جمعرات , 27 جون 2019

۷۱ سالہ اسرائیل؛ پہلے سے کہیں زیادہ کمزور

(مجید رحیمی)

صہیونی ریاست نے حالیہ دنوں اپنی عمر کے ۷۱ سال مکمل ہونے کا جشن منایا تاکہ اس کے حکمران کچھ دیر کے لیے اپنے درپیش چیلنجز کو بھول سکیں۔ اسرائیل کا وزیر اعظم اور دیگر عہدیدار ہمیشہ اس ریاست کی موجودگی کے تحفظ کی بات کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اسرائیل کی عمر کو آگے بڑھائیں اور اس کے مقاصد کی تکمیل کی راہ میں لمحہ بھر کے لیے کوتاہی نہ کریں۔

صہیونیوں نے فلسطینی عوام کے “حق واپسی” پیدل مارچ کو سختی سے سرکوب کرتے اور مظاہرین کو جنگی گولیوں کا نشانہ بناتے اور ہر دن اپنے آقا امریکہ کے ساتھ روابط کا طبل بجاتے ہیں تاکہ اسرائیل کی حیات کے جاری رہنے پر اطمینان حاصل کر سکیں۔

ان تمام چیزوں کے باوجود اسرائیل کی زندگی ہمیشہ سے ایک بہت بڑے چیلنج کے روبرو ہے اور علاقے میں اس کی موجودیت رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے چیلنج کی جاتی ہے۔ حضرت آیت اللہ خامنہ ای اکثر اوقات اپنے بیانات میں تاکید کرتے ہیں کہ اسرائیل کی عمر کچھ زیادہ نہیں ہے اور یہ ریاست عنقریب نابودی کا شکار ہو گی۔

کبھی رہبر انقلاب اسلامی، صہیونیوں کی مقبوضہ فلسطین میں اپنی حاکمیت جاری رکھنے کے لیے تمام تر تلاش و کوشش کے باوجود، اس رژیم کے زوال کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

“یہ سفاکی اور جارحیت، غاصب رژیم کے رہنماؤں اور حامیوں کو مقصد تک نہیں پہنچا پائی ہے، برخلاف اقتدار اور استحکام کی احمقانہ آرزو کے جو خبیث سیاست باز صہیونی ریاست کے لیے اپنے ذہنوں میں پالتے رہتے ہیں یہ رژیم دن بدن زوال اور نابودی کے قریب ہوتی جا رہی ہے”۔

اور کبھی رہبر انقلاب قرآن کریم کی آیت سے استناد کرتے ہوئے اسرائیل کی نابودی کا یوں وعدہ دیتے ہیں: “اس میں شک نہیں کرنا چاہیے کہ اسرائیل کے شجرہ خبیثہ “اجتثت من فوق الارض ما لها من قرار” کی کوئی بنیاد اور اساس نہیں ہے لہذا بغیر شک کے اسے نابود ہونا ہے”۔

کیا چیز سبب بنی ہے کہ صہیونی ریاست جسے بظاہر دنیا کی سب سے بڑی استعماری طاقت کی حمایت حاصل ہے اور جو عظیم مالی ذخائر اور فوجی قوت کی حامل ہے اس طریقے سے زوال اور نابودی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے؟

اسرائیل کو کچھ بیرونی اور کچھ اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے جن کی وجہ سے اسرائیل موت کے دلدل میں گرفتار ہو چکا ہے۔ یہ وہ چیلنجز ہیں جن سے صہیونی ریاست ۷۱ سال سے روبرو ہے اور معلوم نہیں کب یہ اسرائیل کی نابودی کو یقینی بنا دیں۔

اسرائیل کا غیر قانونی ہونا ایک دائمی چیلنج
اسرائیل اپنی تشکیل کے روز اول یعنی ۱۹۴۸ سے اب تک اس مشکل سے گرفتار ہے کہ وہ ایک غیر قانونی ریاست ہے۔ اسی وجہ سے ابتدائی دنوں میں ہی عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل مخالف لہر وجود میں آئی اور اس کا نتیجہ اسرائیل کے خلاف جنگ کی صورت میں سامنے آیا۔ اگر چہ اس جنگ میں اسرائیل کو ہی کامیابی نصیب ہوئی لیکن اس کے بعد اسلامی انقلاب کا وجود اسرائیل کی حیات کے لیے ایک چیلنج بن کر سامنے آیا۔

ایران میں اسلامی جمہوریہ کا قیام اور علاقے کے دیگر علاقوں میں انقلابی افکار کی ترویج صہیونی ریاست کی مقبولیت کی راہ میں سد باب بن گئی جس کی وجہ سے اب تک اسرائیل اس مشکل کو حل کرنے پر قادر نہیں ہو سکا۔

اسرائیل کے پاس خود کو بچانے کا واحد راستہ امریکہ کی پناہ حاصل کرنا تھا لہذا امریکہ ۷۱ سال سے ایک بڑے بھائی کی طرح اس یہودی ریاست کی حمایت کر رہا ہے۔ لہذا یہ پوری جرئت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اسرائیل کو امریکہ کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو یہ یہودی ریاست اب تک صفحہ ہستی سے محو ہو چکی ہوتی۔

اسرائیل کو درپیش اندرونی چلینجز
اسرائیل کو نہ صرف بیرونی چیلنجیز کا سامنا ہے بلکہ وہ اندرونی طور پر شدید مشکلات سے دوچار ہے، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں سے لے کر فوجی چھاونیوں اور اداروں میں جنسی فساد کا پھیلاو، رشوت خواری اور کام چوری جیسے مسائل اندرونی طور پر اسرائیل کے لیے سخت چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

اسرائیل ایسے حال میں اپنی ۷۱ سالہ عمر کا جشن منا رہا ہے کہ چاروں طرف سے اس پر موت کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ دنیا میں انگشت شمار ریاستوں کے علاوہ اسرائیل کا کوئی حامی نہیں ہے، اسرائیل کی فوجی طاقت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور پڑ چکی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیلی فوج میں جنسی فساد حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ وہ فوج جو علاقے میں سب سے زیادہ قوی اسلحے کی حامل ہے مزاحمتی گروہوں کے چند میزائلوں اور راکٹوں کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے اور دو دن کی جنگ کے بعد جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

اسرائیل کو درپیش چیلنجیز کی طرف مختصر نگاہ دوڑانے سے بخوبی یہ جانا جا سکتا ہے کہ صہیونی ریاست زوال کی طرف گامزن ہے اور اس کے عہدیدار جو اسرائیل کی نجات کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں وہ اب کارآمد ثابت نہیں ہوں گے اور اسرائیل کی نابودی بحمد اللہ یقینی ہے۔بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

بحرین کانفرنس میں فلسطینیوں کی نمائندگی کرنے والے غداران وطن!

آج 25 جون کو خلیجی ریاست بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکا کی دعوت پر …