جمعرات , 27 جون 2019

امریکہ کا غیر قانونی رویہ عالمی آزمائش

(مہدی ہنر دوست)

اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پرترقی اورعلاقائی خوشحالی کے لئے تعاون اسلامی جمہوریہ ایران کی ترجیحات میں سرفہرست ہے‘ ایٹمی ایندھن کی پیداوار پر مکمل دسترس ایران کی وہ مایہ ناز کامیابی ہے جو کسی غیرکے سامنے ہاتھ پھیلائے بغیر‘ ایرانی جوانوں اورسائنسدانوں کی صلاحیتوں سے حاصل ہوئی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو دوسروں کو دھمکانے اور اسلحہ بنانے کے لئے استعمال نہیں کیاگیاکیونکہ یہ بات اسلامی افکار سے ماخوذ نظریاتی اصولوں اور ایران کے سپریم لیڈر کے اجتماعی قتل عام کے ہتھیاروں کی حرمت کے خلاف ہے۔

اس کے باوصف اسلامی جمہوریہ ایران نے خلوص نیت اور بین الاقوامی اقدارکااحترام کرتے ہوئے سفارتکاری اورمذاکرات کے ذریعے رضاکارانہ طورپرایسا معاہدہ قبول کیاہے جس کی روسے ایٹمی ٹیکنالوجی کے استعمال کو کم کرنے پر پابندیاں ہٹانے اور سیاسی معاشی دباؤ کوکم سے کم سطح پرلانا تھا۔ ایٹمی معاہدہ تفصیلی اورمعتدل تھا۔ جو کئی سال پیچیدہ سفارت کاری اورمذاکرات کے نتیجے میں کیاگیا۔ لیکن ایک سال پہلے امریکی صدر نے معاہدے کی قانونی اورسیاسی اہمیت کونظر انداز کرتے ہوئے یکطرفہ طورپر خود کو اس سے الگ کرلیا۔ یہ امریکی قدم بین الاقوامی براداری کی ان تمام امیدوںپرپانی پھیرنے کے مترادف تھا جو مذاکرات‘ حکومتوں کے عالمی اختلافات کو مفاہمت اورپرامن سیاسی طریقہ سے حل کرنے کے نظریہ سے وابستہ تھیں( اقوام متحدہ کے منشور کاچھٹا باب)۔

ریاست ہائے متحدہ کی بین الاقوامی معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی‘ جوکہ تقریباً دس سالہ مذاکرات کے نتیجہ میں ہوا تھا‘ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی اور توہین ہے‘ اس سے دنیا میں خود مختار اقوام کے ذہنوں میں کیاتاثر پیدا ہوسکتاہے؟۔

ایران پرامریکہ کی پابندیوں اوردباؤ میں ضافے اورمعاہدے کے دوسرے فریقوں کی طرف سے کیے گئے وعدوں کے عدم نفاذ کے بعد ایران کی طرف سے معاہدے پر نظرثانی اوراس کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کمی کافیصلہ ایک متفقہ قومی فیصلہ تھا جسے حکومت ایران نے اپنے سامنے پایا۔ یہ فیصلہ کسی ایک جماعت یا طبقے کانہیں تھا۔ جیسا کہ حکومت ایران نے بھرپورعوامی حمایت سے ایٹمی مذاکرات کاآغاز کیااورمغربی فریقوں کی پابندیاں ختم کرنے کی ضمانت پر اپنی ایٹمی تنصیبات اورسرگرمیوں کاقابل لحاظ حصہ بند کردیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے معاہدہ پر دستخط کے بعد، معاہدہ اور آئی اے ای آئی(IAEA)کے انسپکشن قوانین کے عین مطابق عمل کیا اورمعاہدہ کی روح کے مطابق اس پر عمل پیرا ہوکر اسے ثابت کیا۔ ایران نے اپنی ذمہ داریوں میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کی ہے‘ لیکن امریکہ نے بین الاقوامی حقوق کوپامال کیا اور یکطرفہ طورپر اس معاہدے سے الگ ہوا بلکہ یکطرفہ طورپر غیرقانونی پابندیوں کااعادہ کرکے اس بارے مذاکرات کے کسی قسم کے امکان کوبالکل ختم کردیاہے۔ امریکہ کے اس طرح کے برتاؤ کے خلاف عالمی برادری کی خاموشی سے آج یہ یکطرفہ رویہ ایک ایسے طریقہ کارمیںتبدیل ہورہا ہے جوکہ بین الاقوامی امن اورسلامتی کے لئے بہت زیادہ خطرناک ہے۔

امریکہ ایٹمی معاہدے کے خاتمہ اورسلامتی کونسل کی قرارداد نمبر2231کی کھلی خلاف ورزی کے لئے انتہائی دباؤ کے طریقوں پر اصرار کرتاہے۔ اگر یہ بدخواہ پالیسی اسی طرح جاری رہی تو خطہ اور اس سے بڑھ کر‘ دنیا کی سلامتی‘امن اوراستحکام کونقصان پہنچائے گی‘ دنیا کے خود مختار ممالک کی اس طرح کے رویے پرخاموشی اورتصدیق یقینی طورپر انسانی معاشرہ کے اجتماعی نقصان کاباعث ہوگی‘جوکہ پہلے سے کہیں زیادہ اس بات کا متقاضی ہے کہ خانہ جنگی‘ بھوک‘غربت‘ دہشت گردی‘ انتہا پسندی‘ مہاجرین کے بحران‘ شناخت کے بحران‘ ناخواندگی‘ نسل پرستی‘ اسلام فوبیا‘ معاشرتی فاصلوں‘زندگی کے مسائل‘ عالمی ٹمپریچر‘ اسلحے کی دوڑ اورخطرناک عالمی جنگوں کے وقوع کے امکانات جیسے بڑے مسائل کے حل کے لئے‘ پہلے سے زیادہ تعامل اورتعاون کیاجائے۔

امریکی بحری بیڑے کی خلیج فارس میںموجودگی کوئی نئی بات نہیں ہے‘ بلکہ کئی دہائیوں سے امریکہ جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ دنیا کے اس کونے سے آکر اپنے بحری بیڑے کوخلیج فارس میں ٹھہراتاہے اوراسلامی جمہوریہ ایران کو دھمکاتا ہے‘ کیا اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی بھی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بارڈر کے قریب کوئی فوجی چھاؤنی قائم کی ہے؟اب یہ سوال ہونا چاہئے کہ جنگ کاطبل کون بجارہاہے؟ کون کسے دھمکا رہا ہے؟ اسلامی جمہوریہ ایران کی سرحدوں کے آس پاس امریکی چھاؤنیوں اورفوج کے ڈھیرلگے ہیں‘ کیایہ واضح طورپر دخل اندازی اوربدمعاشی نہیں ہے؟۔
خلیج فارس بھی یقینی طورپرامن اوردوستی کی آغوش ہوسکتی ہے اس کے اطراف میں بسنے والے خود مختار ممالک‘ علاقائی تعاون کے زیرسایہ خلیج فارس میںامن وامان کے قیام کی بھرپور صلاحیتوں سے بہرہ مند ہیں۔

اب دنیا کے خود مختار اورآزاد منش ممالک کی رائے عامہ کوبڑا سنجیدہ امتحان درپیش ہے‘ امریکہ کے یکطرفہ اورخطرناک رویہ کاعالمی برادری کیا جواب دیتی ہے‘ حتیٰ کہ اگر اس رویہ کاخاموشی کے سواکوئی جواب بھی نہ دیاجائے‘ تب بھی اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ کی طرح‘ اسلام کے نظریاتی اصولوں اورمالامال ثقافت کے بل بوتے پر‘ مزاحمت کاراستہ ہی اپنائے گا اورآزاد ایران کی مایہ ناز تاریخ میں ایک اورباب کا اضافہ کرے گا۔

یہ بھی دیکھیں

بحرین کانفرنس میں فلسطینیوں کی نمائندگی کرنے والے غداران وطن!

آج 25 جون کو خلیجی ریاست بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکا کی دعوت پر …