جمعرات , 27 جون 2019

روس، جرمنی اور فرانس کے سربراہوں کا ایٹمی معاہدے کے تحفظ پر زور

ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک)روس، جرمنی اور فرانس کے سربراہوں نے سہ فریقی ٹیلی فونک کانفرنس میں ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے اور ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ماسکو میں کریملن ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتین، جرمن چانسلر انگلا مرکل اور فرانس کے صدر امانوئیل میکرون نے سہ فریقی ٹیلی فونک کانفرنس میں ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کو عالمی امن اور استحکام کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

تینوں ملکوں کے رہنماؤں نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔مذکورہ تینوں ممالک کے نقطہ نگاہ سے، ایٹمی معاہدے کے خاتمے کی صورت میں عالمی سلامتی پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

جرمنی اور فرانس، ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کو کثیرالفریقی تعاون کا ایسا بہترین نمونہ سمجھتے ہیں جو دیگر عالمی تنازعات کے حل کا رول ماڈل بن سکتا ہے۔امریکی نظریات سے اختلاف رکھنے والی عالمی طاقت کے طور پر رو‎س بھی ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپی نظریات سے کافی حد تک اتفاق رکھتا ہے۔اسی حوالے سے روسی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں جہاں ایٹمی معاہدے کی پابندی کیے جانے پر زور دیا گیا ہے وہیں ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ماسکو ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس بلانے کے لیے وقت کے تعین کا متنظر ہے تاکہ اس معاہدے میں شامل ممالک باہمی تعاون کے ذریعے جامع ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کا طریقہ کار وضع کر سکیں۔اس بیان میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ ایٹمی معاہدے کے تمام فریق اس پر فوری اور پائیدار عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پوری توانائیاں بروئے کار لائیں۔

روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایٹمی معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک ہی اس پر مکمل طور سے عملدرآمد کیے جانے کے ضامن ہیں۔ایٹمی معاہدے سے امریکی کی غیر قانونی علیحدگی، اور اس پر عملدرآمد میں رکاوٹیں کھڑی کرنے، معاہدے باقی رہنے والے فریقوں کی جانب سے وعدہ خلافیوں کے بعد ایران کی قومی سلامتی کونسل نے آٹھ مئی سے ایٹمی معاہدے پر جزوی علمدرآمد روک دیا ہے۔

ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے جاری کردہ بیان میں معاہدے کے باقی ماندہ ممالک کو اپنے وعدے پورے کرنے کی غرض سے مزید ساٹھ دن کی مہلت دی گئی تھی۔ جرمنی، برطانیہ اور فرانس نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد ایران کے اقتصادی مفادات پورے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن تاحال وہ ایسا کرنے میں عملی طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عرب ملکوں کو فلسطین کا سودا کرنے کا کوئی حق نہیں: خالد مشعل

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ کے سیاسی شعبے کے سابق سربراہ خالد …