جمعرات , 27 جون 2019

گلوبل دہشت گردی اور عالمی لیڈروں کی ناکامی

(سینیٹر رحمان ملک)

دُنیا کو ان دنوں گوناگوں خطرات کا سامنا ہے اور دن بدن ان میں اضافہ ہو رہا ہے مگر بین الاقوامی برادری ان خطرات کا مئوثر اجتماعی ردِعمل دینے میں ناکام ہے۔ آج دُنیا ماضی کے مقابلے میں نسبتاً کم پرامن ہے اور یہ صورتِ حال ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ کسی نہ کسی ملک میں آئے روز دھماکے ہو رہے ہیں۔ لفظ دہشت گردی، لفظ دہشت سے بھی زیادہ خوفناک ہو گیا ہے۔ بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ دہشت گردی کو سیاسی اور نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں جاپان سے جرمنی تک دہشت گردی کی تاریخ محدود پیمانے پر تھی اور اب تو اس نے تنظیموں اور منظم جتھوں کی صورت میں اژدہا کی صورت اختیار کر لی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے جنگیں انسانی دُکھوں اور مصیبتوں اور دہشت گردی کو جنم دینے کا سبب بن گئی ہیں۔ سوویٹ یونین نے افغانستان کو تاخت و تاراج کیا اُس کی اس جارحیت نے مذہبی انتہا پسندی کے بیج بوئے۔ جسے سی آئی اے کی حمایت حاصل تھی۔ دراصل سی آئی اے نے اپنے مقاصد کے لیے مایوس مسلمانوں کے علاوہ یورپ اورکینیڈا سے ہزاروں جرائم پیشہ لوگوں کو بھرتی کیا اور اُنہیں بذریعہ پاکستان بھرپور فوجی تربیت دے کر افغانستان میں اُتار دیا۔ ان انتہا پسندوں یا دوسرے لفظوں میں جہادیوں نے امریکیوں کی مدد سے سوویٹ فوجوں کو شکست فاش سے دوچار کیا۔ سوویٹ یونین اس شکست کی ضرب نہ سکا اور روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کی صورت میں پارہ پارہ ہو گیا۔

میں بحیثیت ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ڈی جی ایف آئی اے اور زیادہ یہ کہ پانچ سال تک پاکستان کا وزیر داخلہ اور تین بار منتخب سینیٹر اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین ہونے کی صورت میں افغان جنگ کا عینی شاہد ہوں، افغانستان اور کشمیر دو انتہائی خطرناک ایشو ہیں جن کے باعث خِطے کا اور بین الاقوامی امن سخت خطرے میں ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ جب اُسامہ بن لادن سے اُس کے یوسف رمزی (ورلڈ ٹریڈ سنٹرکو اُڑانے والے پہلے بمبار اور زاہد الشیخ اور خالد الشیخ کا ماموں) سے تعلقات کی وجہ سے شناسائی ہوئی اور اُس کی سعودی عرب اور پاکستان کے خلاف سرگرمیوں سے آگاہی ہوئی۔ اُسامہ بن لادن اگرچہ نہیں رہا لیکن داعش اور القاعدہ میں موجودہ اُس کے ساتھیوں کی وجہ سے دہشت گردی کی صلاحیت بدستور موجود ہے۔

عرب اور افغان جہادیوں کی یہ انتہائی تربیت یافتہ فورس لاوارث چھوڑ دی گئی، اُن کا روزگار جاتا رہا۔ چنانچہ اس کا ردِعمل قدرتی امر تھا اور یہ منظم انتہا پسند گروپوں کی صورت میں سامنے آیا۔ جہادی تنظیموں کی طرف امریکہ کا اچانک سردِ مہری کا رویہ انتہا پسندوں کے لیے قابل قبول نہ تھا اور یوں ان لوگوں نے پاک افغان سرحد کے دونوں جانب طالبان کا روپ دھار لیا۔ پھر دیکھا کہ ملاعمر طالبان کے لیڈر بن گئے اور دوسرے گروپ انجینئر گل بدین حکمت یار کے ساتھ مل گئے جس کی تربیت سی آئی اے نے کی تھی جو آگے چل کر اُسامہ بن لادن کی کمان سے مل گیا۔ اُس نے اپنا بیشتر وقت ایران میں گزارا حتیٰ کہ صدر حامد کرزئی کی حکومت جائن کر لی۔ اُسامہ بن لادن نے ان گروپوں کو اپنے نائب ایمن الظواہری کی مدد سے القاعدہ میں ضم کر لیا۔

میں نے بحیثیت ڈائریکٹر ایف آئی اے پشاور ریجن، اُسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے کئی ساتھیوں سے پوچھ گچھ کی۔ میں ان معلومات کی روشنی میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کے ان انتہا پسندوں (جہادیوں) کو بے یارو مددگار نہ چھوڑا ہوتا تو طالبان اور القاعدہ ایسی تنظیمیں جنم نہ لیتیں۔ طالبان حکومت انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی نرسری ثابت ہوئی اور بڑی سرعت کے ساتھ پھیلی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دہشت کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ انہوں نے ہی خودکش جیکٹ متعارف کرائی،جسے وہ آج بھی کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی ظالمانہ کارروائیاں اور خوفناک دہشت گردانہ حملوں کو دیکھتے ہوئے میں نے ہی طالبان کو ظالمان کا نام دیا۔ نائن الیون نے دُنیا کا سیاسی اور اقتصادی چہرہ بدل ڈالا اور یہی واقعہ دہشت گرد تنظیموں بشمول داعش کے جنم کا باعث بنا۔ اس وقت دُنیا کے مختلف خطوں پر دہشت گردی کے خوف کی فضا طاری ہے۔ داعش کے وجود نے پوری دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عراق میں اس کا قیام اب کوئی راز نہیں رہا۔ میں نے اس کے قیام کے پس منظر کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ یہ کیسے عراق سے نکل کر پورے مشرق وسطیٰ پھر ترکی سے ہوتی ہوئی افغانستان پہنچی میں نے نشاندہی کر دی ہے کہ داعش تین سال سے جنوبی ایشیا میں موجود تھی اور پھر وہ براستہ بھارت سری لنکا اور پاکستان پہنچی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ داعش کی دہشت گردی کی بیشتر وارداتیں ترقی پذیر اور مسلم ممالک میں ہوئیں۔

نیوزی لینڈ اور پھر سری لنکا میں دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں نے دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری، منقسم اور ژولیدہ فکری کا شکار ہے اور دہشت گرد تنظیمیں اس انتشار سے فائدہ اُٹھارہی ہیں۔ دہشت گردی بنیادی انسانی حقوق کو تباہ کرنے کا دوسرا نام ہے۔ ہمیں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑنا ہو گی تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس تباہ کاری سے محفوظ رہ سکیں۔ بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی کے مقابلے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی، میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ دہشت گرد انسانیت کے مشترکہ دشمن ہیں، ان کا مقابلہ بھی مل کر ہی ہو گا۔ دُنیا جیو پولیٹیکل تقسیم سے دوچار ہے اور بعض پہلوئوں سے عالمی قیادت غیر ذمہ دار ہے اور یہ باتیں دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن رہی ہیں۔ شروع میں امریکہ کی طالبان کی سپورٹ اور خفیہ ’’عرب بہار‘‘ مشرق وسطیٰ میں موجودہ بے چینی کا باعث بنے۔ (اس کی تفصیل مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے) یہ صورت حال چین، امریکہ سرد جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے جو عالمی امن معیشت اور امریکہ روس ٹکرائو کے لیے بھی اچھا نہیں اور یہ سرد جنگ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ نائیجریا کی انتہائی وحشت ناک ، دہشت گرد تنظیم بوکو حرام کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کی کوئی مربوط افریقی پالیسی نہیں ہے۔ جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ اسی علاقے میں چار بڑے ایٹمی ممالک روس، چین، پاکستان اور بھارت واقع ہیں۔ ان کے درمیان صف بندی، دہشت گردوں کو اپنی جگہ بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ دُنیا کے یہ ٹھیکیدار بڑے ممالک اپنے جیو پولیٹکل مفادات کی خاطر چھوٹے گروپ پیدا کرتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ القاعدہ بوکو حرام اور داعش ایسے عفریتوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا ان (دہشت گرد تنظیموں) کے لیے ربط و ضبط بھرتیوں، فنڈ ریزنگ اورانتہا پسندانہ پراپیگنڈہ کا بڑا وسیلہ بن گیا ہے۔ ان بڑی دہشت گردتنظیموں نے امریکہ، یورپ اور بشمول روس اور چین دوسرے خطوں سے بھاری تعداد میں نوجوانوںکو بھرتی کر رکھا ہے۔ یہ دہشت گرد تنظیمیں غریب طبقوں‘ ترقی پذیرملکوں اور ناخواندہ لوگوں میں اپنی جڑیں مضبوط کررہی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان میں ایسے والدین بھی ہیں جنہوں نے اپنے کم عمر بیٹے طالبان کے ہاتھ فروخت کر دئیے جو انہیںخود کش حملوںمیں استعمال کرتے ہیں۔ ریاستی سطح پر انتہا پسندی کا توڑ یہی اس کا جواب ہے۔ دہشت گردی فروغ پذیر ہے اور یہ فرض کر لینا غلطی ہو گی کہ صرف فوجی آپریشن ہی اسے ختم کر لیں گے۔ ہمیں دہشت گردوں اور نوجوان طبقے کی فکر کو بدلنا ہو گا۔ اس کے لیے عالمی سطح پر جامع اور قابل عمل حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ (جاری)

یہ بھی دیکھیں

بحرین کانفرنس میں فلسطینیوں کی نمائندگی کرنے والے غداران وطن!

آج 25 جون کو خلیجی ریاست بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکا کی دعوت پر …