جمعرات , 19 ستمبر 2019

اسامہ بن لادن: القاعدہ کی نئی لیڈر شپ کہاں ہے؟

آٹھ سال پہلے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکی فوجیوں نے ایبٹ آباد میں ہلاک کیا تھا۔جس تنظیم کے وہ سربراہ تھے اسے دنیا کی سب سے خطرناک تنظیم قرار دیا جاتا تھا اور کہا جاتا ہے اس کے ساتھ ہزاروں جنگجو منسلک تھے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس ٹھوس مالی ذرائع بھی تھے۔لیکن تنظیم کے سربراہ کی موت اور دولت اسلامیہ کے منظر پر آنے کے بعد القاعدہ کی قوت ا ور اثرات میں کمی آئی۔

آج یہ گروہ کس قدر با اثر ہے اور اس سے عالمی سکیورٹی کو کس قدر خطرات ہیں؟
حالیہ برسوں میں دولت اسلامیہ شہ سرخیوں میں رہی ہے اور ایسے میں القاعدہ کی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ وہ خاموشی سے دوبارہ منظم ہوئی اور علاقائی گروہوں کے ساتھ الحاق کرنے لگی۔امریکہ کی قومی انٹیلیجنس نے خبردار کیا ہے کہ سینئیر القاعدہ لیڈر تنظیم کے نیٹ ورک دنیا بھر میں مربوط کر رہے ہیں اور مغرب اور امریکہ پر حملوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

حامیوں کے نیٹ ورک
امریکی فوجوں کی جانب سے ڈرون کارروائیاں اور پھر سنہ 2011 میں اس کے سربراہ کی ہلاکت اور پھر دولت اسلامیہ جیسے گروپ القاعدہ کے لیے ایک چیلنج تھے جس کے بعد اس نے اپنی تکنیک کو بدلا۔اس نے افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا میں اپنی شاخیں کھولیں۔ان کے حامیوں میں مقامی طور پر موجود چھوٹے شدت پسند گروپ ہیں جو کہ چھوٹی برادریوں میں موجود ہیں اور انھوں نے القاعدہ کی قیادت سے الحاق کر رکھا ہے۔

دولت اسلامیہ کے برعکس القاعدہ مقامی آبادیوں کو الگ نہیں کرتی اور وہ اس عمل میں بہت احتیاط برتتی ہے۔اب اس کی نئی حکمتِ عملی یہ ہے کہ یہ مقامی آبادیوں کے ساتھ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے پراجیکٹس میں مدد کرتی ہے۔سنہ 2013 میں القاعدہ نے ’جہاد` کے لیے جنرل گائیڈ لائینز دی تھیں جو کہ اس کی تنظیمی ریفارمز میں اہم تھیں۔

اس دستاویز کے مطابق دیگر نکات کے علاوہ اس پر زور دیا گیا تھا کہ عوامی انداز اپنایا جائے اور جنگجوؤں سے کہا گیا کہ ایسا انداز نہ اپنائیں جو لوگوں میں بدلے کے جذبات ابھارے۔پیمبروک کالج آکسفورڈ میں ڈاکٹر الزبتھ کینڈل کے مطابق القاعدہ نے مقامی سطح پر لوگوں کی شکایات جیسا کہ کرپشن یا پسماندگی کو نظر میں رکھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان مسائل کے حل میں وہ لوگوں کے لیے اچھے ’جہادی‘ اور نجات دہندہ بنے اور ایسے وہ لوگوں کے سامنے دولت اسلامیہ کی سفاکانہ کارروائیوں کے مقابلے میں مختلف شکل میں سامنے آئے۔

القاعدہ تیزی سے اپنے حملوں کو بڑھا رہی ہے
’آرمڈ کونفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ‘ کی جانب سے جمع کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2018 میں دنیا بھر میں القاعدہ کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی تعداد 316 تھی۔

القاعدہ کی شاخیں:
سنہ 2006 میں الجیریا میں موجود گروپ ’القاعدہ ان دی اسلامک مغرب‘ بنایا گیا۔ پھر ملکی فوجوں کی جانب سے اس کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا تو یہ گروپ ساحلی علاقوں اور مغربی افریقہ میں منتقل ہو گیا۔القاعدہ جزیرہ نما عرب سنہ 2009 میں یمن اور سعودی عرب کی دو مقامی جہادی نیٹ ورکس کی شاخوں سے مل کر بنی۔
ستمبر 2014 میں افغانستان، پاکستان، انڈیا، میانمار اور بنگلہ دیش میں القاعدہ کی ایک شاخ بنی جسے ’جنوبی ایشیا میں القاعدہ‘ کا نام دیا گیا۔

جماعت نصرت الاسلام والمسلمین بھی القاعدہ سے منسلک ایک جماعت ہے جو کہ مالی اور مغرب افریقہ میں موجود بہت سے شدت پسند گروپوں کے الحاق سے بنی ہے۔الشباب صومالیہ اور مشرقی افریقہ میں متحرک ہے۔ اس نے سنہ 2012 میں القاعدہ سے الحاق کیا۔

حیات تحریر الشام بہت سے شامی جنگجو گروپوں کے الحاق سے بنا ہے۔ یہ گروپ ادلب میں، جو کہ شام کا شمالی صوبہ ہے، متحرک تھے۔ اگرچہ اس شاخ کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ یہ تنہا ہے لیکن اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں اسے القاعدہ کے ساتھ منسلک قرار دیتے ہیں۔مصر میں القاعدہ اپنے اتحادی گروہوں کے ساتھ جزیرہ نما سینائی میں موجود ہے۔

مستقبل کی لیڈر شپ:
سنہ 2015 میں القاعدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری نے ایک نوجوان کو ’خطرناک‘ کہہ کر پکارا۔یہ نوجوان حمزہ بن لادن تھا جو کہ اسامہ بن لادن کا بیٹا ہے اور انھیں القاعدہ کا مستقبل کا لیڈر سمجھا جا رہا ہے۔امریکہ نے حمزہ کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے اور ان کے بارے میں معلومات دینے والے کو دس لاکھ امریکی ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

حمزہ کی عمر 30 برس ہے اور و ہ القاعدہ کی حامی ویب سائٹس پر ابھرتے ہوئے ستارے کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ان کے بارے میں یہ امید کی جارہی ہے کہ وہ اگلی نسل کے ’جہادیوں‘ کو متاثر کریں گے اور گروپ کو دوبارہ منظم کریں گے۔

حالیہ برسوں میں انھوں نے اپنے آڈیو اور ویڈیو پیغامات جاری کیے ہیں جن میں انھوں نے امریکہ اور ا س کے مغربی اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کی موت کا بدلہ لیں گے۔مارچ سنہ 2018 میں اپنے آڈیو پیغام میں حمزہ نے سعودی عرب کے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بادشاہت کے حلاف ’جہاد‘ کے لیے تیار ہو جائیں۔

شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں چیتھم ہاؤس کی سربراہ لینا خطاب کہتی ہیں کہ دولت اسلامیہ کی ’خلافت‘ کے خاتمے نے القاعدہ کو اپنے تکنیکی آپریشنز پر مزید غور کرنے کی جانب مائل کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ القاعدہ کا اب سٹریٹیجک لیڈر شپ پر زیادہ انحصار ہے اور اسامہ بن لادن کی جگہ لینے کے لیے حمزہ بن لادن کی مدد کی جا رہی ہے۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …