جمعرات , 19 ستمبر 2019

الاعیان من آل حسن علیہ السلام(1)

(تحریر: سید اسد عباس)

امام حسن علیہ السلام خاندان نبوت و امامت کا پہلا چشم و چراغ ہیں، جو سورۃ کوثر کی عملی تفسیر بن کر اس دنیا میں تشریف لائے، آپ اہل کساء کا ایک فرد، ’’ابنائنا’’ کا وہ مصداق ہیں، جو انگشت رسالت پکڑ کر میدان مباہلہ میں تشریف لائے۔ آپ کے بارے میں ختمی مرتبت نے فرمایا کہ حسن و حسین جوانان جنت کے سردار ہیں۔ قرآن کریم میں ’’مودۃ فی القربی‘‘ کا واضح حکم آپ ہی کی شان میں نازل ہوا جبکہ رسالت ماب ؐ سے آپ ؑ کی شان میں متعدد احادیث مروی ہیں۔ رسالت ماب ؐ کے مسجد میں دیئے گئے خطبات اور ارشادات کو جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کو یوں بلا کم و کاست جا کر بتاتے کہ جیسے جناب سیدہ مسجد نبویؐ میں موجود ہوں۔ امام حسن علیہ السلام نے بچپن رسول اکرم ؐ کے زیر تربیت گزار۔ رحلت ختمی مرتبت کے بعد آپ امیر المومنین علی علیہ السلام کے زیر تربیت رہے۔ ابناء الرسول ؐ کے بچپن کے بارے میں وہ واقعات قلمبند ہو پائے، جو رسالت ماب ؐ کے محضر میں وقوع پذیر ہوئے، رحلت رسول ؐ کے بعد یہ ہستیاں کس حال میں تھیں، اس پر تاریخ کی خاموشی بذات خود اس خاندان کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کی نشاندہی کرتی ہے۔

مسجد نبوی ؐ میں رسول اکرم ؐ کے طویل سجدے، مدینے کی گلیوں میں رسالت ماب کے دوش ہائے اقدس پر سواری، جنت سے لباس کا آنا، رسول اکرم ؐ کا منبر سے اتر کر بچوں کو اٹھانا اور گود میں بٹھانا جیسے واقعات تاریخ اسلام و سیرت کا جزو ہیں، تاہم جیسے ہی رسالت ماب ؐ اس دنیا سے پردہ فرما گئے، تاریخ نویسوں نے ان شہزادوں اور خاندان کو فراموش کر دیا۔ رحلت رسول اکرم ؐ سے لے کر جنگ صفین تک تاریخ خاموش ہے کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کس حال میں تھے۔ امیر المومنین ؑ نے خلافت کے منصب پر آنے کے بعد ابن عباس کے سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے خوف لاحق ہوا کہ عوام کا اژدہام کہیں حسن و حسین کو کچل نہ دے، مجھ پر حجت تمام ہوگئی، اس لیے میں نے اس منصب کو قبول کیا، ورنہ اس کی حیثیت میری نظر میں اس پھٹی ہوئی جوتی جتنی بھی نہ تھی۔

امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام جنگ جمل میں خواتین کے ایک لشکر کے ہمراہ ام المومنین کو مدینہ منورۃ چھوڑنے کے لیے گئے، صفین کے میدان میں فرزند امیر المومنین محمد حنفیہ نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ بار بار مجھے جنگ کے لیے بھیجتے ہیں، حسن و حسین کو نہیں بھیجتے تو امیر کائنات نے ان شہزادوں کے مقام کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ نبی کے فرزند ہیں اور تم میرے بیٹے ہو، میں نہیں چاہتا کہ فرزندان رسول کو کوئی گزند پہنچے۔ بہرحال رحلت رسول اکرم ؐ سے لے کر خود منصب خلافت یا مقام شہادت تک پہنچنے تک جنت کے سرداروں کے یہی واقعات ہیں، جو تاریخ اسلام کا اثاثہ ہیں۔ سیرت امام حسن علیہ السلام ہمارا موضوع نہیں، تبرکاً ہم نے اس جانب اشارہ کیا۔

