جمعرات , 19 ستمبر 2019

کیا سوڈان بیرونی عناصر کا ایک اور اکھاڑا بن رہا ہے؟

(جوناتھن مارکس)

آٹھ سال پہلے مشرق وسطیٰ میں اٹھنے والی عوامی بیداری کی لہر ’عرب سپرنگ‘ کے بعد خطے میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئیں۔’عرب سپرنگ‘ کے بعد آنے والی کچھ تبدیلیاں تو وقتی ثابت ہوئیں اور مصر جیسے ممالک اب اسی مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے تبدیلی کا عمل شروع ہوا تھا۔لیکن عرب سپرنگ سے متاثر ہونے والےممالک میں شام بھی شامل ہے جہاں ہونے والی تباہی کی بڑی وجہ بیرونی عناصر کی شمولیت ہے۔ اب خطرہ ہے کہ عوامی بے چینی کی دوسری لہر میں سوڈان بیرونی عناصر کا ایک نیا اکھاڑا نہ بن جائے۔

سوڈان کا شام کے ساتھ موازنہ کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سوڈان بھی شام کی طرح دھڑوں اور فرقوں کے جھگڑوں میں پھنس جائے گا لیکن مشرق وسطی میں عوامی بیداری کی پہلی مہم میں نظر آنے والی بعض نشانیاں سوڈان میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔سوڈان میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک کا اثر بڑھ رہا ہے جو خطے میں قطر اور ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔البتہ اس علاقائی جھگڑے سے امریکہ کی غیر موجودگی بہت عیاں ہے۔اسی طرح روس جو شام کے جھگڑے میں شریک ہے ، لیکن وہ سوڈان کے میدان سے غیر حاضر ہے۔

مظاہرین سے کسی کو بھی دلچسپی نہیں
سعودی عرب کو بظاہر سوڈان میں ابھی تک سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سوڈان کے لیے فوری طور پر خوراک، دوائیوں اور سستے پیٹرول کے علاوہ مالی امداد کی بھی پیشکش کی ہے۔متحدہ عرب امارت نے سوڈان کے مستقبل کے سیاسی ڈھانچے پر بات چیت کے لیےمختلف دھڑوں کی ملاقات کا بھی اہتمام کیا ہے۔اسی طرح سعودی عرب کے اتحادی مصر افریقن یونین میں اپنے سفارتی اثرو رسوخ کا استعمال کر رہا ہے۔

سعودی عرب بظاہر سوڈانی جرنیلوں کی حمایت کر رہا ہے جبکہ ترکی اور قطر سوڈان کے اسلام پسندوں کی حمایت کر رہے ہیں۔یہ چیز واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ مذکورہ بیرونی عناصر کو سوڈان میں احتجاج کرنے والوں سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی انھیں ایک جمہوری سوڈان میں کوئی دلچسپی ہے۔تمام بیرونی عناصر کو سوڈان میں استحکام سے دلچسپی ہے۔ تمام عناصر مطلق العنانی کے دو نمونوں، فوجی حکمرانی، اور اسلام پسندوں کی حکمرانی کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ ان کا سوڈان میں اثرو رسوخ قائم ہو سکے۔سوڈان نے حالیہ برسوں میں اپنے اتحادیوں میں تبدیلی کی ہے۔

ایک عشرہ پہلے تک امریکہ سوڈان کو دہشتگردی برآمد کرنےوالا ملک گردانتا تھا اور اس پر نہ صرف امریکی پابندیاں عائد تھیں بلکہ وہ کروز میزائیلوں کے نشانے پر بھی تھا۔سوڈان اسلامی ایران کا بھی دوست رہا ہے لیکن بعد میں سعودی عرب سوڈان کو سنی دنیا کے اتحاد کی جانب راغب کرنےمیں کامیاب رہا۔اور یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ اب سوڈان کے فوجی سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ہمراہ یمن کی جنگ میں شریک ہیں۔

لیکن حالیہ عرصے میں سوڈان قطر اور ترکی کی طرف بڑھتا ہوا نظر آرہا تھا۔مارچ 2018 میں سوڈان نے قطر اور ترکی کے ساتھ بحرہ احمر میں سوکن کی بندرگاہ قائم کرنے کا معاہدہ کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس بندرگاہ کو تعمیر کرنے کا مقصد ترکی کی بحری فوج کے لیے ایک چھوٹا اڈا مہیا کرنا ہے۔جب جنوری میں پہلی مرتبہ سوڈان میں احتجاجی لہر کے آثار نظر آئے تو تین عشروں تک سوڈان کےحکمران عمر البشیر نے سب سے قطر کو مدد کے لیے پکارا۔ البتہ ایسا لگتا ہے کہ سوڈان میں اب سعودی اتحاد کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔

بڑے کھلاڑیوں کی عدم موجودگی
سوڈان میں جو بھی تبدیلی ہو گی اس کا تعین سوڈان کے وہ بہادر لوگ کریں گے جنہوں نے سڑکوں پر نکل کر اقتدار میں تبدیلی کا موجب بنے۔ ابھی تک بیرون ملک بننے والا کوئی ایسا خاکہ نظر نہیں آیا جس کو سوڈان میں نافذ کیا جانا مقصود ہو۔اس بحران کا جائزہ لینے سے کئی چیزیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔اقوام متحدہ ، یورپی یونین ، افریقن یونین جیسے عالمی کھلاڑی ابھی تک سوڈان میں کہیں نظر نہیں آئے۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ خطے میں کوئی متحرک سیاسی قوت موجود نہیں ہے۔.

ٹرمپ انتظامیہ کی سوڈان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اپنے آپ کو کسی اور فوجی بکھیڑے میں الجھانےکے لیے تیار نہیں ہے۔امریکہ کی فوجیں شام میں موجود ضرور ہیں لیکن اس کا شام میں کوئی سفارتی اثر و رسوخ نہیں ہے۔کئی امریکی تجزیہ کارسوڈان میں امریکہ کی عدم دلچسپی کو امریکہ کے لیے ایک موقع ضائع کرنے سے تعبیر کر رہے ہیں اور کئی مبصرین کو شبہ ہے کہ امریکہ سوڈان کے معاملے میں اپنے اتحادی سعودی عرب کے خلاف نہیں جائے گا۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …