بدھ , 19 جون 2019

حکومت یا ملک کا آخری قرض؟

نو ماہ کے تساہل، تغافل، تذبذب اور ٹوٹتے بنتے مذاکرات کے بعد آخرکار آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کی ایک اور قسط دینے پر آمادگی ظاہر کر ہی ڈالی۔ چھ ارب ڈالر کا یہ قرض تین سال میں مختلف اقساط کی صورت میں ملے گا اور قرض کی ہر قسط ہمیشہ کی طرح اچھے چال چلن اور اعلیٰ کارکردگی اور ہدایات نامے پر دیانتداری سے عمل پر مشروط ہوگی۔ یہ نو ماہ پاکستان کے ایک ایسے وزیر خزانہ کو چاٹ گئے جسے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی کا مدارالمہام سمجھا گیا تھا۔ چھ ملین ڈالر کی یہ رقم پاکستان کے معاشی دکھوں کا درماں، مسائل کا حل اور عارضوں کا علاج تو ہرگز نہیں مگر اس سے ملکی معیشت کو کچھ اعتبار اور قرار ملے گا اور دنیا پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف سنجیدگی سے متوجہ ہوگی۔ اس کیساتھ ہی کئی دوسرے مالیاتی ادارے بھی پاکستان کیساتھ مالی تعاون کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ آئی ایم ایف کی اس آمادگی کے بعد معیشت کا رُکا ہوا پہیہ چل پڑنے کی ایک موہوم سی اُمید بندھ چلی ہے۔ مشیر وزارت خزانہ حفیظ شیخ نے سرکاری ٹی وی پر آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ طے پانے کی خوشخبری سنائی اور اس کے بعد یہ خبر پورے میڈیا کی بریکنگ نیوز بن کر تبصروں اور تجزیوں کا موضوع بن گئی۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے معاہدے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ بجلی میں امیروں کی سبسڈی ختم کریں گے جبکہ غریبوں پر کم ازکم بوجھ ڈالیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی کچھ شرائط ہمارے لئے بہتر بھی ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری قرض ہوگا۔

اس سے پہلے سابق وزیر خزانہ بھی قرض کی اس قسط کو آخری پروگرام کہتے رہے ہیں۔ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں نے آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ طے پانے پر زیادہ خوشی کا اظہار نہیں کیا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو آئی ایم ایف کے ہاں گروی رکھ دیا گیا۔ ان کا پرزور مطالبہ ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ ہونے والے معاہدے کو پارلیمنٹ میں زیربحث لایا جائے۔ آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ طے ہونے پر منقا زیر پا دو جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا المیہ یہ ہے کہ وہ اس وقت حکومت کی بہت اچھی اپوزیشن ثابت ہو سکتی ہیں، ماضی میں وہ میثاق جمہوریت کی ڈور میں بندھے ہونے کے باعث اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ہونے والی مفاہمتی سیاست کے غیرتحریری معاہدے میں شریک ہونے کے باعث ایک دوسرے کی اچھی اپوزیشن نہیں بن سکیں اور اس خیر سگالی نے تیسرے فریق کیلئے زمین ہموار کی تھی۔ وہی تیسرا کھلاڑی آج پہلا کھلاڑی بن کر حکومت میں کھیل رہا ہے۔ ان جماعتوں نے اپنے اپنے ادوار میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے عہدیدار مستعار الخدمت بھی لئے اور آئی ایم ایف سے قرض بھی بخوشی وصول کئے اور ان قرضوں اور ان کے معاہدوں اور ضمانتوں کی ہوا بھی کبھی پارلیمنٹ کو نہیں لگنے دی۔ اس بار کچھ بھی نیا نہیں ہوا سوائے کچھ جزوی معاملات کے باقی سب ایک مضبوط روایت اور برسہا برس سے لکھے ہوئے مسودے کے عین مطابق ہوا، فرق صر ف یہ ہے کہ انہیں پاکستان میں سول بالادستی کے غم میں گھلنے والی عالمی اسٹیبلشمنٹ کی نظرکرم حاصل ہونے کی وجہ سے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

اس کے برعکس موجودہ حکومت کو قطعی مخاصمانہ عالمی فضاء میسر آئی ہے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کو اندازہ بھی ہے اور گلہ بھی کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ان کی کلائی مروڑ کر موجودہ تبدیلی کو یقینی بنایا ہے وگرنہ تو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی پسند میثاق جمہوریت کے اوراق کے اندر ہی کہیں موجود تھی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ امریکہ نے قرض دینے کیلئے آئی ایم ایف کو ماضی کے برعکس رویہ اپناتے ہوئے کوئی سفارش نہیں کی بلکہ ٹرمپ نے موجودہ حکومت بنتے ہی آئی ایم ایف کو دھمکانے کے انداز سے کہا تھا کہ چینی قرض اتارنے کیلئے پاکستان کو آئی ایم ایف کی طرف سے قرض کی مخالفت کریں گے۔ اس صورتحال میں آئی ایم ایف کے پاس چار دن پہلے اور بعد میں جانے سے کچھ زیادہ فرق پڑنا تھا نہ پڑا۔ آئی ایم ایف کے بگڑے ہوئے تیور دیکھ کر ہی پاکستان نے دوست ملکوں کی مدد حاصل کرکے آئی ایم ایف کے در کے طواف سے بچنے کی کوشش کی تھی۔ امریکہ نے دوست ملکوں کو بھی تعاون میں ایک حد سے نہ بڑھنے کا اشارہ دیا تھا۔ اس نامہرباں موسم اور رُت میں آئی ایم ایف کے قرض کا جو بادل ہماری معیشت کی بنجر زمین پر برسا ہے وہ بہار لانے کیلئے نہیں بلکہ سیلاب اور فلڈ برپا کرنے کی قوت وصلاحیت کا حامل بھی ہے۔

اس فضاء میں آئی ایم ایف سے عوام دوست بجٹ کی توقع عبث تھی۔ معاشی حالات کی بہتری کی کوششوں کو ناکام بنانے کی درپردہ مہم میں ’’حکومت بنا تو لی اب چلا کر دکھاؤ‘‘ کے چیلنج کا انداز بھی مستور تھا۔ اس ماحول میں قرض کی قسط تو حاصل ہو گئی مگر حکومت کے اصل امتحان کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے عالمی مالیاتی ادارے ’’اقتصادی غارت گر‘‘ اکنامک ہٹ مین کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ انہیں سیاسی جماعتوں کے منشور اور عوام سے کئے گئے وعدوں کی پرواہ ہوتی ہے نہ وہ کسی ملک کے عوام سے رشتہ داری اور ہمدردی رکھتے ہیں۔ ایک ٹھیٹ بنیے کی طرح انہیں اپنی رقم سے، اس کے سود سے اور قسط کی واپسی سے دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ اپنے پروگرام پر عمل درآمد میں دلچسپی رکھتے ہیں خواہ اس سے عوام کا معاشی کچومر ہی کیوں نہ نکلے۔ یونان کے معاشی بحران میں عالمی مالیاتی ادارے یہی کردار دکھا چکے ہیں۔ مصر میں بھی یہ عوام کی چیخیں نکال چکے ہیں۔ آئی ایم ایف کی مثال ایک بے رحم جراح کی ہے جو مریض کا علاج اپنے نشتر سے کرتا ہے۔ آئی ایم ایف کے اس زہر کو تریاق میں کیسے بدلا جا سکتا ہے؟ موجودہ حکمرانوں کا اصل امتحان ہے۔ یہ کہنا کوئی بڑی بات نہیں کہ یہ موجودہ حکومت کا پہلا اور آخری قرض ہے مزہ تو جب ہے کہ یہ پاکستان کا آخری قرض ہو۔ حکومتوں کے اپنے دن گزارنے کیلئے تو آئی ایم ایف کا ایک بلکہ آدھا پروگرام ہی کافی ہوتا ہے مگر ملک کا عارضہ اپنی جگہ قائم اور موجود رہتا ہے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

سوشل میڈیا اور اسکے خطرات

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور فہیم انسان انہی …