جمعرات , 27 جون 2019

ناکارہ فولادی گنبد، اسلامی مزاحمت کے مقابلے میں اسرائیل کا ڈراؤنا خواب

(تحریر: رامین حسین آبادیان)

اسرائیل نے اپنا دفاع جدید ٹیکنالوجی سے لیس "فولادی گنبد” نامی میزائل ڈیفنس سسٹم پر استوار کر رکھا ہے۔ لیکن اب دھیرے دھیرے اس کی ناکامی اور عدم افادیت واضح ہوتی جا رہی ہے۔ ماضی میں اسلامی مزاحمت کی تنظیموں حزب اللہ لبنان اور حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے دوران اس وقت اس میزائل ڈیفنس سسٹم کی ناکامی عیاں ہوئی جب اسلامی مزاحمت کے میزائل اور راکٹ ٹھیک اپنے نشانوں پر بیٹھے اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو شدید جانی اور مالی نقصان سے دوچار کر دیا۔ اب تو خود اسرائیلی میڈیا اس حقیقت کا اعتراف کرتا نظر آ رہا ہے کہ فولادی گنبد میزائل ڈیفنس سسٹم اسرائیل کو حزب اللہ لبنان، حماس، اسلامک جہاد اور ایران کے ممکنہ میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتا۔ اسی بارے میں حال ہی میں اسرائیلی اخبار "معاریو” نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کی وزارت جنگ پہلی بار اس میزائل ڈیفنس سسٹم کا متبادل تلاش کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ خاص طور پر حال ہی میں حماس کے خلاف اسرائیل کی دو روزہ جنگ کے بعد اس سسٹم کی عدم افادیت سب پر واضح ہو چکی ہے۔ اخبار معاریو نے تاکید کی ہے کہ اسرائیل آرمی فولادی گنبد کی جگہ کوئی اور میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کرنے کا سوچ رہی ہے۔

اخبار معاریو نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ حماس کے خلاف حالیہ جنگ کے دوران اسلامی مزاحمت کی تنظیم نے انتہائی کمال کی مہارت کا مظاہرہ کیا اور اتنی دقت نظر سے اسرائیلی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا کہ کئی بار فولادی گنبد میزائل ڈیفنس سسٹم فیل ہو گیا۔ مزید برآں، اسرائیل کے دیگر ذرائع ابلاغ اور اخبار جیسے یدیعوت آحارنوت نے بھی فولادی گنبد میزائل ڈیفنس سسٹم کی عدم افادیت سے پردہ اٹھایا ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی نیوز ویب سائٹ "دبکا” بھی اس حقیقت کا اعتراف کر چکی تھی کہ غزہ میں اسلامی مزاحمت کی تنظیموں نے اسرائیل کے میزائل ڈیفنس سسٹم کا رعب مٹی میں ملا دیا ہے۔ اس ویب سائٹ کے مطابق صرف دو دن جاری رہنے والی گذشتہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران فولادی گنبد ناکام ہونے کے نتیجے میں اسرائیل شدید نقصان برداشت کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ دبکا نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ اسلامی مزاحمت نے صرف ایک منٹ کے دوران ایک ہی نشانے پر دسیوں میزائل فائر کئے جس کے باعث فولادی گنبد ان میزائلوں کا مقابلہ کرنے میں سو فیصد ناکام رہا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ حتی اسرائیل کے سیاسی ماہرین اور تجزیہ کار بھی فولادی گنبد کو مقبوضہ فلسطین میں ماضی کی ایک کہانی قرار دینا شروع ہو گئے ہیں۔ وہ بھی اس میزائل ڈیفنس سسٹم کی عدم افادیت اور ناکامی کا برملا اظہار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان کے خیال میں اس میزائل ڈیفنس سسٹم پر بھروسہ کرنا اسرائیل کی بقا کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بارے میں اسرائیل کے ایروسپیس انجینئرنگ امور کے ماہر موتی شیفر جنہیں "اسرائیل سکیورٹی” ایوارڈ بھی مل چکا ہے کہتے ہیں کہ اسرائیل فولادی گنبد کو بروئے کار لا کر دیگر ممالک میں اس خیالی اسلحہ کا پرچار اور مشہوری کرنے میں مصروف ہے اور اس طرح اربوں ڈالر کا منافع کما چکا ہے۔ اگرچہ اسرائیل کے دفاعی ادارے اس میزائل ڈیفنس سسٹم کی ناکامی اور عدم افادیت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن خود اسرائیلی تجزیہ کار اور ماہرین بارہا اس حقیقت پر زور دے چکے ہیں کہ آرمی نے اس ڈیفنس سسٹم کو جھوٹے انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے جس کی وجہ سے فوجی حلقوں میں شدید اختلافات پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی دفاعی صنعت کو بھی شدید خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کے اپنے ذرائع ابلاغ اور سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاران فولادی گنبد میزائل ڈیفنس سسٹم کی اصل حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں اور جان چکے ہیں کہ اس بارے میں اسرائیلی حکام کے جھوٹے پروپیگنڈے اور اس کی افسانوی طاقت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا واحد مقصد اسلامی مزاحمتی بلاک کے خلاف نفسیاتی جنگ کا آغاز تھا۔ البتہ اب اسرائیلی حکام بھی فولادی گنبد کی ماضی کی طرح تعریفیں نہیں کر رہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمینی حقائق سے آگاہ ہو چکے ہیں۔ فولادی گنبد نامی میزائل ڈیفنس سسٹم کی ناکامی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اب اسرائیلی حکام اس کا متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ یہ میزائل ڈیفنس سسٹم بھاری اخراجات کے باوجود اب تک اسلامی مزاحمت کے میزائلوں کا مقابلہ کرنے میں ناکامی کا شکار رہا ہے۔ اسی وجہ سے غزہ کی حالیہ دو روزہ جنگ کا نتیجہ اسرائیل کی ذلت آمیز شکست کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کیلئے اسلامی مزاحمت کے میزائلوں سے محفوظ رہنے کا واحد سہارا فولادی گنبد تھا جس کی ناکامی کے بعد اب اسلامی مزاحمت ان کیلئے ایک ڈراونا خواب بن چکی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بحرین کانفرنس میں فلسطینیوں کی نمائندگی کرنے والے غداران وطن!

آج 25 جون کو خلیجی ریاست بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکا کی دعوت پر …