21 رمضان المبارک کو مسجد کوفہ میں بحالت سجدہ شہادت امیر المومنین کے بعد مسلمانوں نے امام حسن علیہ السلام کو اپنا سردار مقرر کیا۔ ریاست اسلامیہ کا انصرام و اہتمام آپ کے کندھوں پر آیا۔ امام حسن علیہ السلام نے اپنے والد کے کاموں کو آگے بڑھایا، تاہم انصار کی بے وفائی اور یاراں کی کمیابی کے سبب آپ صلح پر مجبور ہوئے۔ چند شرائط جو نہایت اہم ہیں، کے ساتھ امام حسن علیہ السلام نے امیر شام سے صلح کی، جو خود امیر المومنین اور امام حسن علیہ السلام کے موقف کی فتح تھی۔ اگرچہ اس وقت ایسا محسوس ہوا کہ امیر شام پوری ریاست اسلامیہ کا حاکم بن گیا ہے، تاہم شرائط صلح اور ان کی خلاف ورزی کے تناظر میں یہ بات تاقیام قیامت ثابت ہوگئی کہ امیر شام اس منصب کے اہل نہ تھا۔ اس کی یزید کی ولی عہدی کے لیے کوشش و کاوش صلح امام حسن ؑ کی سراسر خلاف ورزی تھی اور ایک مسلمان امیر کی یہ پیمان شکنی اور وعدہ خلافی تا قیام قیامت تاریخ کا حصہ بن گئی۔ اب کوئی خواہ کسی کی سرداری کا قائل ہو، مگر تاریخی طور پر ثابت ہے کہ وعدہ وفا نہ ہوا۔ امام حسن علیہ السلام کو انہی کی ایک زوجہ کے ذریعے زہر دلوایا گیا اور یوں جنت کا پہلا سردار اپنی سرداری کے منصب پر فائز ہوا۔

امام حسن علیہ السلام بچپن سے راوی حدیث تھے، پہلے آپ فقط اپنی ماں کو احادیث پیغمبر سنایا کرتے تھے اور پھر یہ سلسلہ عامۃ المسلمین تک پھیلا، دین کی ترویج و اشاعت اور نفاذ کے لیے آپ کی کوششیں اور استحکام ریاست اسلامیہ کے لیے آپ کی کاوشوں کا ایک عالم گرویدہ ہے۔ آپ علم نبوی ؐکے وارث و امین تھے، شجاعت حیدری آپ کا اثاثہ تھی اور جود و سخا آپ کو اپنے خاندان سے ورثہ میں ملا تھا۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے نہ کتراتے، متعدد پیدل حج انجام دیئے۔ آپ کے ارشادات، اقوال، خطبات اور خطوط تاریخ کا حصہ ہیں۔ نیک اولاد ایک صدقہ جاریہ ہے، اولاد کی نیکیاں والدین کے درجات کی بلندی کا باعث ہیں۔ امام حسن علیہ السلام نے بھی رسالت ماب اور امیر المومنین کی مانند نیک اولاد چھوڑی، جو آج تک انسانوں کے لیے فیض و کمال کا منبع ہیں۔ امام حسن علیہ السلام کے فرزندوں کا شجرہ ثمر بار دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے اور اس کے ثمرات سے دنیا فیوض و برکات سمیٹ رہی ہے۔

انساب کی اصلاحات میں ان فرزندوں کو اعقاب کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔ یہی ہمارا موضوع ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اعقاب امام حسن علیہ السلام پر اگر تفصیلاً لکھا جائے تو شاید کئی ایک جلدوں پر مشتمل کتاب مرتب ہو جائے، انساب کے ماہرین نے اس عنوان سے اپنے اپنے ادوار میں کام کیا ہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ انساب سادات پر تحریر کی جانے والی کتب اعقاب امام حسن علیہ السلام کے حالات سے پر ہیں۔ امہات الکتب میں اس نسل کے اسماء کو تحریر کرکے نسابہ نے تاریخ سادات کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے، جو رب کائنات کا ایک خصوصی انتظام ہے، تاکہ ان کے تذکرے کو مٹانا ممکن نہ ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ تاریخ ہمیشہ ملوک کے گرد گھومتی رہی ہے، لیکن انساب ایک ایسا شعبہ علم ہے، جس کا محور و مرکز نسل ہے، اس میں کسی تعصب کی گنجائش نہیں۔ اگرچہ نسابہ میں بھی بعض حضرات نے تعصب سے کام لیا، تاہم اکثریت نے نسل کا تذکرہ من و عن ہی کیا ہے۔ کتب تاریخ میں کسی بھی شخصیت کے حوالے سے پایا جانے والا اختلاف شاید اسی تعصب یا عقیدت کا نتیجہ ہے، جس کی انساب میں گنجائش بہت کم ہے۔

نسابہ کو اس سے غرض نہیں کہ جد کا دین کیا تھا اور اولاد کس دین پر ہے، اسے اس سے بھی غرض نہیں کہ دادا کا سیاسی نظریہ کیا تھا اور پوتا کس شعبے سے متعلق ہے، اس کا کام فقط ریکارڈ کو مرتب کرنا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نسابہ اس ریکارڈ کو مرتب کرنے کی کس قدر صلاحیت رکھتا ہے۔ الحمد اللہ انساب کا علم اس حد تک ترقی کرچکا ہے کہ اس کے باقاعدہ اصول و قواعد موجود ہیں اور ان اصولوں سے متصادم کوئی بھی ریکارڈ آج بھی انساب کے ماہرین کے نزدیک قابل وثوق نہیں ہوتا۔ انساب کی کتب میں نسلوں کے تذکرے کے ساتھ ساتھ ان سے متعلق احوال کا بھی ضروری تذکرہ کیا جاتا ہے، جو کم از کم نسل کوثر کے درست تعارف کے تناظر میں بہت اہم ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے مورخین نے انہی کتب انساب کو بطور حوالہ پیش کیا ہے۔

تحریر انساب کا علم عربوں میں قدیم تھا، جو کسی بھی حالت میں تعطل کا شکار نہیں ہوا۔ انساب پر تحریر کی گئی بہت سی اہم کتابیں جن کا تعلق دوسری صدی ہجری سے لے کر چودھویں صدی ہجری تک ہے، آج ہمارے کتاب خانوں کا حصہ ہیں۔ انہی امہات الکتب میں جمھرۃ الانساب، سر سلسلۃ العلویہ، مقاتل الطالبین، لباب الانساب، الاصیلی فی انساب الطالبین، المجدی فی انساب الطالبین، فخری فی انساب الطالبین، عمدۃ الطالب، المعقبون من ال ابی طالب، المشجر الوافی الی آخر انساب کی وہ کتب ہیں جس میں نسل کوثر کا تذکرہ بالالتزام موجود ہے۔

اولاد امام حسن علیہ السلام
امام حسن علیہ السلام کی اولاد کی تعداد کے عنوان سے کتب تاریخ میں کافی اختلاف ہے، 400 صدی ہجری میں انساب پر تحریر کی جانے والی ابی نصر سہل بن عبداللہ البخاری کی کتاب سر سلسلۃ العلویہ میں امام حسن علیہ السلام کے تیرہ فرزندوں کا حوالہ ملتا ہے، جبکہ ابی نصر کا قول ہے کہ ان کے دو فرزندان ابو محمد حسن بن حسن المعروف حسن مثنٰی اور ابو الحسن زید بن حسن سے اولاد چلی۔۱ منتہی الامال کے مولف اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ واقدی اور کلبی نے امام حسن علیہ کے پندرہ بیٹے لکھے ہیں، ابن جوزی نے سولہ جبکہ شیخ مفید نے ان کی تعداد چھے تحریر کی ہے۔ شیخ مفید اپنی کتاب الارشاد میں ان فرزندان کے اسماء یوں تحریر کرتے ہیں۔ زید بن حسن، حسن بن حسن (حسن مثنٰی)، عمر بن حسن، قاسم بن حسن، عبد اللہ بن حسن، حسین اثرم بن حسن اور طلحہ بن حسن۔۲ عمدۃ الطالب فی انساب ال ابی طالب کے مولف نے شیخ الشرف العبیدلی کے حوالے سے امام حسن علیہ السلام کے گیارہ فرزند تحریر کیے ہیں، جن کے اسماء حسب ذیل ہیں۔ زید، حسن مثنٰی، طلحہ، اسمعیل، عبداللہ، حمزہ، یعقوب، عبد الرحمن، ابو بکر و عمر۔ مولف تحریر کرتے ہیں کہ ابو بکر عبداللہ ہیں اور اس کے علاوہ ایک فرزند قاسم بھی تھے۔۳

تاہم تمام نسابہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام حسن علیہ السلام کی نسل آپ کے دو فرزندان ابو محمد حسن بن حسن المعروف حسن مثنٰی اور ابو الحسین زید بن حسن سے ہی چلی۔ زید بن حسن کی نسل حسن نامی فرزند سے چلی، جن کی اولاد سے ایک بزرگ بعد میں طہران آئے۔ آج بھی شاہ عبدالعظیم حسنی کا مزار طہران میں مرجع خلائق ہے۔ امام حسن علیہ اسلام کے دو فرزند قاسم بن حسن اور عبد اللہ بن حسن کربلا میں شہید ہوئے۔ حسن مثنیٰ واقعہ کربلا میں زخمی ہوئے، تاہم بعد میں جانبر ہوگئے۔ حسن مثنیٰ کا عقد امام حسین علیہ السلام کی دختر فاطمۃ سے ہوا۔ آپ کی اولاد میں عبداللہ، ابراہیم اور حسن شامل ہیں، جو حسن مثلث کے نام سے معروف ہوئے۔ امام حسن علیہ السلام کی نسل میں بہت سے اکابر دین، علماء، صلحاء، عرفاء پیدا ہوئے۔ اس نسل کوثر کا فیض آج بھی جاری و ساری ہے۔ ذیل میں ہم اولاد امام حسن علیہ السلام میں سے چند ایک اعیان کا تبرکاً تذکرہ کریں گے، تاکہ اس نسل کی فیوض و برکات کا ایک گوشہ قارئین کی نذر کیا جاسکے۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
۱۔ سر سلسلۃ العلویہ، ابو نصر سہل، منشورات مطبعہ الحیدریہ نجف الاشرف، ۱۹۶۲، ص۴
۲۔ منتہی الامال، شیخ عباس قمی، موسسہ انتشارات ہجرت، ۱۳۷۷شمسی، ج ۱ ص۴۵۱
۳۔ عمدۃ الطالب فی انساب ال ابی طالب، احمد بن علی، مطبوعہ بلدۃ المعمورہ بمبئی، ۱۳۱۸ھ، ص ۴۷

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …