بدھ , 19 جون 2019

یورپ کے مالی ذخائر میں یہودیوں کا کردار

یورپ کے مقامی بادشاہ اور حکمران یہودیوں کی سودخوری کو اپنی درآمدوں کا اصلی ذریعہ سمجھتے تھے اور کھلے عام یا خفیہ طور پر وہ یہودیوں کے اس کام کو میدان دیتے تھے۔ جرمنی کے ایک حکمران کے بقول یہودی، بادشاہوں کے خزانے ہوتے تھے۔

رونامہ قدس کے مطابق، یہودیوں کے مغربی حکمرانوں سے گہرے تعلقات نویں صدی عیسوی میں اس وقت شروع ہوئے جب مقدس رومی سلطنت معرض وجود میں آئی۔ دسویں اور گیارہویں صدی عیسویں میں، مغربی حکمران یہودیوں کے لیے ایک خاص اہمیت کے قائل تھے اور یہودی اس دور میں قومی اور دھیرے دھیرے بین الاقوامی سطح کے معروف تاجر بن گئے۔ (۱)
روم کے بادشاہ ’ہینری چہارم‘ نے صلیبی جنگیں شروع ہونے سے چھے سال قبل سنہ ۱۰۹۰ میں ایک حکم کے تحت جرمنی کے مغربی شہروں میں رہنے والے یہودیوں کو تجارت کے میدان میں وسیع سہولیات فراہم کیں۔

جرمنی کے شہر ’ورمز‘ میں رہنے والے یہودیوں کو ایسے حیرت انگیز امتیازات دئے گئے تھے جو حتی عیسائیوں کو بھی حاصل نہیں تھے وہ سلطنت کی تمام حدود میں پوری آزادی کے ساتھ سفر کر سکتے تھے۔ ٹیکس اور کسٹم سے معاف تھے، پیسے کا لین دین اور منافع کا تعین سب انہیں کے ہاتھوں انجام پاتا تھا۔ دوسرے شہروں اور گاوں سے اشیاء خریدتے تھے اور اپنے نام سے بیچتے تھے۔ (۲)

مغربی حکمرانوں اور یہودیوں کا تال میل
یورپ کے مقامی بادشاہ اور حکمران یہودیوں کی سودخوری کو اپنی درآمدوں کا اصلی ذریعہ سمجھتے تھے اور کھلے عام یا خفیہ طور پر وہ یہودیوں کے اس کام کو میدان دیتے تھے۔ جرمنی کے ایک حکمران کے بقول یہودی، بادشاہوں کے خزانے ہوتے تھے۔(۳)۔

تاریخ عیسائیت کے طاقتور ترین پاپ ’اینوسن سوم‘ نے مغربی حکمرانوں کے نام اپنے ایک خصوصی خط میں ان کے کارناموں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا:
’’تمہیں سودخوری کرنے سے شرم نہیں آتی، یہودیوں کو اپنے شہروں میں دعوت دیتے ہو اور انہیں سودخوری کے آلہ کار بناتے ہو‘‘۔ (۴)

تیرہویں صدی عیسوی سے پیسے کے تبادلے میں یہودیوں کی سودخوری ایک رائج عمل بن گیا تھا۔ چودہویں صدی عیسویں کے پہلے حصے میں یہودیوں نے ۶۱ ہزار فلورین گولڈ شاہ انگلستان ’ایڈوارڈ سوم‘ کو قرضے کے طور پر دیا۔ (۵)

یہودیوں کو کلیسا کی سخت مخالفت کا سامنا
تیرہویں صدی میں، سودخواری کی بنا پر اقتصادی میدان میں یہودیوں کی سلسلہ وار سرگرمیاں یورپ کے اندر اس قدر پھیل چکی تھیں کہ ۱۲۳۰ میں کلیسا نے سخت مخالفت کرتے ہوئے سود خوری کے خلاف محاذ آرائی کی۔

کلیسا کی مخالفت کی وجہ سے ’شاہ سیسیل‘ نے ۱۲۳۱ میں، یہودیوں کے لیے حد اکثر دس فیصد سود کا اعلان کیا (۶) بعد از آں، فرانس کے بادشاہ ’لویی نہم‘ نے ۱۲۳۹ میں بطور کلی سودخوری کو ممنوع قرار دے دیا۔ (۷)

۱۲۴۴ میں آسٹریا کے بادشاہ نے اپنے احکامات کے تحت یہودیوں کے لیے سودخوری کی ایک حد معین کر دی۔ اطالوی بادشاہ جو یہودیوں سے قریبی تعلقات رکھتے تھے انہوں نے یہودیوں کے لیے ۲۰ فیصد منافع قرار دیا لیکن عملی طور پر ۳۳ سے ۴۳ فیصد تک سود یہودیوں کی جیبوں میں جاتا تھا۔(۸)

یہ سلسلہ بھی اس قدر پھیل گیا تھا کہ ۱۳۴۸ میں پاپ نے مجبور ہو کر بالکل سود کو ممنوع قرار دے دیا۔ لیکن تمام جد وجہد اور محاذ آرائیاں بے نتیجہ ثابت ہوئیں اور کچھ ہی عرصے کے بعد یعنی ۱۳۵۱ میں پاپ کا حکم نظر انداز کر دیا گیا(۹)

اس لیے کہ یورپ کے حکمرانوں نے پاپ کے خلاف مہم چلا دی اور بعد از آن یورپ کا معیشتی نظام بطور کلی یہودی ہاتھوں میں چلا گیا اور انہوں نے سود خوری کے مختلف طریقے اپنا کر پوری دنیا کی معیشت پر قبضہ کر لیا آج پوری دنیا کا اقتصاد گیند کی طرح یہودیوں کی انگلیوں پر ناچ رہا ہے۔ (۱۰)۔بشکریہ روزنامہ قدس نیوز

یہ بھی دیکھیں

سوشل میڈیا اور اسکے خطرات

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور فہیم انسان انہی …