منگل , 17 ستمبر 2019

صدی کا سودا، صہیونی سو (100) دا

(تحریر: ثاقب اکبر)

2017ء سے صدی کا سودا (Deal of the Century) کے تذکرے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک یہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا حتمی اور جدید حل ہے۔ ہم اسے صدی کا سودا کے بجائے صہیونی سو (100) دائو پر مشتمل ایک پُر فریب جال خیال کرتے ہیں۔ اس ڈیل کے نقوش اور خطوط وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ہماری رائے ہے کہ اس کا نقطۂ آغاز مئی 2017ء میں منعقد ہونے والی ریاض میں اسلامی کانفرنس تھی، جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرمائی۔ وہاں شاہ و سلطان، ملوک و شیوخ، صدور و وزراء جناب ڈونلڈ ٹرمپ کے حضور کورنش بجا لا رہے تھے، تلواریں تھام کر رقص ہو رہا تھا، زریں اور گراں بہا تحائف کی بارش جاری تھی۔ نئے سے نئے سینکڑوں ارب ڈالر پر مشتمل سودوں پر دستخط کیے جا رہے تھے۔ صدر ٹرمپ ایک ادائے دلربایانہ سے سارے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جام سے جام ٹکراتے تھے اور ساتھ ہی امریکی صدر اپنے اسلحے کے خوبصورت ہونے کا ذکر بھی کیے جا رہے تھے۔ وہ بالکل مدہوش نہ تھے، پوری طرح ہوش میں تھے اور اسلحہ بیچنے کے لیے طرح طرح کی ادائیں دکھا رہے تھے۔

اس کے بعد وہ ریاض سے اسرائیل پہنچے، یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ سعودی عرب سے کوئی فلائٹ سیدھا اسرائیل جا پہنچی، لیکن دور بدل رہا تھا، نئی سینچری کی نئی ڈیلیں ہو رہی تھیں۔ صدر ٹرمپ ان دنوں اسرائیل پہنچے جب مظلوم فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے محروم کرکے 69 برس پہلے اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اُس وقت یہ کردار برطانیہ نے نبھایا تھا، جس کے سامراجی نقشوں کو نئی آدرشوں سے سجا کر امریکا ان پر عمل پیرا ہے اور انہیں آگے بڑھانے کی کوششوں کی سربراہی کر رہا ہے۔ اُس وقت فلسطینی یوم نکبہ منا رہے تھے، وہی یوم نکبہ جو ان کی دربدری کی یاد دلاتا ہے، ان کی مظلومیت کا قصہ دہراتا ہے اور اپنے گھروں میں واپسی کے لیے اُن کی امنگوں کو تازہ کرتا ہے۔ اس موقع پر امریکی صدر نے ایک ایسی بات کہہ دی جسے عالمی سیاست میں تعجب سے سنا گیا اور شاید بہت سے لوگوں کے لیے یہ کوئی انہونی تھی، کیونکہ ساری دنیا سے اُس کے خلاف ردعمل سامنے آیا۔ بات یہ تھی کہ ابھی تک اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر عالمی ادارے مسئلہ فلسطین کے لیے جس ’’حل‘‘ کو قبول کیے ہوئے تھے، وہ دو ریاستی حل تھا۔ اسرائیل میں کھڑے ہو کر پہلی دفعہ ایک امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایک ریاستی حل پر بھی غور کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک ریاستی حل کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل رہے گا، فلسطین نہیں رہے گا۔

