جمعرات , 19 ستمبر 2019

جنگ نہیں چاہتے مگر۔۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تند وتیز جملوں کے تبادلوں کے بعد اب لفظی حد تک کشیدگی میں کمی دیکھی جارہی ہے لیکن دوسری جانب عملی طور پر دونوں جانب سے ایک قسم کی جنگی تیاری کا ماحول دکھائی دے رہا ہے تازہ ترین خبروں کے مطابق امریکہ اپنی سات دیو پیکر جنگی کشتیوں کا رخ ایک بار پھر بحیرہ عرب کی جانب کرچکا ہے USNI News کے مطابق گائیڈ ڈ میزائل نظام لیس دو ڈسٹرائرArleigh Burkeکا رخ اس وقت بحیرہ عرب کی جانب ہے
کہ ان میں سے ہر کشتی 90کے قریب کروز یا ٹام ہوک میزائل ہمراہ رکھ سکتی ہیں

اس کے علاوہ متحدہ امارات کے ساحلوں میںکیریئربھی اس میں شامل ہے کہ جس میں 20 سے 30طیارے یا ہیلی کاپٹرز لادے جاسکے ہیں کھڑی کی گئی ہے اس کے علاوہ مسافر بردارArlingtonبھی بحیرہ عرب روانہ کیا جو سات سو کے قریب فوجیوں اور چار عدد بکتر بند گاڑیوں کو سمونے کی گنجائش رکھتاہے ،ادھر یہ بھی خبر آرہی ہے کہ پیٹریاٹ میزائل کی ایک کھیپ بھی بحیرہ عرب کی جانب روانہ کی جارہی ہے ۔

امریکہ بغدا د میں اپنے سفارت کار اور عملے کو کم کرنے کا کہہ چکا ہے تو لندن نے عراق ،سعودی عرب اور قطر میں اپنے سفارتکاروں کو لیکر رسک کا لیول بڑھا دیا ہے ۔

دوسری جانب ایران سے موصولہ خبروں کے مطابق ایرانی عوام معمول کے مطابق زندگی گذار رہے ہیں اور کسی قسم کا کوئی جنگی ماحول دکھائی نہیں دیتا حتی کہ سی این این کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ایران جنگ اور ٹرمپ کے ٹیلی فون نمبرکو لیکر مذاق اڑانے سے زیادہ سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے ۔

ایرانی وزارت دفاع اور پاسدارن کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ وہ مکمل تیار ہیں اور کسی بھی قسم کے حملے کی صورت میں اس حملے کے پہلے منٹ پر ایک درجن سے زیادہ اہداف پر جوابی کارروائی ہوگی ۔ایرانی کہتے ہیں کہ خطے میں امریکی عسکری مومنٹ اپنی حفاظت کی خاطر ہے اور ہم اسے انتہائی باریکی سے مانیٹر کررہے ہیں جس قسم کی عسکری مومنٹ اس وقت وہ کررہے ہیں وہ آپریشنل سے زیادہ ڈیفینشل دکھائی دیتی ہے

ایرانیوں کے خیال میں امریکی عسکری مومنٹ کا میڈیا میں شور ایک قسم کی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے ،وہ اس وقت اپنے عسکری بحر ی بیڑے اور کشتیوں کو خلیج فارس سے بحیرہ عرب منتقل کررہے ہیں کیونکہ انہیں خوف لاحق ہوچکا ہے ۔میڈیا کے مطابق امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن جو کہ خلیج فارس کی جانب بڑھ رہا تھا بحیرہ عرب میں پڑاو ٔ کرچکا ہے اور آگے بڑھنے کا فی الحال کوئی ارادہ دکھائی نہیں دیتا ۔

اسی اثنا میں دونوں ممالک کے وزرا ئےخارجہ مسلسل ڈپلومیسی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اس وقت چین پہنچے ہیں اور اسی اثنا میں یہ بھی خبریں آرہی ہیں کہ بیگ ڈور چینلز سے پیغام رسانی کا سلسلہ جاری ہے۔

ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لئے شرائط بتائی گئی ہیں ،یقیناً ایران کی پہلی شرط ایٹمی معاہدے کی امریکہ کی جانب سے بحالی، پابندیوں کا خاتمہ اور ثمر آور بات چیت ہوگی نہ کہ فوٹوسیشن ۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …