بدھ , 19 جون 2019

کیا امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کرنے جا رہا ہے؟

(جوناتھن مارکس)

کیا امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کی تیاری کر رہا ہے؟ دو طرح کے بیانیے چل رہے ہیں۔پہلا بیانیہ یہ ہے کہ ایران سے کسی بھلے کی توقع نہ کریں۔ امریکی جنگی تیاریاں ایران کی جانب سے خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات کے ردعمل میں ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ خطے میں امریکی مفادات کو ایرانی خطرے کا تو ذکر کرتی ہے لیکن ابھی تک کسی مخصوص خطرے کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی ہے۔ یہ بیانیہ ٹرمپ انتظامیہ کا پسندیدہ ہے۔

امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے طیارہ بردار بحری بیڑہ خلیج فارس روانہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ اس نے عراق میں ’غیر ضروری‘ سفارتی عملے کو عراق سے نکال لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ میں ایران کے ساتھ جنگ کے تیار شدہ پرانے منصوبے کی جھاڑ پونچھ کی جا رہی ہے۔

ایران کے لیے پیغام واضح ہے: ’اگر تم نے خود یا اپنے کسی حواری کے ذریعے امریکہ یا خطے میں اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا تو اس کا ردعمل فوجی ہو گا۔‘دوسرا بیانیہ یہ ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار صرف اور صرف امریکہ ہے۔نہ صرف ایران اس بیانیہ کو صحیح مانتا ہے بلکہ امریکہ میں صدر ٹرمپ کے مخالفین بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔

امریکہ کے یورپی اتحادی بھی اس بیانیہ کے کچھ حصوں کو صحیح مانتے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے ایران مخالف اہلکار اسے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایران مخالف امریکی اہلکاروں میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور وزیر خارجہ مائیک پومیو سب سے نمایاں ہیں۔

ایران مخالف امریکی اہلکار ایران میں اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ اگر ایران پر امریکی معاشی دباؤ کے باوجود ایران میں مذہبی طبقے کے اقتدار کا خاتمہ نہیں ہوتا تو یہ امریکی اہلکار ایران کے خلاف فوجی حملے کے امکان کو رد نہیں کرتے۔ان دونوں بیانیوں میں کچھ حقائق کی اپنے اپنے انداز میں تشریحات کی جاتی ہیں۔ کچھ حقائق بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور کچھ اپنا مقدمہ بنانے کے لیے کچھ حقائق کو مکمل طور نظر انداز کرتے ہیں۔

لیکن یہاں تصورات کی بھی اتنی ہی اہمیت ہےجتنی خود حقائق کی۔ یہاں تک کہ کئی مرتبہ تو تصورات حقیقت سے زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکہ اور ایران کے مابین تصادم کا امکان جتنا زیادہ آج ہے اتنا پہلے نہیں تھا۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی یقیناً بڑھ رہی ہے
ایران پر دوبارہ امریکی معاشی پابندیاں ایران کی معیشت کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والےجوہری معاہدے کے دوسرے فریقین کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر معاشی پابندیاں جاری رہیں تو وہ بھی جوہری معاہدے پر عمل درآمد ختم کرتے ہوئے یورینیم کی دوبارہ افزودگی شروع کر سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کے فریقین میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس، اور جرمنی ہیں۔ امریکہ ایک سال پہلے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے نکل چکا ہے۔

صدر ٹرمپ کا اقتدار میں آنا ایک اہم موڑ تھا۔ صدر ٹرمپ نے امریکہ کو جوہری معاہدے سے علیحدہ کر کے ایران پر مکمل معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ایران معاہدے کے دوسرے فریقین کو کہہ رہا ہے کہ وہ اس کی بیمار معیشت کی مدد کریں اور اگر نہیں کریں گے تو وہ بھی معاہدہ توڑ سکتا ہے۔

دوسرے فریقین ایران کی کیسے مدد کرسکتے ہیں؟ اگر انھوں نے کچھ کیا تو یہ صدرٹرمپ کو مزید متحرک کرے گا۔آگے چل کر صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے اس کا انحصارٹرمپ انتظامیہ کےاندر کے حالات پر ہے۔ اس کا انحصار اس پر بھی ہے کہ ایران اس صورتحال کا کیا تجزیہ کرتا ہے۔

