منگل , 17 ستمبر 2019

عید کے بعد حکومت کے خلاف اے پی سی ہوگی،اپوزیشن جماعتیں متفق

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عید کے بعد مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں آل پارٹی کانفرنس (اے پی سی) میں حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی حکمت عملی تشکیل دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ افطار پارٹی میں پاکستان میں موجودہ سیاسی، اقتصادی، انسانی حقوق اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کا موقع ملا۔بلاول بھٹو نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ سلسلہ وار ملاقات جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی سیاسی جماعت تنہا پاکستان کے مسائل کا حل نہیں نکال سکتی۔

انہوں نے افطار پارٹی میں شریک تمام جماعتوں کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے کہا کہ میثاق جمہوریت کا یہ فائدہ ہوا کہ دو جمہوریت طاقتوں نے اپنی مدت پوری کی ۔ان کا کہنا تھا کہ ’میثاق جمہوریت کا سلسلہ محض ادھر ہی ختم نہیں ہوا بلکہ اس کو اگلے لے کر چلیں گے‘۔

مریم نواز نے کہا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) روایتی سیاسی حریف رہے لیکن ایک دوسرے کے دکھ میں برابر شریک ہوتے ہیں۔انہوں نے میڈیا رپورٹس کی تردید کی جس میں مریم نواز اور بلاول بھٹو کی پہلی ملاقات قرار دی جاری ہے۔

’نااہل لوگوں کو اقتدار سونپنے کی وجہ سے ملک مسائل سے دوچار ہے‘
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ نااہل لوگوں کو اقتدار سونپنے کی وجہ سے ملک متعدد مسائل سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 6 سے 7 ماہ میں ملک ایسے ’گہرے سمندر‘ میں جاپڑا ہے جسے نکالنے کے لیے تمام جماعتوں کا قومی فریضہ بن گیا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ بھی اسی طرح کے ڈنر میں شریک ہوجائیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ڈنر میں تمام جماعتوں نے ملک کو درپیش صورتحال اور اقتصادی مسائل پر بات چیت کی۔

’ہم نے افطار ڈنر میں کوئی بات ذاتی کی‘
مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ احتساب کے نام پر انتقام کی جو کوشش کی جارہی ہے یہ آمریت کا حصہ ہوتی تھی مگر آج یہ جمہوریت کا حصہ بن گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملک چلانے میں ناکام ہوگئی ہے اور عام انتخابات میں جو ہوا اس کا خمیازہ ملک کے عوام بھگت رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے افطار ڈنر میں کوئی بات ذاتی کی اور نہ ہی نام نہاد احتساب کی کی۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’آج پارلیمان میں بات کرنے کی گنجائش نہیں، عید کے بعد مولانا فضل الرحمٰن آل پارٹیز کانفرنس کریں گے جس میں مشترکہ طور پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا‘۔

’اے پی سی کامطلب بیٹھنا اور اٹھ کر چلے جانا نہیں ہوگا‘
نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا کہ اے پی سی سے مراد یہ نہیں کہ وہاں ہم بیٹھیں گے اور اٹھ کر چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ عید کے بعد باقاعدہ طور پر اپوزیشن کا اے پی سی ہوگا۔میر حاصل بزنجو نے کہا کہ اے پی سے ملک میں تاریخی طور پر ایک نئے اپوزیشن اتحاد سامنے آئے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن آج فیصلہ کرلے کہ ہم حکومت کو گرائیں گے تو یہ حکومت نہیں چل سکے گی۔

’موجودہ حالات میں اپوزیشن جماعتیں بیٹھی نہیں رہ سکتیں‘
قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد شیخ پاؤ نے کہا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ایسی صورتحال میں اپوزیشن جماعتیں بیٹھی نہیں رہ سکتیں۔انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور اس ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے اپوزیشن جماعتیں جب اکھٹے ہوں گی تو عوام کو بھی روشنی کی کرن نظر آئے گی۔

گرینڈ الائنس کا مشن
حکومت کے خلاف اپوزیشن ممکنہ طور پر گرینڈ الائنس کے مشن کا آغاز کرنے جارہی ہے جہاں حکومت مخالف تمام بڑی سیاسی جماعتیں آئندہ کی حکمتِ عملی طے کریں گی۔زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد افطار ڈنر میں مریم نواز کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وفد اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری کے مابین ملاقات جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے وفد میں مریم نواز کے ہمراہ پارٹی کے نائب صدر حمزہ شہباز، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور پارٹی رہنما پرویز رشید موجود ہیں۔اجلاس میں جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان، زاہد خان، میاں افتخار حسین کے علاوہ قومی وطن پارٹی آفتاب احمد خان شیر پاؤ، نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو، بلوچستان نیشنل پارٹی کے جہانزیب جمالدینی اور دیگر زرداری ہاؤس میں موجود ہیں۔

علاوہ ازیں پی ٹی ایم کے ممبران قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر بھی بلاول بھٹو کے افطار ڈنر میں شرکت کے لیے زرداری ہاؤس پہنچے ہیں۔جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمٰن قدرے تاخیر سے اجلاس میں شریک ہوئے۔تاہم افطارڈنرکے شرکانے کارحادثے میں جاں بحق قمرزمان کائرہ کے بیٹے کیلئے دعائے مغفرت بھی کی۔

اہم سیاسی رہنماؤں کی عدم شرکت
زرداری ہاؤس اسلام آباد میں بلاول بھٹو کی کوششوں کے باوجود کچھ اہم نام سیاسی بیٹھک میں شریک نہیں ہوسکے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ اسفند یار ولی، محمود اچکزئی، سراج الحق اور اختر مینگل نے زرداری ہاؤس میں ہونے والی افطار میں شرکت کی معذرت کی۔

بتایا گیا کہ محمود اچکزئی نے بروقت فلائٹ نہ ملنے اور اسفند یار ولی ناسازی طبع کے باعث سیاسی بیٹھک کا حصہ نہیں بن سکے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی افطار ڈنر میں شریک نہیں ہوسکے تاہم ان کی جگہ وفد کی قیادت لیاقت بلوچ نے کی۔

’خوبصورت تحفہ دینے والا جیل کی کال کوٹھڑی میں بند‘
مسلم لیگ (ن) کا وفد براستہ موٹروے جاتی امرا اور ماڈل ٹاؤن لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔راستے میں مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام دیا جس میں انہوں نے تصویر شائع کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کو یہ خوبصورت تحفہ دینے والے کو جیل کی کال کوٹھڑی میں بند کر رکھا ہے!‘انہوں نے سوال کیا کہ ’ہے اور کوئی جس کی انتھک محنت اور خدمت کی گواہی پاکستان کا چپہ چپہ دیتا ہو؟ آج ہر چیز وہی ہے مگر ایک نواز شریف کے نا ہونے سے ملک کا یہ حال ہوا پڑا ہے۔‘

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے اپوزیشن کو ایک پیج پر لانے کی کوششوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن ، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفندیار ولی خان، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی) کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور مذہبی رہنما شاہ اویس نورانی بھی حصہ بنیں گے۔اپوزیشن کے افطار ڈنر میں حکومت کے خلاف تحریک سمیت آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیے جانے کا امکان ہے۔

بینیفشریز اپنا مال بچانے کیلئے لائحہ عمل پر غور کریں گے، فردوس عاشق اعوان
ادھر مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آج بیفشریز ’لوٹ کا مال‘ بچانے اور اسے تحفظ دینے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کریں گے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ’انہیں پاکستان کے عوام کا نہ کوئی دکھ ہے نہ درد، آج افطار پر صرف اپنی بیرون ملک دولت کو ٹھکانے لگانے اور اومنی گروپ کے باب کو تحفظ دینے کی ترکیب سوچیں گے۔‘اپنے ایک اور پیغام میں مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’سیاسی بہروپیے معصوم عوام کو کئی سالوں سے ورغلا کر اپنے کاروباری مفادات کے لیے انہیں استعمال کرنے کے ایجنڈے پر کاربند ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ملکی اور عوامی مفادات کے لیے کوشاں وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت 22 کروڑ عوام ان سیاسی بہروپیوں کے دیے زخموں سے آزاد ہو چکے ہیں اور ان کے جھانسے میں اب نہیں آئیں گے۔‘پی پی پی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقات کا کوئی ایجنڈا طے نہیں کیا گیا، لیکن چیئرمین پی پی پی تمام اپوزیشن جماعتوں سے ہم آہنگ ہونا چاہتے ہیں۔

فرحت اللہ بابر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جب سیاست دان ملتے ہیں تو سیاست پر بات کرتے ہیں، آپ اسے اپوزیشن کی ایک گرینڈ میٹنگ کہہ سکتے ہیں، اور یہ مستقبل کی بڑی بیٹھک کے لیے ایک قدم ہے‘۔سیکریٹری جنرل پی پی پی کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین نے تمام سیاسی جماعتوں کو افطار ڈنر کے لیے مدعو کیا جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی شرکت کی توقع ہے۔

پی پی پی کے افطار ڈنر میں جماعت اسلامی سراج الحق کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم کراچی میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے انہوں نے اس افطار ڈنر میں شرکت سے معذرت کرلی تھی۔تاہم امیر جماعت اسلامی سراج الحق افطار پارٹی میں پارٹی کا وفد بھیجیں گے، جبکہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت گرانے سے متعلق کسی بھی مہم کا حصہ نہیں بنے گی۔واضح رہے کہ مذکورہ افطار ڈنر میں 2 سابق وزرائے اعظم کے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے سیاسی جانشینوں مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی باقاعدہ طور پر پہلی ملاقات ہوگی۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز ایسے وقت میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرنے کے لیے جارہی ہیں جبکہ ان کے والد اور پارٹی قائد نواز شریف جیل میں ہیں جبکہ ان کے چچا اور پارٹی کے صدر شہباز شریف ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ملاقات کے دوران ملکی معاشی صورتحال، ڈالر کی قدر میں اضافے اور مہنگائی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جبکہ ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ بھی دی جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

پنجاب کے 2 ہزار بڑے اسکول این جی اوز کے حوالے کرنیکا فیصلہ

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)  پنجاب حکومت کی خصوصی ہدایت پر وزارت تعلیم نے صوبہ بھر کے 2 …