جمعرات , 19 ستمبر 2019

ڈالر کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 9 روپے سے زائد اضافہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹر فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے بعد ڈالر کی قیمت میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 9 روپے 60 پیسے کا اضافہ ہوا ہے جس کا براہ راست اثر ملکی قرضے پر پڑ رہا ہے۔آج کاروباری روز کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ایک مرتبہ پھر تنزلی دیکھنے میں آئی۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر تقریباً 3 روپے اضافے کے بعد تاریخ کی نئی بلند ترین سطح 154 روپے پر پہنچ گیا تھا تاہم دن کے اختتام پر یہ قدر واپس 153.50 روپے ہوگئی۔

اسی طرح انٹربینک میں اس کی قدر بڑھ کر 151.50 روپے تک پہنچ گئی۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں استحکام نہیں آئے گا تب تک مارکیٹ میں اس حوالے سے بے یقینی کی صورتحال برقرار رہے گی۔تاجر برادری کا کہنا ہے کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے روپے کی قدر علیحدہ علیحدہ لگائی جارہی ہے جبکہ ڈالر کی خریداری کے دوران بینکس اس کی قدر میں اضافہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے درآمدات کے معاہدے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ 4 روز کے دوران ڈالر کی قدر میں 9 روپے 60 پیسے کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اس کی وجہ سے پاکستان کے قرضے میں ایک ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز کاروباری دن کے اختتام تک انٹربینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 152 روپے ہوگئی تھی۔اسی طرح اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس کا آغاز 151 روپے کے ساتھ ہوا تھا تاہم اس کا اختتام 152.50 پر ہوا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ایف بی آر نے درآمد شدہ موبائل فونز پر ریگولیٹر ڈیوٹی میں 50 فیصد تک کمی کی تجویز پیش کردی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں موبائل صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف …