ہفتہ , 21 ستمبر 2019

امریکہ صہیونیت کے چنگل میں

(محمد اسلم خان)

شیطانی صہیونی دماغ بدمست امریکی ہاتھی کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے اب خود امریکہ میں اعلیٰ ترین دانشوروں میں یہ احساس زبان پارہا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو دوستی کی شراب پلا کر دراصل دشمنی کی ہے اور ساری دنیا میں اپنے مفادات کیلئے چارے کے طورپر استعمال کیا ہے اور یہ سلسلہ اب رکنا چاہئے کیونکہ اسکے نتیجے میں پوری دنیا میں امریکہ کیلئے سنگین ترین مسائل پیدا ہوچکے ہیں۔ عراق کے بعد اب ایران سے جنگ آزمائی کا امریکہ کو سراسر نقصان اور اسرائیل کے فائدے میں ہے۔ اسرائیل شاطر دماغوں کے مقابلے میں ایرانی روحانی رہبر سید علی خامنہ ای نے مسکراہٹ کے ساتھ امریکیوں کی دھمکی کی دھجیاں اڑادیں کہ مطمئن رہو جنگ نہیں ہوگی کہ امریکی جنگ کے نتائج بارے بخوبی آگاہ ہیں۔یہ فلپ گیرالڈی سی آئی اے کے سابق انسداد دہشت گردی اور ملٹری انٹیلی جنس کے ماہر افسر رہے ہیں۔ وہ بین الاقومی سلامتی اور انسداد دہشتگردی کے موضوع پر عالمی سند کے طورپر معروف ہیں۔ اب وہ کالم لکھتے ہیں وہ انٹیلی جنس ماہرین کی ایسی تنظیم کے بھی بانی ہیں جو جنگ سے بچائو اور دانائی کی بنیاد پر فیصلوں کے فروغ کیلئے کام کرتی ہے۔ وہ اٹھارہ سال تک سی آئی اے میں کام کرتے رہے اور یورپی تاریخ میں یونیورسٹی آف لندن سے پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے خصوصی تعلقات کے ازسرنو تخمینے کیلئے ’نیشنل سمٹ‘ سے خطاب کرتے ہوئے انکے انکشافات آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہیں۔ اس اہم فورم سے خطاب میں وہ ببانگ دہل کہتے ہیں کہ ’’اسرائیل نہ صرف امریکہ کا اتحادی نہیں بلکہ درحقیقت یہ امریکہ کا دوست بھی ہرگز نہیں، یہ امریکہ کو تباہ کررہا ہے۔اس مقصد کیلئے اسرائیل امریکی کانگریس اور میڈیا کی بے محابہ طاقت ورسائی کوایسی پالیسیوں کی تشکیل کیلئے استعمال کررہا ہے جو نہ امریکہ کیلئے اچھی ہیں اور نہ ہی خود اسرائیل کیلئے مفید ہیں۔ آپ نے یہ ضرب المثل تو سن رکھی ہوگی کہ ایک دوست دوسرے دوست کو نشے کی حالت میں گاڑی چلانے نہیں دیتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ نشے کی حالت میں گاڑی چلارہا ہے، اس خطرناک عادت کی حوصلہ افزائی کسی حد تک اسرائیل اوراسکے واشنگٹن میں موجود دوستوں نے کی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اسرائیل عراق میں تباہ کن امریکی مداخلت کا بنیادی سہولت کار نہ ہو لیکن یہ ناقابل تردید سچائی ہے کہ اسرائیلی حکومت کے نہایت قریب امریکی حکام پس پردہ یہ جنگ بھڑکانے کے ذمہ دار تھے۔ اس میں جو جعل سازی پر مبنی ناقص انٹیلی جنس تھی، اس میں ان کا کردار تھا جس کی بناء پر جنگ کا جواز بنایاگیا۔‘‘

فلپ گیرالڈی مزید کہتے ہیں ’’مستقبل قریب میں اگرامریکہ ایران سے جنگ کرتا ہے تواس کی وجہ یہ نہیں ہوگی کہ تہران امریکہ کیلئے حقیقتاً کوئی خطرہ ہے بلکہ اس کی وجہ اسرائیل ہوگا اور اسرائیل کی امریکہ میں موجود طاقتور وہ لابی ہوگی جو مصنوعی تاثر پر مبنی وہ جواز بنانے اور اس پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہوگی جس سے جنگ ہوسکے۔‘‘

مزید انکشافات جاری رکھتے ہوئے وہ تجزیہ کرتے ہیں کہ ’’وزیراعظم نیتن یاہو کا یہ تبصرہ تھا کہ نائن الیون (امریکہ میں عمارتوں سے جہاز ٹکرانے کا واقعہ) اسرائیل کیلئے اچھا تھا۔وہ متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ہماری حکومت امریکہ کیلئے ایسی سرخ لکیریں لگاتی ہے جس سے وہائٹ ہائوس کیلئے فیصلہ کرنے کی گنجائش کم ہوجاتی ہے اور ڈی فیکٹو طورپر درکار ہوتا ہے کہ ایران کیخلاف فوجی کاروائی کی جائے۔‘‘ اْنہوں نے اس شیطانی چنگل کی مزید جہات واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ’’اس اثناء کانگریس ایسی قانون سازی کرتی ہے جس سے امریکہ پابند ہوجاتا ہے کہ وہ اسرائیل کے یک طرفہ فوجی اقدام کی حمایت میں فوجی مداخلت کرے۔ یعنی یہ فیصلہ اسرائیل نے کرنا ہوتا کہ امریکہ کس کے ساتھ جنگ کریگا اور کس کے ساتھ جنگ نہیں کرے گا۔‘‘

