پیر , 15 جولائی 2019

سوڈان : فوج اور انقلابیوں کے درمیان سمجھوتے کا امکان

خرطوم (مانیٹرنگ ڈیسک)سوڈان کی عبوری فوجی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں تین سال کے لئے عبوری حکومت کے قیام پر مخالفین کے ساتھ اتفاق رائے ہوگیا ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق عبوری فوجی کونسل کے رکن جنرل یاسر العطا نے بتایا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر تین سال کے لیے عبوری حکومت کے قیام پر مخالفین کے ساتھ حتمی سمجھوتہ طے پا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا انتظام ایک عبوری کونسل چلائے گی جس کے دو تہائی ارکان کا تعلق آزادی اور تبدیلی اتحاد سے اور باقی ایک تہائی افراد ملک کی دوسری جماعتوں سے لیے جائیں گے۔حزب اختلاف کے ایک رہنما بھی کہا ہے کہ فریقین کے نظریات ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں اور عنقریب کسی سمجھوتے کا حصول ممکن ہوجائے گا ۔

سوڈان میں دسمبر دوہزار اٹھارہ میں شروع ہونے والے عوامی احتجاج کے بعد رواں برس گیارہ اپریل کو فوج نے صدر عمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔فوج نے ملک کا انتظام چلانے کے لیے عبوری فوجی کونسل تشکیل دی تھی جسے انقلابی قوتوں نے مسترد کرتے ہوئے سول عبوری کونسل کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکا میں برطانیہ کے سابق سفیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف نیا پنڈوراباکس کھول دیا

سابق برطانوی سفیر سر کم ڈاروچ کی لیک ہونے والی ای میل میں کہا گیا …