منگل , 17 ستمبر 2019

جسے اللہ رکھے!

(تحریر: تنویر حیدر سید)

ابراھہ جب اپنے لاؤ لشکر سمیت خانہء خدا پر چڑھائی کرنے کے لیے تیار کھڑا تھا تو مکہ کے تماش بین اس گھر کی دیواروں کو چشمِ تصور میں زمیں بوس ہوتا دیکھ رہے تھے۔ عمرو بن عبدود کی للکار پر جب ایک مردِ میدان نے بے تابانہ ایک دیو قامت سورما کی جانب اپنا قدم بڑھایا تو کائنات کی نبض رک چکی تھی۔ حزب اللہ کے مقابل جب حزب الشیطان آتش و آھن کے ساتھ میدانِ مقاومت میں اترا تو فتنہ گرانِ عالم، مشرقِ وسطیٰ کا نیا نقشہ تخلیق ہوتا دیکھ رہے تھے۔ لیکن پھر کیا ہوا! وہی ہوا جو منظورِ خدا ہوا! دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آخرِکار کامیابی اس کے گلے کا ہار بنی، جس کی گردن کبھی کسی طاغوت کے آگے خم نہ ہوئی تھی۔ انقلابِ اسلامیِ ایران، جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہداء کا خون شامل تھا، اسے ناکام کرنے کے لیے شروع دن ہی سے کئی طرح کے حربے استعمال کیے گئے، لیکن اس کے مخالفین کے تمام اقدامات اس کو کمزور کرنے کی بجائے اسے مضبوط کرتے گئے اور اسے ناقابلِ تسخیر بناتے گئے۔ عالمی طاقتوں نے حقیقی اسلامی قوتوں کو مٹانے کے لیے آج تک جو کچھ بھی کیا ہے، وہ ان کے گلے ہی پڑا ہے۔

ذیل میں چند مثالیں اس مکافاتِ عمل کا ثبوت ہیں:
انقلابِ ایران کی کامیابی کے فوری بعد اس انقلاب کے خاتمے کے لیے ایران پر جنگ مسلط کی گئی، جو آٹھ سال تک جاری رہی لیکن اس جنگ کے نتیجے میں ایرانی قوم نے ایسے تجربات حاصل کیے، جو آج دنیا کی کسی قوم کے پاس نہیں ہیں۔ لبنان پر اسرائیل کے پہلے بڑے حملے کے نتیجے میں حزب اللہ وجود میں آئی، جو آج اسرائیل کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ 2006ء میں حزب اللہ کا وجود ختم کرنے کے لیے اور اگلے مرحلے میں ایران کو نشانہ بنانے کے لیے جو جنگ شروع کی گئی، اس جنگ نے حزب اللہ کو نہ صرف فوجی لحاظ سے بہت زیادہ مضبوط کیا بلکہ وہ سیاسی میدان میں بھی ایک مضبوط طاقت کی حیثیت سے دنیا کے سامنے آئی۔ 2013ء میں جب اسرائیل مخالف بشار الاسد کو ایران اور حزب اللہ کی حمایت کے جرم کی سزا دینے کے لیے اس کی حکومت کے خاتمے کے لیے محاذ بنایا گیا اور داعش جیسے ناسور کی تخلیق کی گئی تو پھر اسی داعش کو ایران اور حزب اللہ نے شکست دے کر مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔

غزہ پر بار بار اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کے ہاتھوں میں غلیل کی بجائے میزائیل آگئے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل انہی میزائلوں کے سبب فلسطینیوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو پارہ پارہ کر دیا اور آئندہ کسی بڑے معرکے میں بڑے میزائلوں کے لیے راستہ ہموار کر دیا۔ آج ایک بار پھر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی رجز خوانیاں اور کھوکھلے نعرے محض ایران کو اپنے دشمن کے مقابل پہلے سے زیادہ آمادگی اور تیاری کی حالت میں لانے اور اپنے دشمنوں کے لیے خفت کا ڈھیر سارا سامان پیدا کرنے کا ہی سبب بنے ہیں۔ آج ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کرسکیں۔ ان کی بے بسی نے ان کے نخوت زدہ چہروں کا رنگ اڑا دیا ہے۔

خودی کا نشہ چڑھا، آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ، مگر بنا نہ گیا

 

یہ بھی دیکھیں

سعودی تیل کی تنصیبات پر یمنیوں کا بڑا حملہ

(تحریر: رامین حسین آبادیان) یمن آرمی اور رضاکار فورسز نے جارح قوتوں کے خلاف ایک …