پیر , 12 اپریل 2021

تائیوان میں ہم جنس پرست اب آپس میں شادی کر سکتے ہیں

تائی پے(مانیٹرنگ ڈیسک) تائیوان کی پارلیمنٹ نے اس مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ہم جنس پرست افراد اب آپس میں شادیاں کر سکیں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس قانون سازی سے تائیوان براعظم ایشیا کا ایسا پہلا ملک بن گیا ہے، جہاں ہم جنس پرستوں کو قانونی شادی کا حق مل گیا ہے۔

حکومت کے پیش کردہ مسودے میں قدامت پسند اراکین آخری وقت پر تبدیلی چاہتے تھے لیکن ان کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ اس مسودے کو پارلیمانی اکثریت سے منظور کیا گیا۔اس قانون سازی کے بعد ہم جنس پرست افراد اپنی شادیوں کا اندراج سرکاری رجسٹریشن آفس میں بھی کروا سکیں گے۔ ایشیا میں اس سے قبل کسی بھی ملک میں ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت نہیں تھی ۔

یاد رہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں واقع مسلم اکثریتی ملک برونائی میں رواں سال اپریل میں نئے اسلامی قوانین کا اطلاق کیا گیا تھا، جس کے تحت ہم جنس پرستی کرنے اور بدفعلی کے مرتکب افراد کو سنگسار کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم اور دیگر ممالک نے شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کرنے کے بعد برونائی کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ اعلان کو واپس لیا جائے ، ابتدائی طور حکومت نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اسے اندرونی معاملہ قرار دیا تھا۔

بعد ازاں جنوب مشرقی ایشیاء کے ملک برونائی دارالسلام کے سلطان حسن البلقیہ نے عالمی سطح پر سخت تنقید کے بعد اعلان کیا ہے کہ ہم جنس پرستی اور زنا کے مرتکب افراد کو سنگسار نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

میزائل تجربے پر تنقید : شمالی کوریا نے اقوام متحدہ پر چڑھائی کردی

شمالی کوریا نے میزائل ٹیسٹ کے بعد پابندیوں کی تجویز پر اقوام متحدہ پر چڑھائی …