تھے کہ حزب اللہ ان کے لیے تر نوالہ ثابت ہو گی۔ سنہ 2006 میں حزب اللہ نے حسب وعدہ لبنان اسرائیل سرحد سے چند اسرائیلی فوجی اغواء کرلیے۔ اس پر اسرائیل نے جنگ کی دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔ حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو کہاکہ اگر وہ مارے گئے اسرائیلی فوجیوں کی باقیات اور گرفتار اسرائیلی فوجی واپس چاہتا ہے تو حزب اللہ کےکمانڈرز رہا کرے مگر اسرائیل نہ مانا اور اس نے لبنان پر حملہ کر دیا۔ مگر اس جنگ میں دنیا کی اول صف کی ائر فورس ہونے کے باوجود اسرائیل کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ حزب اللہ نے ایک دن میں دو دو سو راکٹ اسرائیل میں چلائے جس سے اسرائیل کے اندر بے چینی بڑھی اور صیہونیوں کو ملک کے اندر در بدر ہونا پڑا۔

آخرکار اسرائیل نے خود شروع کی ہوئی جنگ ختم کی اور دوسری مرتبہ معاہدہ کیا اور حزب اللہ کے کمانڈر رہا کیے۔ سید حسن نصر اللہ نے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ لبنان میں ہزیمت اٹھانے کے بعد اسرائیل اور اس کا ناجائز باپ شام کی طرف متوجہ ہوئے اور عرب اسپرنگ کے شوشے کا فائدہ اٹھا کر شام میں دہشتگردوں کے بڑے گروپ جیسے داعش اور النصرہ فرنٹ تخلیق کیے اور شام میں دہشتگردوں کے ذریعے حملہ کر دیا۔ شام میں بے چینی بڑھی اور سعودی عرب، ترکی، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اس سلسلہ میں اسرائیل اور امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا اور دہشتگردوں کی فنڈنگ اور شام میں برآمدگی شروع کر دی۔ پوری دنیا سے دہشتگردوں کو اکٹھا کر کے شام بھیجا گیا۔ شامی حکومت بری طرح شکست خوردہ تھی کہ سید حسن نصر اللہ نے حزب اللہ کو حکم دیا کہ شام کے دفاع کے لیے شام میں داخل ہوں۔ حزب اللہ نے یہ نئی ذمہ داری بھی احسن طریقے سے نبھائی اور دہشتگردوں کو شام میں عبرت ناک شکست دی۔

امریکہ اور اسرائیل سمجھتے تھے کہ شام میں اگر حکومت گرتی ہے تو اسرائیل دوست حکومت قائم کی جائے گی تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ مگر حزب اللہ نے شامی فوج کے ساتھ مل کر امریکہ اور اسرائیل کی ناک رگڑ دی اور ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ رہی سہی کسر روس کی جنگ میں شمولیت نے پوری کر دی اور امریکہ کو شام میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اب شام میں امن بحال ہو رہا ہے اور تقریباً پورا ملک دہشتگردوں سے آزاد ہو چکا ہے۔ داعش اپنے عروج کے دور میں عراق کے بھی ساٹھ فیصد حصہ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی مگر وہاں بھی حزب اللہ اور ایران کی مدد سے بننے والی عسکری تنظیم "حشد الشعبی” نے داعش کو عراق سے نکال باہر کیا تھا۔ اس طرح اسرائیل اور امریکہ ایران سے بالواسطہ جنگ میں لبنان، شام اور عراق میں شکست کھا چکےہیں۔اب شیطانی مثلث امریکہ، اسرائیل اور آل سعود یمن میں مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہے۔ مگر وہاں بھی 2015 سے مسلسل بمباری کے باوجود شیطانی مثلث بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ ایران سے بالواسطہ شکست کھانے کے بعد امریکہ اس سے بلا واسطہ جنگ کرنے کا سوچ رہا ہے۔

خلیج فارس جو کہ بین الاقوامی پانیوں پر مشتمل خطہ ہے میں امریکہ اپنے طیارہ بردار جہاز اور بمبار طیارے بھیج رہا ہے اور ایران کو دھمکا رہا ہے کہ اگر ایران نے امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ایران پر حملہ کر دیا جائے گا۔ یعنی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ کوئی شیطان بزرگ امریکہ سے پوچھے کہ کس قانون کے تحت بین الاقوامی پانیوں میں وہ اپنے طیارہ بردار جہاز اور طیارے بھیج رہا ہے۔ اس وقت خلیج فارس کے حالات ٹھیک نہیں ہیں مگر پاکستان کسی قسم کی تحرک وزارت خارجہ کے ذریعے نہیں کر رہا۔ اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو پاکستان اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے گا۔ اس چیز کے امکانات کم ہیں کہ امریکہ ایران پر حملہ کرے کیونکہ ایران مشرق وسطی کی ایک بڑی طاقت ہے اور وہ حملہ سہنے اور جواب میں حملہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر ان امکانات کو ٹرمپ جیسے غیر متوازن شخص کی موجودگی کی وجہ سے مکمل رد نہیں کیا جا سکتا۔ ایران پر حملہ پورے خطے کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیل دے گا۔ ایران اپنے وجود کے دفاع کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے نیز اسرائیل پر بلا واسطہ اور حزب اللہ کے ذریعے حملہ کر سکتا ہے جبکہ امریکہ اس وقت یورپ اور روس کی حمایت کے بغیر خلیج فارس میں فوجی نقل و حرکت کر رہا ہے اور جنگ میں اس کا نقصان ویت نام کی جنگ سے کہیں زیادہ ہونے کا ہے۔ اللہ ایران کو شیطانی مثلث امریکہ، اسرائیل اور آل سعود کے نجس عزائم سے محفوظ رکھے اور امریکہ اپنے ناجائز کاموں میں بری طرح ناکام اور نامراد ہو۔ آمین

یہ بھی دیکھیں

الاعیان من آل حسن علیہ السلام(1)

(تحریر: سید اسد عباس) امام حسن علیہ السلام خاندان نبوت و امامت کا پہلا چشم …