امریکی صدر اپنی انتظامیہ میں پائے جانے والے اختلافات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے شوقین نہیں ہیں۔ عالمی جھگڑوں میں امریکی شمولیت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے خیالات سب کو معلوم ہیں۔لیکن اگر خطے میں امریکی افواج یا تنصیبات پر کوئی حملہ ہوتا ہے، تو پھر صدر جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔لیکن ضروری نہیں ہے کہ تہران بھی ساری صورتحال اسی زاویے سے دیکھ رہا ہو۔

ایران شاید یہ سوچے کہ وہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا کر امریکی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے ایران مخالف منصوبے کو بے نقاب کر سکتا ہے، جس سے صدر ٹرمپ سکیورٹی کے مشیر سے ناراض ہو جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو جان بولٹن ٹرمپ انتظامیہ کا حصہ نہیں رہ پائیں گے اس طرح ایران اپنے ایک دائمی دشمن سے جان چھڑانے میں کامیاب ہو جائے گا۔اگر موجودہ صورتحال کا ایرانی تجزیہ یہ ہی ہے تو یہ بہت خطرنات حکمت عملی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادی، اسرائیل اور سعودی عرب شاید تالیاں بجا رہے ہوں لیکن امریکہ کے یورپی اتحادی حالات سے خوش نہیں ہیں۔سپین، جرمنی اور ہالینڈ نے کشیدہ صورتحال کے پیش نظر خطے میں امریکہ کے ہمراہ اپنی فوجی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔

یہ ایسا وقت نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ امریکی جنگ کا عراق کے ساتھ 2003 میں امریکی جنگ کا موازنہ کیا جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ ایران صدام حسین کے عراق سے مختلف ہے۔

ایران پر زمینی یلغار بظاہر ہوتی نظر نہیں آتی ہے۔ ایران کے خلاف کارروائی فضا اور سمندر سے ہو گی جس پر ایران کا جواب یک سمتی نہیں ہو گا بلکہ اس کے کئی رخِ ہو سکتے ہیں جس سے پورا خطہ آگ کے شعلوں میں آ سکتا ہے۔جب صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالاتھا تو کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے امریکی خارجہ پالیسی کی تباہی کی پیشگوئی کی تھی۔

ایران کے ساتھ کشیدگی کی موجودہ صورتحال میں ماہرین کی پیشینگوئیوں کی کچھ شکلیں ہمارے سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں جو چیز واضح ہو رہی ہے وہ امریکہ کا عالمی معاہدوں کو نظر انداز کرنے کا رویہ، خطے میں موجود اتحادیوں پر حد سے زیادہ انحصار جو اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں اور نیٹو میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔

ایسے وقت میں روس ایک بار پھر حوصلہ پکڑ رہا ہے اور امریکہ چین کے ساتھ عالمی طاقت ہونے کا مقابلہ شروع کر چکا ہے۔ ایسے میں کیا امریکہ کو اپنی توانائیاں چین کی بجائے ایران پر صرف کرنی چاہیے؟کیا ایرانی خطرہ ایک بڑی جنگ کا متقاضی ہو سکتا ہے۔ کئی امریکی ماہرین کا جواب منفی میں ہے۔کئی ماہرین یہ مانتے ہیں کہ ایران کو امریکی مفادات پر حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کی دھمکیاں تو شاید ضروری ہوں، لیکن جنگ کے بگل بجانے کی ضرورت نہیں۔

کیا امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کرنے جا رہا ہے؟
لیکن ایک چیز واضح ہونی چاہیے کہ کوئی غیر ارادی طور پر جنگ کی طرف نہیں بڑھتا۔ اگر خلیج فارس میں کوئی مسلح تصادم شروع ہو جاتا ہے تو یہ امریکہ کے سوچے سمجھے اندازوں یا ایران کے غلط اندازوں کی وجہ سے ہو گا۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

سوشل میڈیا اور اسکے خطرات

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور فہیم انسان انہی …