بدھ , 19 جون 2019

’’آئی ایس آئی ایس‘‘ کی اصل حقیقت کیا ہے؟

(سعد اختر)

بھارت، پاکستان کیلئے جو مذموم عزائم رکھتا ہے، وہ پہلے بھی چُھپے ہوئے نہیں تھے، لیکن اب وہ ان مذموم عزائم کو لئے کُھل کر سامنے آ رہا ہے۔ ’’را‘‘ تو اپنی جگہ سرگرم ہے ہی، اب بھارت نے ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ نامی دہشت گردم تنظیم کی بھی باقاعدہ سرپرستی اور فنڈنگ شروع کر دی ہے۔ ’’را‘‘ کا طریقۂ واردات یہ ہے کہ وہ ’آئی ایس آئی ایس‘‘ کے دہشت گردوں کو اغوا کر کے جنوبی ہندوستان میں لے جاتے ہیں اور ان کو خودکش دھماکوں کے ٹارگٹ دئیے جاتے ہیں۔ پاکستان کیلئے لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ دہشت گردی کرے تو الزام پاکستان پر آتاہے۔ ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ اسلامک سٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا‘‘کا مخفف ہے۔ جس کا کام ہی دیگر دہشت گرد تنظیموں کی طرح مختلف ملکوں اور ریاستوں میں دہشت گردی جیسے عفریت کو فروغ دینا ہے۔

اگرچہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ بھی کچھ کم نہیں لیکن بھارت نے ضروری سمجھا کہ ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ سے بھی دہشت گردی کا کام لیا جائے۔ اس تنظیم کے ساتھ اگرچہ غیر مسلم کم ہیں اور مسلم ممبران کی تعداد زیادہ ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ دہشت گردکا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ وہ کسی بھی مسلک اور ایشو کو بنیاد بنا کر کہیں بھی کچھ بھی کر سکتا ہے اس لیے یہ سوال بے معنی ہو جاتا ہے کہ ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ یعنی اسلامک سٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا‘‘ نامی یہ تنظیم کسی مسلمان ملک میں کچھ نہیں کر سکتی۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اسکے ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ ’’را‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ نامی یہ تنظیم اب پٖاکستان میں بھی سرگرم ہے اور کسی نہ کسی طرح تخریبی سرگرمیوں میں ملوث پائی گئی ہے۔بڑے عرصے سے پاکستان میں دہشت گردی جیسی کارروائیوں کو نہ صرف ’’بریک‘‘ لگا ہوا تھا بلکہ یہ بھی محسوس ہوتا تھا کہ شاید ہم اُن فورسز کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو کسی نہ کسی طرح پاکستان کے طول و عرض میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ مگر حال ہی میں بلوچستان ، کوئٹہ اور داتا دربار لاہور میں دہشتگردی کے جو واقعات ہوئے انہوں نے ایک بار پھر ہمیں سنجیدگی کے ساتھ یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ شاید ہمیں ان تنظیموں کے خلاف بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ان دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ کون کرتا ہے؟ یہ کوئی ڈھکا چھپا سوال نہیں رہا۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ان تنظیموں کیلئے بھارتی فنڈنگ اور اثر و رسوخ کو کیسے روکا یا کم کیا جا سکتا ہے۔ یقینا اس کیلئے ہمارے انٹیلی جنس اداروں کا اہم اور بنیادی رول ہو گا۔ پاکستان میں ایسے بدخواہوں کا سراغ لگانا ہو گا جو پاکستان کی سلامتی کے بجائے اسکی بربادی کا سوچتے ہیں۔ دہشت گردوں کے بیشتر نیٹ ورک تو ہماری خفیہ ایجنسیوں کے تعاون سے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں لیکن دہشت گردوں کے جو نئے نیٹ ورک وجود میں آ رہے ہیں ، اب اُنکے خاتمے اور سدِباب کی ضرورت ہے۔ ہماری انٹیلی جنس جتنی زیادہ متحرک اور فعال ہو گی نتائج بھی اتنے اچھے آئیں گے۔ دنیا آئی ٹی میں بہت آگے نکل چکی ہے۔ سائنس نے وہ ایجادات کر لی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں نے ایسی ٹیکنالوجی دریافت کر لی ہے کہ جس کے ذریعے فیوچر میں ہونیوالے ان گنت واقعات اور سانحات کا سراغ لگایا جا سکتا ہے اور ملک کے اندر قبل از وقت اہم معلوما ت دستیاب ہو سکتی ہیں۔ کہاں، کیا ہو رہا ہے؟ کونسی سرگرمی کہاں جاری ہے، اُسکی نوعیت کس قسم کی ہے؟ سب کچھ مخصوص سائنسی آلات کے ذریعے مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔ ایسی ٹیکنالوجی امریکہ، روس اور چین کے پاس ہے۔ بعض دیگر ممالک میں بھی اس جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور یہ ٹیکنالوجی اب اُن تک پہنچ چکی ہے۔

اگرچہ یہ ٹیکنالوجی بہت مہنگی ہے لیکن ملکی سلامتی کے آگے قیمت کی اہمیت نہیں ہونی چاہیے۔ جن ملکوں کے پاس یہ ٹیکنالوجی موجود ہے وہاں سے ہمیں ماہرین کے ساتھ امپورٹ کر لینی چاہیے۔رہا بھارت کا سوال… تو ہم کچھ بھی کر لیںاچھی دوستی کے تمام طریقے آزما لیں لیکن متعصب بھارت وہی کرے گا جو اُس کے دماغ میں ہے۔ جب سے نریندر مودی کی جماعت بی جے پی برسراقتدار آئی ہے بھارت کا اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ سلوک مزید سنگین ہو گیا ہے۔ یہ سال بھارت میں الیکشن کا سال ہے۔ کئی ریاستوں میں برسراقتدار بی جے پی کو ہزیمت اور شکست کا سامناہے۔ امید یہی ہونی چاہیے کہ مودی سرکار دوبارہ برسراقتدار نہ آئے۔ پاکستان جو ہمیشہ دہشت گردی کی زد میں رہا، اب سری لنکا کو بھی اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سری لنکا میں جو دہشت گردی ہوئی اُس نے یہ خدشا ت لاحق کر دئیے ہیں کہ کہیں بھارت اس کا سارا الزام پاکستان سے منسوب نہ کر دے۔ بھارت کی جانب سے ’’ آئی ایس آئی ایس‘‘کو دہشت گردی کے واقعات کیلئے ناصرف مکمل سپورٹ حاصل ہے بلکہ اُسکی فنڈنگ بھی ہو رہی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے علاوہ سری لنکا میں بھی یہی تنظیم تخریبی کارروائیاں کرتی ہے اور دونوں ملکوں میں دہشت گردی کیلئے پوری طرح سرگرم ہے۔ سری لنکا میں جو تخریبی کارروائیاں ہوتی ہیں بھارت کی کوشش ہے کہ ناصر ف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اُس کا تعلق پاکستان سے جوڑ دے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہو اور اُسے ایک دہشت گرد ملک قرار دیا جا سکے۔ پاکستان کو اس بھارتی کوشش سے پوری طرح باخبر رہنا ہو گا۔ متعصب نریندر مودی بھارت کے فائدے کیلئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اصول اور وضع داری جیسی صفات سے عاری مودی یقینا ًاس خطے کے لوگوں کیلئے ایک بہت بڑا ناسور ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سوشل میڈیا اور اسکے خطرات

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور فہیم انسان انہی …