بدھ , 19 جون 2019

پاک ایران تعلقات ،وقت کی ضرورت

(بقلم عبدالحسین آزاد) 

مملکت خداداد پاکستان جب 14اگست 1947ءکو دنیا کے نقشے میں ابھرا تو سب سے پہلے ایران نے پاکستان کے وجود مبارکہ کو تسلیم کیا اور پاکستان کا پہلا دورہ کرکے یہ پیغام دیا کہ پاکستان اور ایران دو اسلامی برادر ممالک ہیں ۔ان دونوں کے درمیان بہت کچھ مشترک ہے۔پاکستان اور ایران کی دوستی پاکستان بننے کے بعد کافی عرصے تک بہت ہی پر تکلف رہی ،یہی وجہ ہے کہ 1965ءمیں جب بھارت نے اپنے ناپاک عزائم کیساتھ راتوں رات پاکستان پر بزدلانہ حملہ کیا تب ایران نے پاکستان کی کھل کر مدد کیں اور اس جنگ میں تیل کے تمام اخراجات ایران نے برداشت کیا اور اپنے تمام ایئر پورٹس پاکستان کیلئے ہنگامی لیڈنگ کیلئے کھول دیا ۔اس کے اعلاوہ بھی ایران نے پاکستان کی ہر وقت سفارتی محاز پر مدد کی ،پاکستان سے جب 16ستمبر 1971ءکو بنگلہ دیش الگ ہوا اس وقت ایران کی حکومت کا بھر پور ساتھ پاکستان کے ساتھ رہا ،بنگلہ دیش کو اس وقت تک ایک آزاد ملک کی حیثیت سے ایران نے تسلیم نہیں کیا جب تک پاکستان نے خود بنگلہ دیش کوایک آزاد ملک تسلیم نہیں کیا ۔پاکستا ن اور ایران کے تعلقات اس وقت سے ٹھنڈے پڑنے شروع ہوئے جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا امام خمینی کی قیادت میں اس وقت پا کستان میں آ مر جنرل ضیاءا لحق کی حکومت تھی ، ایرا ن میں انقلاب کے بعد سعودی عرب اور ایرا ن کے تعلقات موافق نہ ہوئے ۔

جنرل ضیاء الحق نے ایران کو پس پشت ڈال کر سعودی عرب کی طرف تعلقات کا رخ موڑ دیا اور یہ تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی اور بد قسمتی سے وہ آج بھی چلی آرہی ہے ۔اگر چہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں قائدین پاکستان نے یہ واضح الفاظ میں رقم کیا ہے "دو اسلامی ممالک کے درمیان تضاد یا تناو ¿ کی صورت میں پاکستان کا کردرا ثالثی کا ہوگا ،پاکستان فریق بننے سے گریز کرے گا "مگر تاحال ہمارے حکمران اپنی ہی ملک کی خارجہ پالیسی پر عمل پیرا کرتے ہوئے دیکھائی نہیں دیتے ۔ایران اور پاکستان دونوں ممالک کودنیا کے مسلم ممالک میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے ۔اگر آج مغرب اور اسلام دشمن طاقتیں خوفزدہ ہیں تو انہیں دو اسلامی ممالک سے ،کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اور ایران کے اندر اسلام مخالف مہم کا دفاع کرنے کی بھر پور صلاحیت پائی جاتی ہے ۔وقت حاضر میں ایران اور پاکستان دونوں مغربی طاقتوں کے ظلم وستم کا شکار ہیں ،کہیں اقتصادی پابندیوں کی صورت میں تو کہیں معاشی اور تجارتی پابندیوں کی صورت میں ۔امریکہ اور اس کے ہمنواں ممالک کی یہ سخت پالسیز اسلامی ممالک کی ترقی کو روکنا ہے ،پاکستان امریکہ کا دوست اور شراکت دار ملک ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر ذرا نرم پالسیز ہیں اور ایسی پالیسز پاکستان پر عائد کی جاتی ہیں جس سے پاکستان کی معیشت نیم مردہ ہوچکی ہے ،نہ ترقی اور بہتری آسکتی ہے اور نہ ہی اس کو مکمل جمود کا شکار کیا جاتا ہے ،دراصل اس کی وجہ اپنے ناجائز مقاصد کا حصول ہے ۔بد قسمتی سے پاکستان کے نااہل ،نادان حکمرانوں نے روز اول سے ہی امریکہ کو ترجیح دی اور پاک افغان جنگ کا حصہ بن کر وہ کچھ کھویا جس کا اژالہ آج تک ممکن نہ ہوسکا اور آج بھی یہ ملک دہشتگردی کا شکار ہے ،جبکہ ایران نے اس جنگ سے خود کو دور رکھا اور افغان پناہ گزینوں کوپناہ دی مگر ان پر کڑی نگرانی کی ،کیونکہ ان کی دور اندیش قیادت جانتی تھی کہ یہ مستقبل میں امن کیلئے خطرہ ثابت ہونگے ،مگر پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کو پناہ تو دی مگر ان کو آزاد چھوڑدیا ،یوں اس ملک میں ہتھیاروں سے لے کر منشیات کی اسمگلنگ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ۔

خیر بات ہور رہی تھی پاک ایران تعلقات کی تو ایران ،چین کے بعد پاکستان کا وہ واحد ہمسائیہ ملک ہے جس کے ساتھ سرحدی تعلقات صیح ہیں ،مگر اب یہ پرا من نہیں رہے ۔پاکستانی حکومت کو ایران کے ساتھ تعلقات کو اولین ترجیح دینا چاہیے کیونکہ پاکستان کے دونوں ہمسائیہ ممالک افغانستان ا ور انڈیا پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے ،پاکستان کے تعلقات ان دونوں ممالک کے ساتھ کشیدہ ہیں اور بھاری فوج ان ممالک کی سرحدوں پر تعینا ت ہے پھر بھی رو ز بروز افسوسناک واقعات میں اضافہ ہوتا ہے تو ساتھ ہی ملک کے اندرونی حالات بھی ناگفتہ ہیں ،سرحدوں سے بچی کچھی فوج ملک کے اندرونی حالات کو سنبھالنے میں مصروف ہے ،ایسے میں پاکستان کو ایران کا احسان مند ہونا چاہیے کہ ایران کیساتھ 952کلو میٹر کی طویل سرحد پر فوج تعینا ت نہیں ہے ،ایک لمحے کیلئے رک جائیے اور سوچ لیں اگر اس سرحد میں بھی ہمیں آرمی کو تعینات کرنے کی ضرورت پیش آیئے تو پھر موجودانڈیا اور افغانستا ن کے ساتھ کشیدہ حالات کا سامنا کرنا مشکل ہوگا اور ملک کے اندرونی حالا ت کو بھی سنبھالنا مشکل ہوگا ،کیونکہ پھر فوج کی ایک بڑی کھیپ یہاں تعینات ہوگی جو کسی بھی طرح پاکستان کے حق میں مناسب نہیں ،حالیہ سرحدی کشید گی کا حل دنوں ممالک کے ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے نہیں ہوگا بلکہ اس میں مزاکرات ضروری ہیں اور موجودہ حکومت نے جو مذکرات کیے ہیں اور باڑ لگانے کا جو معاہد ہ طے پایا ہے وہ یقینا خوش آئین ہے ،کیونکہ افغانستان سے دہشتگرد اور بلوچ باغی گروپ اس کھلی سرحد کا نا جائز استعمال کرکے دونوں ممالک کے تعلقات میں دوری کا سبب بنتے ہیں ۔اس لئے باڑ لگانا ضروری ہے ۔باقی رہی بات پاکستان کی سرحد سے ایران پر حملے ہوئے ہیں ،ایران کے کئی فوجی نوجوان شہید بھی ہوئے اور کئی کو اغوا بھی کیا گیا ،اسی طرح ایران کی سرزمین کا استعمال کرکے بلوچ آزدی پسند گروپ پاکستان میں دہشتگردی پھیلاتے رہے ہیں ۔اس لیے دونوں ممالک الزامات کا سہارالینے کی بجائے بات چیت کا سہارا لیں ۔

حالیہ اوماڑہ میں جو افسوسناک واقعہ پیش آیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔لیکن اس واقعے کے بعد وزیر اعظم کے دورہ ایران سے ایک روز قبل ہمارے وزیر خارجہ کا افسوسناک بیان سامنے آیا کہ ایران سے دہشتگرد آیئے اور دہشتگردی کرکے چلے گئے ،راقم کو وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس نے حیرت زدہ کردیا جب کسی دوست ملک کا دورہ قریب ہو تو اچھے تعلقات کیلئے مثبت پیغام رسانی کی جاتی ہے مگر ہمارے وزیر خارجہ ،بین الااقوامی تعلقا ت کے آداب ہی بھولا بیٹھے ۔اس کی وجہ پس پردہ پریشر تھا ،کچھ ممالک کو تشویش تھی کہ پاکستان ایران کے درمیان کہیں میگا منصوبوں کے معاہدے نہ ہوں ۔ لہٰذا کچھ سازشی عناصر کو کبھی گوارا تھاہی نہیں کہ پاکستان اور ایران کی دوستی کو استحکام ملے ۔وزیر خارجہ نے کہ دیا کہ ایران کی سرزمین اوماڑہ واقعہ میں استعمال ہوئی ہے اور ایران سے دہشتگرد آیئے اورچلے گئے ۔پھر اگلے ہی روز بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی اختر مینگل نے اپنی تقریر میں کہا کہ اوماڑہ ایرانی باڈر سے 450کلو میٹر کی دوری پرواقعہ ہے ۔پھر اوماڑہ سے ایران تک جو سڑک ہے وہ کوسٹل ہائے وے کہلاتی ہے اوراوماڑہ سے ایران کے بارڈر تک تین شہروں سے گزرکر جانا پڑتا ہے اوماڑہ ،پسنی ،گوادر پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایران سے دہشتگرد آئیے اور حملہ کرکے بچ کر نکل گئے ،بلوچستان کے ان مقامات میں اور ایران کے بارڈر تک کم از کم 50چیک پوسٹیں بھی ہیں ،پھر یہ سکیورٹی اہلکار کیا کررہے تھے کہ دوسرے ملک سے دہشتگرد آئیں اور حملہ کرکے جائیں ان کو خبر بھی نہیں ۔وزیر خارجہ کو ایسے بے بنیاد بیانات سے گریز کرنا چاہیے ،یہ سفارتی اور بین الااقوامی تعلقات کیلئے سود مند ثابت نہیں ہونگے ۔پاک ایران تعلقات میں سنگ میل پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ثابت ہوسکتا ہے ،پاکستان کو چاہیے کہ اس منصوبے کو جاری کرے اور اپنے مفاد کو ترجیح دے ،ایران نے اپنے حصے کا کام پاکستان کی سرحد تک مکمل کرلیا ہے مگر بد قسمتی ہماری طرف سے کوئی پیش رفت نہ ہونا افسوسناک امر ہے ۔

عمران اگر اپنی خارجہ پالیسی پر عمل کریں تو اچھا ہے جو بطور وزیر اعظم قوم سے پہلے خطاب میں کہا تھا ،کسی دوسرے ملک کی دوستی کی خاطر اپنا نقصان کرنا دانشمندی نہیں ،پاکستان میں موجود گیس اور تیل کی قلت اور سستی گیس کا بہترین ذریعہ ہمارا منتظر ہے مگر ہم ہیں کہ سعودی ،امریکی ،اور قطری خوشنودی کیلئے قرضے لے کر تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں وہ بھی مہنگی ترین گیس ،مگر سستی گیس محض اس وجہ سے نہیں لیتے کہ آل سعود ناراض ہوگی اور امریکہ خفاہوگا۔پاکستان کو کم قیمت پر تیل برادر ملک سے دستیاب ہوگا ،مگر ہم تیار نہیں کیونکہ پریشر ہے ہمارے اوپر۔اگر ہم ایران سے تیل وگیس کے ذخائر لیتے تو آج ملک میں مہنگائی اور صنعتی ،اقتصادی اور تجارتی طوفان نہ آتا ۔پاکستان کے مشکل وقت میں امریکہ نے کبھی ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی امریکہ پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔ایران ،ترکی ،عراق ،شام ،روس، چین اوردیگر ممالک کا گٹھ جوڑ مضبوط ہے ایسے میں پاکستان کو امریکہ سے دوری کی صورت میں ان کیساتھ تعلقات کو ابھی سے ہی ہموار کرنا ہوگا ۔کیونکہ روس کے ایران کیساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور پاکستان ایران کے توسط سے روس سے روابط بڑھا سکتا ہے ۔دوستانہ تعلقات کیلئے دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے تعاون کرنانا گزیر ہے جو دونوں کے مفادات کا اہم حصہ ہے ۔پاک ایرا ن دوستی علاقائی ،امن ،تجارتی،اقتصادی،معاشی اور خوشحالی کا ذریعہ ہے ،اس کو ضائع نہ کیا جائے ۔بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

سوشل میڈیا اور اسکے خطرات

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور فہیم انسان انہی …