اُس کے بعد امریکا کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ وہ اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دے گا۔ پھر دسمبر 2017ء میں امریکا نے پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود یہ کام کر دکھایا۔ یہ سب اقدامات صدی کے سودے پر عملدرآمد کی پیش رفت کو ظاہر کر رہے تھے۔ حال ہی میں امریکا کی طرف سے جولان ہائیٹس جو شام کا قانونی حصہ ہیں، کو اسرائیل کا علاقہ قبول کر لیا گیا ہے، اسے بھی ڈیل آف دی سینچری کا حصہ سمجھا جانا چاہیئے۔ صدی کے سودے کی جو دیگر شقیں سامنے آئی ہیں، اُن کے مطابق بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت اور اس کے مشرق میں موجود شہر ’’ابو دیس‘‘ کو فلسطین کا نیا دارالحکومت بنایا جانا ہے۔ فلسطینی ’’ریاست‘‘ کو مغربی کنارے کا کچھ حصہ دیا جائے گا اور غزہ کی پٹی بھی اس فلسطین کا حصہ قرار پائے گی۔ یاد رہے کہ مغربی کنارے اور غزہ کی سرحدیں آپس میں نہیں ملتیں۔ اس کے لیے صرف ایک راستہ دیا جائے گا، جس کی نگرانی اسرائیل کرے گا۔

فلسطین کی اپنی کوئی فوج نہیں ہوگی اور فلسطین کی ’’سکیورٹی کی ذمہ دار‘‘ اسرائیلی فوج ہوگی۔ فلسطین کی پولیس کو چھوٹے ہتھیار رکھنے کی اجازت ہوگی، یہ ہتھیار بھی اسرائیل کی اجازت سے ہی رکھے جا سکیں گے۔ حماس، جہاد اسلامی جیسے گروہ اپنا تمام تر اسلحہ سودا کروانے والوں کے سامنے رکھ دیں گے۔ درۂ اردن اسرائیل کی حاکمیت میں آجائے گا۔ مشرقی بیت المقدس کے عرب محلے جن میں قدیمی شہر شامل نہیں ہیں، فلسطینی حکومت کے حوالے ہوں گے، اصل بیت المقدس جس میں الاقصیٰ بھی شامل ہے، اسرائیلی دارالحکومت کا حصہ قرار پائے گا۔ اس نئی ڈیل میں دربدر فلسطینیوں کی واپسی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ علاوہ ازیں وہ ناجائز بستیاں جو عرب سرزمینوں پر اسرائیل نے بیرونی ممالک سے آنے والے یہودیوں کے لیے بنائی ہیں، اس ڈیل کے مطابق وہ جائز قرار پا جائیں گی اور اسرائیل کا ’’قانونی‘‘ حصہ ہو جائیں گی۔

اسرائیل جسے ابھی تک اقوام متحدہ نے غیر نسلی اور جمہوری ملک کا عنوان دے رکھا ہے، صدی کے سودے میں اسے ایک یہودی ریاست کے طور پر قبول کر لیا جائے گا۔ ڈیل کے مطابق صحرائے سینا جو فلسطین کا نہیں ہے بلکہ مصر کی مملکت کا حصہ ہے، کے ایک علاقے میں فلسطینیوں کو منتقل کیا جائے گا۔ اس طرح وہ اپنے آباء کی سرزمین سے نکل کر وہاں آباد کاری شروع کریں گے۔ منصوبے کے مطابق جب محمود عباس یا ان کی جگہ ان جیسا فلسطینی نمائندہ اس ڈیل پر دستخط کر دے گا تو ساتھ ہی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، مصر اور ان سے ہم آہنگ دیگر عرب ممالک اس منصوبے کی تائید کر دیں گے، یوں اسرائیل کو کھلے بندوں ایک جائز ریاست تسلیم کر لیا جائے گا۔ اس ڈیل کے مطابق ابھرنے والے فلسطین کو جدید فلسطین کا نام دیا جائے گا، جو القدس سے محروم ہوگا۔ یاد رہے کہ اس ڈیل کو قبول کرنے کے لیے سعودی عرب کی طرف سے محمود عباس کو دس ارب ڈالر کی پیشکش کی جا چکی ہے۔

اس ڈیل کے راستے میں فلسطین کے اندر نئی قوت پکڑتی ہوئی اپنے گھروں کو واپسی کی عظیم تحریک حائل ہے، جو اسرائیل کے لیے خواب شکن تحریک بن کر سامنے آئی ہے۔ دوسری بڑی رکاوٹ حماس کی راکٹ اور میزائل کی قوت ہے، اس کے مقابلے میں اسرائیل کئی مرتبہ جنگ بندی کے لیے درخواست کرنے پر مجبور ہوچکا ہے۔ تیسری بڑی رکاوٹ لبنان میں موجود حزب اللہ ہے، جو پہلے ہی اسرائیل کو کئی محاذوں پر شکست دے کر سرخرو ہوچکی ہے۔ چوتھی بڑی رکاوٹ شام کی موجودہ حکومت ہے، جسے ہٹانے کے لیے امریکا اور اس کے حواریوں نے سات برس تک سر پٹخے ہیں، لیکن انھیں نامرادی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ اسرائیل کے ارد گرد عرب ممالک میں شام وہ واحد ملک ہے، جس نے اسرائیل کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے اور اسے تسلیم نہیں کیا بلکہ آج تک وہ فلسطین کی آزادی کی تحریکوں کا سرپرست رہا ہے۔

مستقبل میں عراق میں طاقت پکڑتی ہوئی مزاحمت کی تحریکیں بھی اس بڑے مزاحمتی محاذ کا حصہ بن سکتی ہیں، جو اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھتی ہیں۔ شاید امریکا اور اسرائیل کی نظر میں ان تمام مزاحمتی تحریکوں کا سرگروہ اور انہیں نظریاتی اور عملی مدد فراہم کرنے والا ایران ہے، جس میں آج سے 40 برس قبل برپا ہونے والے اسلامی انقلاب کے بعد جو پہلے پہلے کام کیے گئے، ان میں سے ایک اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرکے اس کے سفارت خانے کی عمارت کو یاسر عرفات مرحوم کی الفتح کے سپرد کرنا شامل تھا اور جس کے نزدیک خطے اور عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ فلسطین کی آزادی ہے، جو اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھتا ہے اور دنیا کے امن و سلامتی کے لیے اسرائیل کا خاتمہ ناگزیر قرار دیتا ہے۔ شاید اس کی خارجہ پالیسی کا یہ کارنر سٹون ہے، اسی لیے ان دنوں امریکا اس کے خلاف تاریخ کی بدترین اور ظالمانہ ترین اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد فوجی محاصرہ کیے ہوئے ہے۔

امریکا کے ماضی کے فوجی اور اقتصادی اقدامات کو سامنے رکھا جائے اور دوسری طرف ایران کی استقامت کی چالیس سالہ تاریخ پر نظر کی جائے تو نتیجہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ آخر کار دس ہزار کلو میٹر سے زیادہ فاصلہ سے اس خطے میں آکر دھونس جمانے والوں کی شکست ہوگی۔ امریکا، برطانیہ اور اس کے اس علاقے میں موجود حواری شاہ و سلطان گذشتہ چار برس سے اگر انتہائی غریب و فقیر اور نہایت کمزور ملک یمن کو شکست نہیں دے سکے تو ایران کے خلاف وہ کیا کرسکتے ہیں؟ شاید یہی وجہ ہے کہ ان دنوں امریکی صدر ایران سے مذاکرات کے لیے مضطرب دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران ہے کہ اس نے بڑے وقار سے امریکی طاغوت کی مذاکرات کی پیشکش کو جھٹک دیا ہے۔ بحری بیڑے، فوجی اڈے، جدید ترین جنگی جہاز علاقے میں اکٹھے کرکے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ ہم ایران سے جنگ نہیں چاہتے اور اپنی ہی حکومت کے ان عہدے داروں کو ڈانٹ پلا رہے ہیں، جو ایران سے جنگ کی باتیں زیادہ بلند آواز سے کرنے لگے تھے۔ ایسے میں صدی کے سودے کا کیا ہوگا، صہیونی سو 100 دائو کس نتیجے تک پہنچیں گے، وہی نتیجہ جو قرآن حکیم نے پہلے ہی بیان کر رکھا ہے: مکروا و مکراللّٰہ واللّٰہ خیر الماکرین۔ "انہوں نے سازش کی اور ان کے مقابل اللہ نے تدبیر کی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔”

یہ بھی دیکھیں

سعودی تیل کی تنصیبات پر یمنیوں کا بڑا حملہ

(تحریر: رامین حسین آبادیان) یمن آرمی اور رضاکار فورسز نے جارح قوتوں کے خلاف ایک …