اتوار , 18 اگست 2019

پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں امن کا خواہاں ہے،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دوحا میں طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت عمران خان کی ٹرمپ سے ملاقات کی راہ ہموار کرے گی، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عمران ٹرمپ ملاقات، ان مذاکرات میں پیش رفت سے مشروط ہے تو شاہ محمود قریشی نے کہا ’مشروط تو نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ مذاکرات آگے بڑھتے ہیں اس سے ماحول سازگار ہو جائے گا۔‘

شاہ محمود قریشی نے نجی ویب سائٹ اردو نیوز کو انٹرویو میں مزید کہاکہ دونوں اہم شخصیات خطے کے امن اور استحکام میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں، اس میں پیش رفت بھی ہو رہی ہے اور دوحا میں مذاکرات جاری ہیں، ان میں پیش رفت ہوئی ہے، وہ پیش رفت آگے بڑھے تو اس کے امکانات موجود ہیں اور ان امکانات سے ہمارے دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو سکتا ہے، پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں امن کا خواہاں ہے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا، کیونکہ افغانستان میں استحکام سے پورے خطے میں ترقی اور استحکام کا ایک نیا دور آئے گا۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ توقع ہے جون میں ایف اے ٹی ایف پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیے گا، ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی کی واپسی کے لیے ہمیں امریکی قوانین کو مدنظر رکھنا ہوگا، پاکستان ڈاکٹر عافیہ کے بدلے شکیل آفریدی کو امریکا نہیں بھیج رہا۔

امریکا کیلئے پاکستانی ویزوں پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین ویزوں کا کوئی تنازع نہیں ہے اور تین سرکاری افسران کے ویزے پر عائد ہونے والی پابندی عارضی ہے، ہم نے ڈیپورٹیشن کا مسئلہ بہت حد تک سلجھا لیا ہے اور یہ عارضی پابندی بھی جلد ختم ہو جائے گی۔

ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے، دنیا کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں اور دہشت گردی کی فنڈنگ کو روکنے کے اقدامات کو تسلیم کرنا چاہیے، پاکستان کا ایک وفد اس وقت چین میں ایف اے ٹی ایف کو دہشت گردی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کر رہا ہے اور توقع ہے کہ جون میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کر دیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پڑوسی اسلامی ملک سے اچھے تعلقات ہماری ضرورت ہیں اور یہ صدیوں پر محیط ہیں، تاہم کچھ قوتیں جن کے اپنے ایجنڈے اور مقاصد ہیں ان کے حصول کے لیے پاکستان اور ایران میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں اور جب بھی یہ کوشش ہوتی ہے پاکستان اور ایران سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی سطح پر بات چیت کر کے یہ غلط فہمیاں دور کر لیتے ہیں، یہ وہی قوتیں ہیں جو ایران کو اس خطے کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں اور ایران کو نیچا دکھانا چاہتی ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ کا اشارہ امریکا کی طرف ہے وزیرِ خارجہ نے کہا میں نام نہیں لیتا لیکن عقلمند کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔

سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی خطرات کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب بھی سعودی عرب کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا گیا پاکستان اس کے ساتھ کھڑا رہا اور پاکستان آئندہ بھی اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

بھارت سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی یہ اسٹیٹڈ پالیسی ہے کہ وہ پاکستان کو دنیا میں تنہا کردے گا اور اس کو عدم استحکام کا شکار کرے گا لیکن اس کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہو گی، انتخابات کے نتیجے میں بھارت میں جو بھی حکومت آئے گی ہم اس سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے وزیراعظم کا ایرانی صدر سے رابطہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کا ایرانی صدر حسن روحانی سے رابطہ، کشمیرپر بھارتی تسلط …