منگل , 17 ستمبر 2019

سعودیہ ہر ماہ پاکستان کو 27 کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کاتیلادھار دے گا،مشیر خزانہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)  وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو یکم جولائی سے ہرماہ 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا تیل ادھار دے گا۔ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاض پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر 3 برس تک سالانہ 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کا تیل فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب کے تعاون سے مؤخر ادائیگیوں کے توازن کی پوزیشن مستحکم ہوگی‘۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے پاکستان کے عوام کی مسلسل مدد پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اگلے مہینے سے پاکستان کوہر ماہ 27 کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کاتیل فراہم کرے گا۔بعدازاں وزیر مملکت ریونیو حماد اظہرنے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’برادر ملک سعودی عرب کی جانب سے اچھی خبر ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ریاض کے تعاون سے پاکستان کی مؤخر ادائیگیوں کے توازان اور زرمبادلہ کے زخائر کی پوزیشن بہتر ہوگی‘۔

اس ضمن میں وفاقی وزیر براۓ منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے 3 ارب 20 کروڑ ڈالرز کی موخر ادائیگی کی سہولت پر سودی ولی عہد اور سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سہولت سے زرمبادلہ کے آوٹ فلو کا دباؤ کم ہو گا اور مارکیٹ پر بھی مثبت اثر ہو گا۔خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا عہد سنبھالنے کے بعد پہلا سرکاری دورہ سعودی عرب کا کیا تھا بعدازاں سعودی عرب سے پاکستان کو پیکیج کی مد میں تیل کی فراہمی سے متعلق معاہدے پر عملدرآمد جنوری سے متوقع تھا۔

تاہم معاہدہ 3 سال کے لیے ہوا اس میں 9 ارب ڈالر تک کا خام تیل درآمد کیا جاسکتا ہے۔معاہدہ کی رو سے متحدہ عرب امارات سے ایک لاکھ 10 ہزار بیرل یومیہ خام تیل وصولی شامل ہے جس میں سے 60 ہزار بیرل پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو) جبکہ 50 ہزار بیرل نیشنل ریفائنری لمیٹیڈ (این آر ایل) کے لیے مختص ہے۔

پارکو اور این آر ایل اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) میں پاکستانی روپے میں خام تیل کی خریداری کے لیے ادائیگی کریں گی جبکہ آرامکو کو سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ بطور تیسری پارٹی ڈالر میں ادائیگی کرے گی۔بعدازاں ایس بی پی سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کو اس کی ادائیگی 12 ماہ کے فرق سے کرے گا، مثال کے طور پر جنوری 2019 کی ادائیگی جنوری 2020 میں کی جائے گی۔

خیال رہے کہ 1998 میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد جب اسلام آباد کو بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہوا تھا، تب بھی سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو اسی طرح کا پیکیج دیا گیا تھا۔اس پیکیج کی مد میں پاکستان کو 3 ارب 50 کروڑو ڈالر (اس وقت ڈالر کی قیمت کے مقابلے میں ایک سو 90 ارب روپے) کا خام تیل سعودی عرب نے دیا تھا۔اس پیکیج کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی ادائیگی کا بڑا حصہ گرانٹ میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور جسے سعودی عرب کو واپس نہیں کیا گیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت کی میٹرو بس کرایہ پالیسی کا الٹا اثر پڑنے لگا؛ مسافروں نے سفر کرنا ہی چھوڑ دیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت کی میٹرو بس کرایہ پالیسی کا الٹا اثر پڑنے لگا جس …