منگل , 25 جون 2019

بھارتی انتخابات: مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا امکان

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 7 مرحلوں میں ہونے والے عام انتخابات کے ایگزٹ پولز کے مطابق ایک مرتبہ پھر عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتی عام انتخابات کے نتائج کا اعلان 23 مئی کو کیا جائے گا تاہم تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی میں ایگزٹ پولز کے نتائج غلط بھی ثابت ہوئے ہیں۔خیال رہے کہ ’ایگزٹ پولز‘ کی اصطلاح سے ان نتائج کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو باقاعدہ اعلان سے قبل ووٹرز سے یہ پوچھ کر مرتب کیے جاتے ہیں کہ انہوں نے کسے ووٹ دیا۔

حالیہ انتخابات میں بی جے پی اور کانگریس پارٹی کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ طاقتور علاقائی جماعتوں سے بھی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تاہم بہت سے افراد نے ان عام انتخابات کو وزیراعظم مودی کا ریفرنڈم بھی قرار دیا۔واضح رہے بھارت میں حکومت بنانے کے لیے ایک جماعت یا مختلف جماعتوں کے اتحاد کو 272 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

اب تک کیے جانے والے 4 ایگزٹ پولز میں بی جے پی کی سربراہی میں قائم اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو کامیابی حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور امکان یہ ظاہر کی جارہا ہے کہ کامیابی کی صورت میں انہیں 280 سے315 نشستیں مل سکتیں ہیں جو کانگریس سے کہیں زیادہ ہیں۔تاہم نیلسن-اے بی پی نیوز کے کیے گیے سروے میں بی جے پی کے حصے میں 267 نشستیں آتی دکھائی دے رہی ہیں جو حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت سے بھی کم ہیں۔

اس پیش گوئی کے ساتھ یہ امکان بھی ہے کہ پارٹی کو ریاست اتر پردیش میں بری طرح شکست ہوسکتی ہے جہاں سے کسی بھی ریاست سے اراکین اسمبلی کی سب سے بڑی تعداد یعنی 80 اراکین راجیہ سبھا میں پہنچتے ہیں۔2014 کے انتخابات میں اتر پردیش سے بی جے پی نے 71 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن نیلسن اے بی پی سروے کے مطابق اس وقت وہ 2 طاقتور علاقائی جماعتوں کے مقابلے میں 51 نشستیں تک ہار سکتی ہے۔

بی جے پی کو اپنی جیت کا اتنا یقین ہے کہ سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے ایک کارٹون پوسٹ کیا جس میں نریندر مودی اپنے مخالفین کو پچھاڑتے ہوئے دکھ رہے ہیں۔دوسری جانب مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ مامتا بینرجی کا کہنا ہے کہ وہ ’ایگزٹ پولز اندازوں پر یقین نہیں رکھتیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس کھیل کے ذریعے ہزاروں الیکٹرنک ووٹنگ مشینوں میں ردو بدل کرنے یا انہیں تبدیل کردینے کا منصوبہ ہے، میں تمام اپوزیشن جماعتوں سے متحد رہنے کی درخواست کرتی ہوں، مضبوط اور ڈٹے رہیں، ہم اکٹھا یہ لڑائی لڑیں گے‘۔علاوہ ازیں کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے بھی ٹوئٹ کر کے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے سمجھوتہ کرلیا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت میں انتخابات کا آغاز 11 اپریل کو ہوا تھا جو سیکیورٹی اور انتظام و انصرام کی وجوہات کی بنا پر 7 مرحلوں میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔تقریباً 90 کروڑ ووٹرز کے ساتھ اسے دنیا میں جمہوریت کی سب سے وسیع مشق قرار دیا جارہا ہے۔

حالیہ انتخابات میں جو مسائل سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آئے ان میں بے روزگاری، اور بھارت کا مالی بحران کا شکار ہونے کا خوف شامل تھا۔نریندر مودی کی قیادت میں دنیا کی چھٹی بڑی معیشت کچھ حد تک اپنی ترقی کی رفتار کھو چکی ہے ، شرح نمو 7 فیصد جبکہ حکومتی رپورٹ کے مطابق بے روزگاری کی شرح 1970 کے بعد بلند ترین سطح پر ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سونا، غیر ملکی کرنسی کی برآمدگی کیلئے ایف بی آر کو گھروں پر چھاپے مارنے کا اختیار

اسلام آباد: مالی سال 20-2019 کے فنانس بل کی منظوری کے بعد فیڈرل بورڈ آف …