منگل , 21 مئی 2019

ایران عنقریب امریکہ سے مذاکرات کے لیے تیار ہو گا:ٹرمپ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران عنقریب امریکہ سے مذاکرات کے لیے تیار ہو گا۔ اپنے ایک ٹوئیٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کے حوالے سے ان کی انتظامیہ میں شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے تاہم کہا کہ کوئی بھی حتمی اور ٹھوس فیصلہ وہ خود ہی کریں گے۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر لکھا کہ” مجھے پورا یقین ہے کہ ایران عنقریب مذاکرات کی خواہش ظاہر کرے گا۔”خیالی پلاؤ پکانے میں ید طولا رکھنے والے امریکی صدر، اس سے پہلے بھی کئی بار یہ دعوی کر چکے ہیں کہ ایک وقت آئے گا جب ایرانی حکام نئے معاہدے کے لیے ان سے رابطہ کریں گے۔

مسٹر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے تانے بانے ایسے وقت میں بننا شروع کیے ہیں جب رہبر انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے منگل شام اعلی سول اور فوجی حکام کے ساتھ ملاقات میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے واضح طور پر فرمایا کہ ہر میدان میں دشمن کے مقابلے میں استقامت دکھانا، ایرانی عوام کا حتمی فیصلہ ہے کیونکہ موجودہ امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات زہر ہلاہل ہے۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمن اور ان میں سرفہرست امریکا یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ غیرمعمولی پابندیاں عائد کر کے ایران کو زک پہنچا سکتا ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا لوہا عوام اور حکام کے عزم و ہمت کی بدولت کافی مضبوط ہے۔ امریکہ نے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد سے ایران کے خلاف ہمہ گیر دباؤ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب فرانس کی وزارت خارجہ کی ترجمان آنیس ونڈر مول نے ایران کے خلاف امریکی دباؤ کو لاحاصل قرار دیا ہے۔ آنیس ونڈر مول کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ جان ایوے لیے دریان نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ پیرس سمجھتا ہے کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ اور سخت پابندیوں کی امریکی پالیسی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو گی۔

جامع ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی یک طرفہ علیحدگی اور تہران کے خلاف تمام پابندیاں دوبارہ عائد کیے جانے نیز یورپ کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی جانے والے غیر ضروری تاخیر کے بعد ایران کی اعلی سلامتی کونسل نے آٹھ مئی کو ایٹمی معاہدے پر جزوی عملدرآمد روکنے کا اعلان کیا تھا۔

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایٹمی معاہدے کے باقی ماندہ فریقوں، خاص طور سے برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اپنے وعدوں پر عمل نہ کیا تو ساٹھ روز کے بعد ایٹمی معاہدے کے مزید حصوں پر عملدرآمد روک دیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

بھارتی انتخابات: مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا امکان

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 7 …