سی آئی اے کے سابق افسر کی ہوشربا کہانی گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مترادف ہے جسے نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ اْنکے مطابق ’’امریکہ کا جو تعلق اسرائیل کے ساتھ ہے وہ کسی اور ملک اور قوم کے ساتھ نہیں۔ اسرائیل کو ڈالر میں خصوصی مالی معاونت فراہم کرنے کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ کسی اور ملک اور قوم کو اس نوع کی مالی معاونت کی فراہمی کی اور کوئی مثال موجود نہیں۔ کانگریس نے حال ہی میں امریکہ اسرائیل سٹرٹیجک شراکت داری ایکٹ منظور کیا ہے، جس میں اسرائیل کو ویزا استثنیٰ دیاگیا ہے۔ اسرائیلی آزادانہ طورپر امریکہ آجاسکیں گے لیکن مزے کی بات ہے کہ اسرائیلی حکومت کسی امریکی شہری کو ویزا دینے سے انکار کرنے کی مجاز ہوگی۔یہ وہ استحقاق ہے جو کسی اور ملک کو نہیں دیاگیا۔کانگریس کے ایک رکن نے تو حال ہی میں یہ بل بھی پیش کیا کہ ایسی کسی بھی تنظیم کے فنڈز روک دئیے جائیں جو اسرائیل کا بائیکاٹ کرتی ہو۔‘‘ وہ یہ بھی انکشاف کرگئے کہ ’’اسرائیل امریکی انتخابات میں مداخلت کرتا ہے، سب سے تازہ مثال مٹ رومنی کی ہے، اس نے ہماری کانگریس کو بدعنوان بنایا ہے۔ اسکے سربراہ نے ہماری ریاست کے سربراہ کے خلاف کھلم عام ہرزہ سرائی کی ہے۔ حکومتی وزراء اور حکام جان کیری اور انٹیلی جنس افسران کا سرعام مذاق اڑاتے ہیں۔‘‘

ان کا یہ بھی اصرار ہے کہ امریکہ کی اسرائیل کی جانب سے مسلسل جاسوسی کی جاتی ہے، اس لئے اسرائیل کو امریکی مالی معاونت فراہم نہیں ہونی چاہئے۔ گرانٹ سمتھ نے بیان کیا ہے کہ اسرائیل کے دوستوں نے کیسے افزودہ یورانئیم پینسلوینیا ریفائنری سے چرایا اور جوہری تباہی کا سامان مہیا کیا۔ اسرائیل میں پیدا ہونیوالے ہالی ووڈ فلم پروڈیوسر ایرن ملچن کے بارے میں حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ کیسے اس نے آٹھ سو جوہری ٹریگرز غیرقانونی طورپر خریدنے میں کردار ادا کیا۔ ملچن کو ایف بی آئی کی کسی مداخلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور حال ہی میں آسکر ایوارڈ بھی دلوادیاگیا۔

اسی اسرائیلی منصوبہ سازی اور امریکہ کو استعمال کرنے کی کہانی کا ایرانی رہبر اعظم نے ایک اور لطیف پیرایہ میں جواب دیا ہے۔ ایران کے آیت اللہ اور رہبر اعظم(سپریم لیڈر) کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز سید علی حسینی خامنہ ای نے جو تبصرہ کیا وہ بھی بے حد دلچسپ، سبق آموز، اسرارورموز کی بے پناہ گہرائی لئے ہوئے ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’جنگ نہیں ہوگی کیونکہ جنگ دوطرفہ ہوتی ہے، ایک طرف ہم ہیں او ردوسری طرف وہ ہیں۔ ہم تو جنگ شروع نہیں کرینگے، ہم نے کبھی بھی کوئی جنگ شروع نہیں کی ہے۔ امریکہ بھی اس جنگ کو شروع نہیں کریگا کیونکہ امریکہ گمان رکھتا ہے، وہ بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ اگر وہ کسی جنگ کو شروع کرینگے تو وہ سوفیصد انکے نقصان میں ختم ہوگی۔ جمہوری اسلامی اور ایرانی ملت وہ مجموعہ ہے کہ جو کوئی بھی اس پر حملہ کرے، ممکن ہے ایک ضرب لگادے لیکن بڑی ضرب خود ان کو لگے گی، جس طرح کہ اب تک ایسا ہی ہوا ہے، امریکیوں نے ایک مرتبہ یہاں طبس میں حملہ کیاتھا، آپ کو یاد ہے کہ خود کو نجس کرکے یہاں سے چلے گئے تھے۔ درست ہے کہ بعض چیزوں کو وہ نہیں سمجھتے ہونگے لیکن اتنے بھی بے وقوف نہیں ہیں کہ نہ سمجھیں۔ جنگ نہیں ہوگی، مطمئن رہیں۔‘‘

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …