جمعرات , 19 ستمبر 2019

پاکستان اور ایران مشترکہ مستقبل کی نادیدہ راہیں

(عارف بہار)

پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کا منصوبہ ایک بار پھر امریکی پابندیوں کی وجہ سے کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ ایران نے اس معاملے میں پاکستان کو نوٹس دیتے ہوئے معاملہ عالمی ثالثی عدالت میں اُُٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ اس نوٹس کے جواب میں پاکستان نے ایران کو تحریری طور پر مطلع کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث پاکستان اس منصوبے کو آگے بڑھانے سے قاصر ہے۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے اس ضمن میں وزارت خارجہ کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ایران کیساتھ ملکر تناؤ ختم کرتے ہوئے متفقہ موقف اور حکمت عملی اپنائی جائے۔ انہوں نے وزارت خارجہ کو اس معاملے میں اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین سمیت دوسرے عالمی اداروں کو یادداشتیں بھیجنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن توانائی کے بحران کا شکار پاکستان کیلئے ایک اچھا متبادل ثابت ہو سکتا تھا۔ ایران اپنے حصے کی نوسو کلومیٹر پائپ لائن کا کام مکمل کر چکا ہے اور اب پاکستان نے اپنے علاقے میں آٹھ سو کلومیٹر پائپ لائن کا کام کرنا ہے۔ امریکہ اس منصوبے کا مخالف ہے اور اس کے متبادل ترکمانستان، افغانستان، پاکستان کے بنیادی منصوبے ’’تاپ‘‘ کو انڈیا کا ٹانکہ لگا کر ’’تاپی‘‘ بنا چکا ہے۔ اس منصوبے سے امریکہ کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہوگا اور پاکستان اور بھارت قریب آئیں گے جس سے بھارت کیلئے امکانات کی کئی راہیں کھلیں گی۔ امریکہ کو پاکستان کی توانائی کی ضروریات اور مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ پاکستان کو مخالف کے خانے میں ڈال چکا ہے۔ امریکہ پاکستان کیلئے مختص پچاس کروڑ ڈالر کا فنڈ میکسیکو کی سرحد پر باڑھ کی تعمیر کیلئے منتقل کیا جا چکا ہے۔ یوں اپنے فنڈز کا میکسیکو کی سرحد پرخرچ ہونے کے معاملے پر پاکستان کے فیصلہ ساز دل کو یوں تسلی دے سکتے ہیں کہ

وہ تیرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بے خبر میری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا

پاکستان اور ایران کی تقدیر ایک کاغذ پر ایک روشنائی کیساتھ لکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، پاکستان اور ایران کے خاکستر کے اندر انقلابیت کی چنگاری کی موجودگی انہیں عجیب انداز سے خوفزدہ کئے ہوئے ہے۔ اسی لئے امریکہ ان دونوں کیلئے عقوبت کے ایک جیسے انداز اپنا رہا ہے۔ ایران تسلیم کرے یا نہ کرے مشرق وسطیٰ اور خلیج میں عراق سمیت بعض مقامات پر امریکہ نے انہیں استعمال کر کے وہی کام کیا جو اکثر اوقات پاکستان کیساتھ ہوتا رہا ہے یعنی استعمال کرتے ہی دوبارہ نشانے پر رکھ لو۔ ایران حزب اللہ سے حماس تک جہاں جہاں ایک اصول کی بنیاد پر مظلوم لوگوں کی مدد کر رہا تھا ان مظلوموں کو دہشتگرد قرار دیا گیا اور یوں ایران کو دہشتگردوں کا سرپرست ثابت کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ اگلے قدم کے طور پر ایران کی فوج پاسداران انقلاب کو دہشتگردوں کی صف میں لاکھڑا کیا گیا۔ یہی واردات پاکستان کیساتھ ہو رہی ہے جسے جیش محمد، افغان طالبان اور جماعت الدعوۃ کا معاون بتا کر ان تنظیموں کو دہشتگرد قرار دیا گیا ہے اور اس کی تان کہاں ٹوٹے گی؟ یہ بات قطعی محتاج وضاحت نہیں۔ پاکستانی فوج پر تو امریکہ کے پرائیویٹ حلقے اکثر اور کبھی کبھار سرکاری لوگ جہادیوں کی سرپرستی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ یہ نیا الزام نہیں بلکہ اس کی جگالی نوے کی دہائی سے ہی جاری ہے۔ چند دن قبل ایران کے ڈالرخور لبرل اور ان کے بیرونی معاونین کسی غیرملکی سرزمین پر ایک مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آئے۔ مظاہرین نے ’’ڈونٹ ٹرسٹ ایران‘‘ کی عبارت پر مشتمل بینر اُٹھایا ہوا تھا۔

ایران کا جوہری معاہدہ تازہ پابندیوں کا ایک بہانہ ہے، اصل معاملہ خطے میں امریکی سکیم کیلئے ایران کی موجودہ وضع قطع کا مس فٹ ہونا ہے اور یہ وہی صورتحال ہے جو جنوبی ایشیا میں پاکستان کو درپیش ہے جس کی خاطر فیتہ قینچی تھامے کچھ ہاتھ ہر موڑ اور مقام پر نظر آتے ہیں، پاکستان کیلئے ایسے کئی بہانے پہلے سے گھڑ رکھے گئے ہیں۔ ایران کی معاشی کلائی مروڑنے کا عمل شروع ہے۔ ایران کیساتھ تیل کی تجارت کرنے والوں کو ڈرا دھمکا کر اس عمل سے الگ کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب وقتی طور پر تیل کی بین الاقوامی ضرورت پوری کرنے پر آمادہ ہوچکا ہے۔ خود ایران کے صدر حسن روحانی نے کھلے انداز میں اعتراف کیا ہے ایران ایسے دباؤ کا شکار ہے جس کی مثال 1980میں انقلاب کے بعد اور1988میں عراق کیساتھ جنگ کے دوران بھی نہیں ملتی۔ یہ ایران کی علاقائی اور عالمی تنہائی کا کڑا وقت تھا مگر ایرانی صدر آج کے حالات کو اس سے بدتر قرار دے رہے ہیں تو حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

آئی ایم ایف نے موجودہ حالات کے پیش منظر میں کہہ دیا ہے کہ 2019میں ایران کی شرح نمو میں چھ فیصد کمی آسکتی ہے۔ پاکستان بھی ان دنوں اسی معاشی صورتحال اور ایسی قنوطیت بھری پیش گوئیوں کا مرکز ہے۔ فلسطین میں ایران اور کشمیر میں پاکستان کے کردار نے اس خوف کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان دونوں مقامات پر جن دو ملکوں بھارت اور اسرائیل کے سینگ پھنسے ہوئے ہیں وہ دونوں دنیا میں امریکہ کے تزویراتی شراکت دار ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کو امریکہ کے دباؤ کو غیرموثر کرتے ہوئے توانائی کے اس سستے اور متبادل ذریعے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ حد تو یہ کہ وہ آئی ایم ایف کو قرض دینے کیلئے ایک سفارشی پرچی دینے سے بھی مکر گیا ہے۔ ایسے میں امریکہ کا دباؤ قبول کرنا گناہ بے لذت کے سوا کچھ اور نہیں ہوگا۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …