بدھ , 19 جون 2019

ایران پر بڑھتا امریکی دباؤ

(رانا زاہد اقبال)
ایران امریکہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے کرۂ ارض کی سلامتی کے حوالے سے دنیا کے اکثر ممالک تشویش میں مبتلا ہیں۔ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور نوبت جنگ تک پہنچی تو تمام عالمی طاقتیں اور دنیا کے اکثر و بیشتر ممالک کسی نہ کسی درجے میں حالات کے تقاضوں کے باعث اس کا حصہ بن کر رہیں گے۔ جس سے دنیا کے بڑے پیمانے پر افراتفری اور تباہی کا شکار ہونے کا سنگین خطرہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری بیڑے اور جنگی آلات مشرقِ وسطیٰ منتقل کئے ہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی انٹیلی جنس ادروں نے بتایا کہ ایران نے امریکی معاشی پابندیوں کے جواب میں خطے میں موجود اپنی فورسز کو امریکی فوج اور امریکی مفادات پر حملوں کی ہدایت کی ہے۔ امریکہ ایران کے ساتھ اس وقت نفسیاتی اور ابلاغی جنگ کے مرحلے میں اور دونوں ایک دوسرے کیخلاف اشتعال انگیز بیانات داغ رہے ہیں۔ امریکی حکومت نے ایران کی پیٹرولیم مصنوعات پر پابندیاں عائد کر دی تھیں جس سے تیل کی عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی سپلائی صفر ہو گئی۔ ایرانی صدر روحانی کے مطابق امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے معاشی صورتحال کو ماضی کی عراق کے ساتھ جنگ کے دوران معاشی حالات سے ابتر بنا دیا ہے۔

2015ء میں اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے پانچ رکن ممالک اور جرمنی نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کئے تھے جس کے تحت ایران نے نیوکلیائی پروگرام محدود کرتے ہوئے بین الاقوامی مبصرین کو دورے کی اجازت دینے کی آمادگی ظاہر کی تھی بدلے میں عائد پابندیوں میں کچھ نرمی کی گئی تھی۔ پچھلے سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر ایک بار پھر پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے ردِ عمل میں ایران نے اشارہ دیا کہ اگر معاہدے میں شامل دیگر فریق بھی امریکہ کے ساتھ ملے تو وہ اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کر دے گا۔ یہی خطرہ تھا جس کی بناء پر مغربی ممالک ایران سے معاہدہ کرنے پر تیار ہوئے تھے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایران پر پابندیاں عائد کی گئیں تو وہ مطلوبہ ایٹمی مواد کے خفیہ طور پر حصول میں آزاد ہو جائے گا جو کہ مغربی ممالک کے لئے زیادہ خطرے کا موجب ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ وہ ایران کو نیا معاہدہ کرنے پر مجبور کرے جس میں نہ صرف ملک کا جوہری پروگرام بلکہ بیلسٹک میزائل پروگرام بھی شامل ہو کیونکہ امریکی حکام کے مطابق اس سے مشرقِ وسطیٰ کو خطرہ ہے۔

جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے ہے کہ ایران کا ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا انتہائی خطرناک ہے تو اس کا اصل مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت مسلمان ملکوں کی سامراجی غلامی سے نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تیل اور گیس سمیت وہ قدرتی وسائل جس کی اجارہ داری پر مغرب کی خوشحالی کا دارومدار ہے یعنی مسلمانوں کے وسائل کو کوڑیوں کے مول حاصل کر کے اپنی معیشت اور فوجی طاقت بڑھاتے رہو اور دوسری طرف مسلمان اپنی غریبی کے ہاتھوں اس قدر معاشی اور فوجی طور پر کمزور رہیں کہ وہ کبھی بھی سامراجی غلامی کے چنگل سے نہ نکل سکیں۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا اتنا آسان نہیں ہے۔آج ایران کی صورتحال ہمارے سامنے ہے کیسے امریکہ اور یورپ نے پچھلی کئی دہائیوں سے ایران کا جینا دو بھر کیا ہوا ہے جو ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر پر بھی قبضہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت امریکہ سمیت یورپ کو بھی توانائی کے بحران کا سامنا ہے جب کہ توانائی کے اصل ذخائر روس کے علاوہ مسلم ممالک کے پاس ہیں یا پھر ان ممالک کے پاس ہیں جو امریکہ کی جارحانہ اور دوسرے ملکوں کے وسائل پر قبضہ کرنے کی پالیسیوں کے مخالف ہیں ۔ اسوقت دنیا کے 44 ایسے ممالک ہیں جن کے پاس تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ جب کہ 24 ایسے ممالک ہیں جن میں مسلم ممالک سر فہرست ہیں جن کے تیل اور گیس کے ذخائر سو سال میں بھی ختم نہیں ہوں گے جب کہ ایران ، روس کے بعد وہ واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس زیادہ دیر تک رہنے والے تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں اور امریکہ ان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اب تو یہ بات تقریباً واضح ہو گئی ہے کیونکہ ایران کا 6 ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ معاہدہ اچھا خاصا چل رہا تھا جس میں سے امریکی صدر نے اپنے ملک کو نکال لیا اس سے تو یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسی ذہنی کیفیت کے آدمی کو لایا ہی اسی لئے گیا تھا کہ پشت پر بیٹھے لوگوں کے مفادات کے لئے کام کرے اور ایران سے نیوکلئیر پروگرا م کے حوالے سے ڈو مور تو محض ایک بہانہ ہے۔

حالانکہ یہ سب بخوبی جانتے ہیں کہ ایران نے این پی ٹی پر 1968ء میں دستخط کر دئے تھے۔این پی ٹی پر دستخط کرنے کے باوجود امریکہ ایران کو پسند ہی نہیں کرتا ہے اسی لئے وہ اس سے کشیدگی کم ہونے ہی نہیں دیتا ہے۔ امریکہ تو یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ایران کو باقی دنیا سے کاٹ دیا جائے لیکن ایران اپنے اصولی مٔوقف پر ڈٹا ہوا ہے۔ ایران وہ واحد اسلامی ملک ہے جس کے عوام اور حکومت اپنے قومی مفادات کے پیشِ نظر متحد ہیں اور ایک طرح کے خیالات رکھتے ہیں کسی بیرونی دنیا کے آلۂ کار بن کر اپنے ملک کو نقصان نہیں پہنچاتے ہیں۔ عوام اور حکومت کے مابین اس غیر معمولی اتحاد کی وجہ سے امریکہ ابھی تک اس پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کر سکا۔ یہاں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل واحد ایٹمی طاقت ہے جو جو لگ بھگ برطانیہ کی ایٹمی قوت کے ہم پلہ ہے یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی ریاست گزشتہ 7 دہائیوں سے اپنی زبردست عسکری صلاحیت اور غیر مرئی ایٹمی قوت کے بل بوتے پر فلسطین سمیت خطے کے دیگر ممالک پر اپنی طاقت اور جبر کا کھلا اور وحشت ناک مظاہرہ کرتی آئی ہے۔ اسرائیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی طاقت اور پرتشدد پالیسیوں کی وجہ سے اس خطے کا کوئی ملک خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا۔ اس پس منظر میں اگر ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر اصرار کرتا ہے تو کیا غلط ہے۔ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ امریکہ ایران پر دباؤ ہی بڑھائے گا حملہ نہیں کرے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس نے ایران پر حملہ کیا تو ردِ عمل کے طور پر ایران پوری شدت سے اسرائیل کو نشانہ بنائے گا اس کے علاوہ اسرائیل کے اطراف سے جہادی تنظیموں کی یلغار بھی اسرائیل کی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان حالات میں یورپی ممالک امریکہ کو ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی بجائے مزاکرات کی راہ اپنانے کا کہہ رہے ہیں۔ پھر بیشتر امریکی اس اقدام کو بھی نا مناسب خیال کرتے ہیں کہ کسی ملک پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔ امریکی دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی اکثریت ڈونلڈ ٹرمپ کی پرتشدد پالیسیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان حلقوں کا خیال ہے کہ امریکہ کو قانون سے بالا تر قوت تصور نہیں کرنا چاہئے اور کسی بھی ملک کو حملہ کر کے تباہ کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سوشل میڈیا اور اسکے خطرات

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور فہیم انسان انہی …