ہفتہ , 20 جولائی 2019

بلٹ پروف گاڑیوں کا استعمال، نیب کو نواز شریف سے تفتیش کی اجازت

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد کی احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد نواز شریف سے 20 بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں کو ذاتی استعمال میں رکھنے سے متعلق تفتیش کی اجازت دے دی۔نیب نے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ ان کے تفتیشی افسر کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے تفتیش کی اجازت دی جائے، جسے منظور کرلیا گیا۔

خیال رہے کہ حکومت نے 2016 میں جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون (سارک) کے اجلاس کے لیے 34 بلٹ پروف گاڑیاں درآمد کیں تھیں، مذکورہ اجلاس میں نریندر مودی نے شرکت سے انکار کردیا تھا۔نیب کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے مطابق سرکاری کاروں کا غیر قانونی استعمال کیا گیا اور 34 میں سے 20 کاریں نواز شریف کے ذاتی استعمال میں رہیں جو قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔اس حوالے سے نیب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد اور سابق سیکریٹری خارجہ سے تفتیش کرچکا ہے۔نیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے اہل خانہ نے سرکاری بلٹ پروف گاڑیوں کا غیر قانونی طور پر استعمال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذکورہ گاڑیاں سارک اجلاس میں شرکت کرنے والے غیر ملکی مہمانوں کے لیے جرمنی سے درآمد کی تھیں۔گزشتہ برس 6 جولائی کو جب احتساب عدالت نے نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کی سزا معطل کرکے انہیں ضمانت دے دی تھی۔

جس کے بعد اسی سال 24 دسمبر کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ ایک ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر علیحدہ علیحدہ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔تاہم احتساب عدالت نے نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں شک کی بنیاد پر بری کردیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

وزیر اعظم کا کلبھوشن یادیو پر عالمی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم

وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عالمی عدالتِ انصاف …