جمعرات , 27 جون 2019

وہ حملہ کرنے آئے تھے

وہ خطے میں حملہ کرنے آئے تھے ،انکا کہنا تھا کہ وہ خطے میں اپنے دوستوں کی حفاظت کی ذمہ داری رکھتے ہیں ،دوستوں پر انہی دنوں دو حملے ہوئے لیکن باڈی گارڈ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی افواج اور اڈوں کی سیکورٹی کی ضمانت چاہتے ہیں ۔یہ بات انہوں نے عراق میں ذمہ داروں سے کہی ،اور وہ کھلے لفظوں کہتے بھی پھرتے ہیں۔جو بیڑے بھیج رہے ہیں وہ دراصل اپنی حفاظت اور دفاع کے لئے ہیں ۔تو حملہ آور وں کو دفاعی پوزیشن میں جانا پڑ رہا ہے ؟

عراقیوں نے پیمپئو سے کہا کہ اگر آپ کو عراق میں اپنے فوجیوں کی حفاظت کا خوف لاحق ہے تو اچھا ہوگا آپ انہیں یہاں سے واپس لے جائیں ۔ابوظہبی کافجیرہ واقعے کے بعد کہنا ہے کہ خطے میں مزید تناؤ نہیں چاہتے ،مطلب بس اتنی سی بات تھی کہ جس کا ڈھول پیٹا جارہا تھا ؟ایران کا کہنا ہے ’’نہ جنگ وہ کرسکتے ہیں نہ ہمارا کوئی ارادہ ہے ،رہی بات مذاکرات کی جس کے لئے وہ تڑپ رہے ہیں تو اِن کے ساتھ مذاکرات مزید زہربھرنے کے مترادف ہے ‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایرانی رہبر اعلیٰ نے کھلے لفظوں دونوں امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے کہ جس پر اس وقت تمام تر امریکی حکمت عملی کا بھروسہ ہے ۔امریکہ کے لئے یہ حقیقت میں ایک مشکل وقت ہے، ٹرمپ اور فورB کی حکمت عملی بری طرح ناکام ہوچکی ہے ۔

صورتحال ایسی ہے کہ بولٹن کے بیان کو پیمپیو کاونٹر کررہا ہے ،بولٹن ایک لاکھ بیس ہزار فوج مشرق وسطی روانہ کرنے کی بات کرتا ہے تو پیمپئو فورا کہتا ہے نہیں ایسا کوئی پلان نہیں ہے ۔

فورBکے خواب کیا تھے، ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ فورB کے خواب اس قدر بھیانک ہیں کہ پیمپئیو کو فوراً اپنے ہی وزیر دفاع یا قومی سیکورٹی کونسل کے سربراہ کے بیان کی نفی کرنی پڑ رہی ہے ۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ بولٹن اور اس کے تین Bساتھی جنگ چاہتے ہیں کہ جو بنجمن نتن یاہو،بن زاید،اور بن سلمان ہیں ۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر انتہائی درجے تک دباؤ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ ایران ایک ایسے مذکرات کے لئے تیار ہوجائے جس کی خواہش ٹرمپ رکھتا ہے ،ٹرمپ جنگ اور عسکری تصادم نہیں چاہتا کیونکہ اس کے نتائج سے وہ واقف ہے ۔

اب اس قسم کی عدم ہم آہنگی اور اندرونی بے یقینی کی صورتحال میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے پاس ایک آپشن باقی بچا ہے کہ بیک ڈور چینلز کے ذریعے ایرانیوں کے ساتھ غیر رسمی مذاکرات کرے اور اپنے لئے فیس سیونگ مانگے ۔

ممکن ہے کہ قطر ،عراق ،یا عمان میں سے کوئی بیک ڈور چینل کا کردار ادا کرسکتا ہولیکن لگتا ایسا ہے کہ یہ کردار اس وقت روس کو دیاجارہا ہے کہ جس کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں ہمیشہ فائر بریگیڈکا کردار ادا نہیں کرسکتا لیکن اس کے باوجود خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ روس ضرور کوئی نہ کوئی کردار اداکرے گا ۔

ایرانیوں کے لئے یہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں، خواہ ٹرمپ انہیں پہلے ہی اطمینان کیوں نہ دلائے جیسا کہ اوباما نے کیا تھا ۔

اس ساری صورتحال میں صرف ایک چیز ایرانیوں کو مذاکرات کی میز پر لاسکتی ہے اور وہ ٹرمپ کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر واپسی اور تمام پابندیوں کا خاتمہ ہے،جو موجودہ صورتحال میں ٹرمپ کے لئے قدرے مشکل کام ہوگا ۔

لیکن دوسری جانب ٹرمپ کے پاس کوئی اور آپشن بھی نہیں بچتا، ایرانی پابندیوں کے عادی ہیں اور وہ ایسے راستے جانتے ہیں کہ جس سے پابندیوں کے سبب پیداہونے والی معاشی صورتحال پر قدرے امکان کنٹرو ل کرلیں ۔

ایک کمزور سی رائے یہ بھی ہے کہ ٹرمپ خفت سے نکلنے کے لئے ایران میں کچھ اہداف کو نشانہ بناسکتا ہے لیکن اس کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ایران کا ردعمل ہوگا ،یہ انتہائی سخت اور زبردست قسم کا ہوسکتا ہے کہ جس سے تمام تر صورتحال بدل کررہ جائے گی اور حملوںکا سلسلہ رکنے کے بجائے بڑھتا جائے گا ۔

یہ بھی دیکھیں

بحرین کانفرنس میں فلسطینیوں کی نمائندگی کرنے والے غداران وطن!

آج 25 جون کو خلیجی ریاست بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکا کی دعوت پر …