جمعرات , 15 اپریل 2021

"صہیونی ریاست کا ظلم پر ظلم” شہید کےدیدار کےلیے بھی 1400 ڈالر!

فلسطینی شہریوں‌ کے خلاف صہیونی ریاست کے وحشیانہ مظالم کی بدترین شکلیں روزانہ سامنے آتی ہیں۔ صہیونی دشمن ایک طرف فلسطینیوں کو ماورائےعدالت وحشیانہ طریقے سے قتل کرتی ہے اور قتل کرنے کے بعد شہداٰء کے لواحقین کو بھی طرح طرح کی مصیبتوں اورآزمائشوں میں ڈالا جاتا ہے۔ نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ صہیونی فوج نے فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد ان کی لاشیں قبضے میں لینے کےبعد ان کے دیدار پر اہل خانہ کو بلیک میل کیاجاتا ہے۔ ان سے ہزاروں شیکل کی رقم طلب کی جاتی ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی فوج نے غرب اردن کے شہر قلقیلیہ کے سنیریا قصبے میں ایک فلسطینی نوجوان عمر یونس کو گولیاں مارکر شدید زخمی کر دیا۔ یہ واقعہ 20 اپریل کو پیش آیا۔ صہیونی فوجیوں‌نے عمر یونس کو تفوح یہودی کالونی کےقریب زعترہ چیک پوسٹ پر گولیاں‌ ماریں۔ صہیونی فوج نے دعویٰ کیا عمر یونس نےایک اسرائیلی فوجی پر چاقو سے حملے کی کوشش کی تھی جس پر اسے گولی ماری گئی، تاہم صہیونی اپنے اس بےبنیاد دعوے کو ثابت نہیں‌ کر سکے۔ عمر یونس گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گیا۔ وہ مسلسل بے ہوش رہا اور آخر کار جام شہادت نوش کر گیا۔

عبرانی اخبار’ہارٹز’ نے اپنی رپورٹ میں‌ بتایا ہے کہ شہید عمر یونس کے بھائی عبدالکریم یونس کو جب پتا چلا کہ صہیونی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہوگیا ہے۔ اس نے اپنے بھائی سے ملنے کے لیے تمام راستے اور حربے استعمال کیے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں سے مدد لینے کی کوشش کی گئی مگر صہیونی فوج نےعبدالکریم یونس کو اپنے شدید زخمی بھائی کو دیکھنے اور اس سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

آخر کارعبدالکریم یونس نےاسرائیل کی سیکیورٹی کمپنیوں کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اسرائیلی اخبار نے لکھا ہے کہ یہ حیران کن ہے کہ ایک سیکیورٹی کمپنی کی طرف سے اس شرط پر عبدالکریم کو اپنے بھائی سے ملنے کی اجازت دی کہ وہ 4900 شیکل کی رقم اور اس کے ساتھ ٹیکس بہ طورچالان جمع کرے۔ امریکی کرنسی میں‌یہ رقم 1400 ڈالر سے زیادہ ہے۔

غیراخلاقی طرز عمل
شہید فلسطینی کو دیکھنے کے لیے ان کے اہل خانہ بھاری رقوم کی ادائی کی شرط پر اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے حلقوں‌ کی طرف سے بھی بحث جاری ہے۔ اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیےکام کرنے والے ادارے کاکہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کو چاہیے تھا کہ وہ مقتول فلسطینی نوجوان کے بھائی اور والدہ کو اسپتال میں اسے دیکھنے کا موقع دیتے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے 1400 ڈالر کی بھاری رقوم طلب کرنا غیراخلاقی اقدام ہے۔

ادھر عبدالکریم یونس کا کہنا ہے کہ ایک تو اسرائیلی فوج نے اس کے بھائی کو شہید کیا اور اس کےجسد خاکی روک لیا ہے اور شہیدکے دیدوار کے لیے بھی پیسے مانگے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا یہ طرز عمل انتہائی شرمناک اور غیراخلاقی ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …