جمعہ , 20 ستمبر 2019

کیا امریکہ ایران پر حملہ کریگا؟

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

ایران امریکہ تعلقات کو دو مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ قبل از انقلاب ایران امریکہ تعلقات دو ریاستوں کی بجائے آقا اور غلام کے تعلقات کی طرح تھے، جو امریکہ کی خواہش ہوتی تھی، وہ تہران میں حکم کا درجہ رکھتی تھی۔ اسی طرح یہاں موجود امریکی بھی خصوصی مرتبے کے حامل تھے۔ وہ تہران میں دس قتل بھی کر دیتے تو ایرانی قانون ان پر لاگو نہ ہوتا تھا۔ اگر ان کو کوئی سزا وزا دینا بھی ہوتی تو اس کا فیصلہ خود امریکی کرتے تھے۔ ایران ہر اس معاہدے کا حصہ تھا جو امریکی مفاد کے لیے کیا جاتا، امریکہ کا دوست ایران کا دوست تھا اور امریکہ کا دشمن ایران کا دشمن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ کے زمانے میں ایران اور اسرائیل کے گہرے تعلقات تھے اور فلسطینیوں پر ایرانی سرزمین کے دروازے بند تھے۔ امریکہ ایران کو خطے میں اپنے ایک پولیس مین کے طور پر دیکھتا تھا، جس کے ذریعے عربوں کو ڈرایا جاتا تھا اور اس وقت کے معاہدات دیکھیں تو میزائل ٹیکنالوجی سے لیکر ایٹمی ٹیکنالوجی تک ہر چیز ایران امریکہ سے درآمد کر رہا تھا، جو چیزیں آج ایران بنائے تو اس پر بین الاقوامی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔

انقلاب اسلامی ایران کے ساتھ ہی ایران سے امریکی انخلاء ہوگیا اور ہر وہ جگہ جہاں پر ایران کے ذریعے سے امریکی مفادات کا تحفظ کیا جا رہا تھا، وہ خالی ہوگئی۔ مشرق وسطی میں اسرائیل امریکہ کی ایک بڑی انویسٹمنٹ ہے، جس کے ذریعے خطے کے ممالک کو کنٹرول کیا جاتا ہے، اس کو اسلامی جمہوریہ ایران کی شکل میں ایک حقیقی چیلنج درپیش ہوگیا۔ جہاں ہر کوئی اسرائیل سے خوفزدہ تھا، وہاں امام خمینی ؒ نے اسرائیل مردہ باد کا نعرہ لگا کر اس کے خلاف بات کرنے اور اس کو چیلنج کرنے کا آغاز کیا۔ اس ساری تمہید کا مقصد یہ تھا کہ قارئین ایران امریکہ تعلقات سے آگاہ ہو جائیں۔ امریکہ کب کسی ملک پر حملہ کرتا ہے؟ وہ کونسا ماحول ہوتا ہے؟ ملکی سیاسی حالات کیسے ہوتے ہیں؟ عوامی مزاج کیسا ہوتا ہے؟ یہ جاننے کے لیے امریکہ کی طرف سے کیے گئے پچھلے چند حملوں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ امریکہ نے گیارہ ستمبر کے بعد افغانستان پر حملے کا فیصلہ کیا، ویسے کافی عرصے امریکہ اس کی پلاننگ کر رہا تھا، مگر گیارہ ستمبر نے ایک بہانہ دے دیا۔

افغانستان میں امریکی حملے کے وقت وہ تمام ماحول موجود تھا، جو کسی ملک پر امریکی حملے کے لیے درکار ہوتا ہے، داخلی طور پر ملک دو طاقتور گروہوں میں تقسیم تھا اور ایک گروپ امریکی کاسہ لیسی کے لئے مکمل آمادہ تھا، اسی لیے امریکہ نے فضائی حملہ کیا اور اس گروپ کو متحرک کیا گیا اور بہت ہی تھوڑے عرصے میں افغانستان سے طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ پچھلی ڈیڑھ دہائی کے مسلسل ظلم و تشدد کے باوجود افغانستان کے غیور عوام کسی بھی طور پر امریکی تسلط قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ عراق پر امریکہ نے اس وقت حملہ کیا جب عراقی افواج کے بڑے بڑے جنرلز امریکہ کے ساتھ ملے ہوئے تھے، عوامی سطح پر صدام حکومت کے خلاف شدید نفرت موجود تھی، عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ اس قدر شدید تھا کہ کوئی بھی اس ظالم نظام کے تحفظ کے لیے لڑنے کو تیار نہیں تھا۔ جب عراقی وزیر اطلاعات بغداد میں پریس کانفرنسز کرکے بتا رہے تھے کہ سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے تو اس وقت امریکی افواج بغداد میں داخل ہو رہی تھیں۔ عوامی نفرت اپنی عروج پر تھی، اس کا اندازہ اس وقت بغداد میں صدام کے مجسموں کے گرائے جانے سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک اور اہم بات ہے کہ صدام حسین بہت دعوے کیا کرتا تھا کہ ہمارے پاس یہ اسلحہ ہے اور ہم یوں کر دیں گے، مگر امریکی جانتے تھے کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے، یہ فقط بڑھکیں مارتا ہے اور یہی ہوا، عراقی اسلحہ مٹی کا ڈھیر ثابت ہوا۔

لیبیا اور شام میں امریکی مداخلت کو بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں پر امریکی مداخلت ایک اور انداز میں کی گئی۔ عراق اور افغانستان پر حملوں اور قتل عام کے بعد امریکی عوام کے ردعمل کا خوف تھا، اس لیے یہاں حکمت عملی تبدیل کی گئی اور مقامی گروہوں کو مسلح کرکے ان ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ محدود تعداد میں ان دونوں ممالک میں فوجی دستے رکھے گئے اور وہاں موجود مزاحمتی تحریکوں پر اس طرح کا دباو رکھا گیا کہ وہ امریکی فورسز پر حملے نہ کریں اور جہاں دیکھا اب پیچھے ہٹ جانا چاہیئے، وہاں سے پیچھے بھی ہٹ گئے۔ امریکی وزیر خارجہ عراق کے دورے پر تشریف لے گئے، وہاں انہوں نے جو پریس کانفرنس کی کہ ہم نے مختلف معاملات پر بات کی، سرفہرست معاملہ عراق میں موجود امریکی افواج کے تحفظ کا تھا۔ اس بیان سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکہ ہر صورت میں یہ چاہتا ہے کہ اس کے سپاہی موجود تو رہیں، مگر مقامی لوگ ان کی حفاظت کے لیے جانیں دیتے رہیں اور یہ عجیب بات ہے کہ افواج تو لوگوں کے تحفظ کے لیے ہوتی ہیں اور امریکی وزیر خارجہ دوسروں سے فوج کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایران میں مندرجہ بالا چاروں ممالک کی طرح کی صورتحال نہیں ہے، نہ تو ایرانی حکومت کوئی کمزور حکومت ہے، جسے کسی جتھے یا گروہ کے ذریعے کوئی چیلنج درپیش ہوسکتا ہے اور نہ ہی زمین پر کوئی ایسی فورس موجود ہے کہ جونہی امریکی جہاز اڑیں، وہ زمین پر متحرک ہو جائیں۔ ایران میں ایک مضبوط نظریاتی حکومت اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط فوج موجود ہے۔ امریکہ مسلسل پابندیوں کے ذریعے ایران میں افرتفری کا ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے کہ کسی طرح لوگ حکومت کے خلاف ہو جائیں۔ ایسے حالات میں مشکلات ضرور ہوتی ہیں، مگر یہ سوچنا کہ اس طرح ایران قحط کا شکار ہو جائے گا یا اس کا مالی نظام مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، حقیقت سے دور تجزیہ ہے۔ یہ حالات ایران کے لیے نئے نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے ہیں کہ جن کا پہلے سے پتہ نہ ہو، بلکہ تمام ایرانی ادارے اس طرح کے حالات کے لیے مکمل تیار تھے اور اسی لیے وہ مناسب ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک لاکھ بیس ہزار امریکی فوج خطے میں بھیجنے کا اعلان کیا گیا ہے، ایران پر قبضہ کرتے ہوئے اگر دس بیس ہزار امریکی بھی مر گئے تو کیا امریکی رائے عامہ اس کو قبول کرے گی؟ ایران کا تمام اسلحہ دفاعی نوعیت کا ہے، اس لیے جیسے ہی ایران میں مداخلت ہوگی، اس کا شدید ردعمل آئے گا، اس کا اثر پوری دنیا پر ہوگا، تیل کی قیمتیں اس تیزی کے ساتھ اوپر جائیں گی کہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوگی۔ اسی لیے امریکہ یہ چاہے گا کہ پابندیاں لگا کر ایران کو مذاکرات کی میز پر لائے اور من پسند شرائط قبول کرائی جائیں۔ ایران کی پالیسی بڑی واضح ہے، جس کا اعلان رہبر معظم نے کر دیا کہ جنگ نہیں ہوگی اور مذاکرات ہم نہیں کریں گے۔ امریکہ کو قوموں کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آنا ہوگا اور اپنے ریاستی معاہدوں کی توہین بھی بند کرنا ہوگی اور دوسری ریاستوں کے معاہدوں کو بھی احترام دینا ہوگا۔ طاقت کے نشے میں دباو ڈال کر کہیں کہیں تو اپنے مفادات حاصل کیے جا سکتے ہیں مگر ہر جگہ نہیں۔ امریکہ کا تو بہت تجربہ ہے، وہ تو آٹھ سال تک صدام سے ملکر ایران سے لڑ چکا ہے، شائد اس سے سبق حاصل نہیں کیا گیا، اس لیے دوبارہ جنگ جنگ کا راگ الاپنا شروع کر دیا گیا ہے۔ جنگ تباہی لاتی ہے ، جنگ بربادی لاتی ہے اور یہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …