بدھ , 19 جون 2019

21 مئی، 68 سالہ پاک چین دوستی کا تاریخی دن

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان اور چین نے اپنے دوستی کے سفر کا آغاز 21 مئی 1951 سے کیا، یہ رشتہ وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتا رہا اور آج 68 برس گزرنے کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان مثالی دوستی قائم ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان سن 1947 میں قائداعظم کی قیادت میں آزاد ہوا جبکہ چین 1949ء میں ماؤزے تنگ کی سربراہی اور اُن کے لانگ مارچ کے ثمرات کے نتیجہ میں آزاد ہوا۔

سن 1949ء میں چین کی آزادی کے ساتھ ہی پاکستان اور چین کے تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہو گئے تھے۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک تھا جس نے نے چین کی آزادی کو سب سے پہلے تسلیم کیا یہی سے دونوں ممالک کے درمیان رشتے استوار ہونا شروع ہوئے۔

دونوں ممالک کے مابین قائم ہونے والے رشتے کے حوالے سے سربراہان کی سطح پر تہنیتی پیغامات جاری ہوئے، چینی وزیراعظم یوبیان نے اپنی قوم کو بتایا تھا کہ اگر وہ چین سے پیار کرتے ہیں تو پاکستان سے بھی اُسی طرح پیار کریں اسی طرح پاکستانی وزیر اعظم نے بھی دنیا کو بابنگ دہل بتایا تھا کہ ’پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ کی بلندی سے بھی اونچی ہے‘‘۔

پاکستان اور چین ایک دوسرے کے ساتھ معاشی، اقتصادی، اسلحہ اور توانائی سمیت دیگر منصوبوں پر تعاون کرتے رہتے ہیں۔ چین کے اشتراک سے پاکستان میں اقتصادی راہداری کا سب سے بڑا منصوبہ ’’سی پیک‘‘ جاری ہے جو پاکستان کی تقدیر کو بدل دے گا، اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے بھارت سمیت دیگر ممالک سے سازشیں کیں مگر دونوں ممالک کی قیادتوں نے مل کر دشمن کے عزائم کو ہمیشہ خاک میں ملایا۔

پاکستان پر جب بھی آزمائش کا وقت پڑا چین سے سب آگے بڑھ کر مدد کی، 1965 میں جب بھارت نے دراندازی کی کوشش کی تو چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کی اور دوستی کا حق نبھایا جس کی وجہ سے بھارت کے خواب چکنا چور ہوئے اور اُسے شکستِ فاش سے دوچار ہونا پڑا۔

اسی طرح 1971 میں جب بھارت نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنیوں کو ورغلا کر بنگلا دیش کو پاکستان سے علیحدہ کروایا تو چین اُس کے بعد بھی پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوا اور نازک صورتحال سے نکالنے میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا جس کے بعد دونوں ممالک اور بھی قریب آگئے۔حیران کن طور پر جب 1949 میں چین آزاد ہوا تو امریکا اور چین کے تعلقات کشیدہ تھے البتہ پاکستان نے کئی سالوں تک مسلسل جدوجہد کر کے امریکا کو کشیدگی ختم کرنے پر رضا مند کیا اور اُس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے چین کا دورہ بھی کیا تھا۔

بعد ازاں چین کو اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت مل گئی اور چین کو اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کا حق ملا، پاکستان کے اِس کردار کی وجہ سے چین کی نظر میں پاکستان کا وقار بہت بلند ہوگیا اور چین نے حال ہی میں بھارت کی جانب سے پیش کی جانے والی متعدد بے بنیاد قراردادوں کو ویٹو بھی کیا۔

اسی طرح چین نے وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دفاعی میدان میں بھی بھرپور مدد کی، دونوں ممالک نے اسلحہ سازی کے لیے معاہدے کیے جس کی وجہ سے دفاعی پیداوار بڑھی اور مقامی سطح پر ٹینک، طیارے تیار کیے گئے۔

چین توانائی اور دیگر بہت سے منصوبہ جات میں جن میں سینڈک کا منصوبہ، گوادر پورٹ کا منصوبہ پاکستان کو ریلوے انجن کی فراہمی اور دیگر بے شمار ایسے منصوبہ جات ہیں جن میں پاکستان کو چین کی بھرپور مدد حاصل ہے جس سے پاکستان اور چین دوستی کے ایک ایسے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔پاکستان اور چین دو ایسے ملک ہیں جو دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہ دوستی برسوں پر محیط ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات، ایوان کو افہام و تفہیم سے چلانے کا معاہدہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایوان کو افہام و تفہیم سے چلانے کا …