بدھ , 14 اپریل 2021

حملے کی صورت میں کیا ایران اپنا دفاع کرسکتا ہے ؟

(کستنطین سیفکوف)

(روسی عسکری ماہراور میزائل اکیڈمی کے نائب سربراہ )

ایران کے پاس خطے میں سب سے بڑی اور مضبوط فوج ہے جس کی تعداد تقریباً 7لاکھ بنتی ہےجبکہ اس کے انقلابی گارڈز کی تعداد 3لاکھ کے قریب ہے جبکہ کئی ملین ریزیرو فورس بھی موجود ہے ۔رہی بات ایران کے پاس موجود دفاعی سازوسامان کی تو ان کے پاس مختلف اقسام کا اسلحہ روسی ،چینی ،فرانسیسی اور امریکی ساختہ ہے،ایران کے پاس جدید ترین اسلحہ میں ایس 300سسٹم ،طور سسٹم،اور پانسر سسٹم اور فائٹر طیارہ میگ 29بھی موجود ہے ۔

اس کے علاوہ ان کے پاس ایف 4جیسے طیارے بھی ہیں جنہیں نوے کی دہائی میں اپ گریڈ کیا گیا ہے اور یہ طیارے بڑے اعلی پیمانے کے ریڈار سے بھی لیس ہیں ،ایران کے پاس اینٹی ائرکرافٹ کا ایک اچھا مجموعہ ہے .جس چیز کی ایران کے پاس کمی ہے وہ نچلی سطح پر فائر ہونے والے میزائلوں کی رسد کرنے والے آلات ہیں جو کہ انتہائی پرانے اور امریکی بعض اقسام کے میزائلوں کی رسد نہیں کرسکتے ۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایران خطے میں کسی بھی قسم کے حملے کے مقابلے کے لئے بالکل تیار ہے خواہ وہ سعودیہ کی جانب سے ہو یا اسرائیل کی جانب سے ۔درمیانے درجے تک مار کرنے والے ایرانی میزائل انتہائی باریک نکتے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایران مشرق وسطیٰ کے کسی بھی حصے کو بڑی آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے ۔

ان میزائلوں کو شام کے بحران کے دوران آزمایا گیا ہے کہ یہ کس قدر اپنے ہدف کو درست نشانہ بناتے ہیں ۔اب ایک اس قسم کی مسلح فوج پر غلبہ پانے کے لئے ایک بہت بڑی فوج کی ضرورت پڑے گی اگر ہم امریکہ کی عراق پر چڑھائی کو پیش نظر رکھیں تو کہہ سکتے کہ امریکہ کو ایران کیخلاف ایک ایسا اتحاد تشکیل دینا پڑے گا کہ جس میں نیٹو کی زیادہ تر فوج شامل ہو،اسرائیل ،سعودی عرب اور مشرق وسطی کے ممالک کو شامل کرنا پڑے گا یوں کم ازکم دس لاکھ سے زیادہ فوج بنانی پڑے گی تو کم ازکم 500سے 700فائٹر طیارے ،اسی طرح کم از کم 2000 سے 3000 ٹام ہوک جیسے میزائل ۔۔۔

اب ایک اتنی بڑی فوج، اسلحہ اوردیگر سازوسامان کو حرکت دے کر جمع کرنے کے لئے بہت ذیادہ اخراجات اور قوت کی ضرورت پڑے گی اور اس کی تیاری میں کم ازکم ایک سال سے لیکر 15ماہ تک لگ سکتے ہیں لہذا ایران کیخلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی کا مفروضہ ایک مفروضہ ہی ہے ۔

میں یہ بھی کہہ دوں کی جو کچھ فجیرہ بندر گاہ کے حوالے سے کہا جارہا ہے تو اس قسم کے واقعات کے پیچھے زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس قسم کے بہانے تلاش کریں کہ جس کے سبب شام یمن اور ایران کے اندر فضائی حملوں کے زریعے سے کچھ اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں ۔

ایران کو اس قسم کی بھونڈی حرکتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہیں کہ وہ تیل سے خالی دو کشتیوں کیخلاف کچھ کرے ،یہ ایک بچگانہ عمل ہے کہ جس کے پیچھے وہ ممالک اور قوتیں ہوسکتی ہیں جو امریکہ کو ایران کیخلاف جنگ میں ڈالنا چاہتے ہیں جیسے سعودی عرب اور اسرائیل ۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …