ہفتہ , 21 ستمبر 2019

آئی ایم ایف کا اونٹ خیمے میں آچکا ہے

(اظہر سید) 

جو لوگ سمجھتے ہیں آئی ایم ایف کا بیل آوٹ پیکج مشکلات سے نکال دے گا انہوں نے اصل میں اونٹ کو خیمہ میں داخل کر لیا ہے۔ جو کالے بادل ملکی معیشت پر چھائے ہیں ان کے پیچھے کوئی سورج، چاند یا چمکتے ستارے نہیں صرف دھوکہ ہے۔ تبدیلی لانے والوں نے اپنی جان بچائی ہے تاکہ ریٹائرمنٹ تک کام چل جائے اس کے بعد حب الوطنی کی ذمہ داری دوسروں کی۔ ماضی میں بھی آئی ایم ایف سے بیل اوٹ پیکج لئے گئے ہیں لیکن ماضی میں سی پیک نہیں تھا اور نہ ہی چینی امریکیوں کی عالمی معاشی اجارداری کے لئے خطرہ بنے تھے۔ تبدیلی کے پیچھے یقینی طور پر نیک نیتی ہوگی لیکن اسی طرح کی نیک نیتی کا خمیازہ ہم کارگل میں بھگت چکے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے عالمی طاقتوں کا ہتھیار ہیں۔ یہی حال عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کا ہے۔

پاناما ڈرامے کا اختتام بہت ہولناک ہے۔ حصص بازار معیشت کا تھرمامیٹر کہلاتا ہے۔ ماضی میں جب بھی آئی ایم ایف سے بیل اوٹ پیکج ملا اگلے دن حصص بازار نے مثبت ردعمل ظاہر کیا۔ یہ انہونی پہلی دفعہ ہوئی ہے معاہدہ کے اعلان کے اگلے روز مارکیٹ کھلی تو ایک وقت میں نو سو پوائنٹ سے زیادہ گر چکی تھی اور اختتام آٹھ سو پوائنٹ کی کمی پر ہوا۔ پیسے کے پاس سب سے زیادہ مصدقہ اطلاعات ہوتی ہیں۔ جو کچھ ہو رہا ہے کس طرح کالے بادلوں کے پیچھے چمکتے ستارے ہو سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز پڑھیں تو وہ بھی طرفہ تماشا ہے۔

لوگوں کو امریکی وزیرخارجہ کا وہ مشہور و معروف بیان یاد ہے جس میں موصوف نے دھمکی دی تھی آئی ایم ایف پیکیج کو سی پیک کے چینی قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایگزیکٹو بورڈ میں فیصلہ کن قوت امریکہ، جاپان، جرمنی، آسٹریلیا فرانس اور برطانیہ کے پاس ہے اور یہ تمام ممالک امریکی حلیف ہیں ان میں آسٹریلیا، جاپان اور امریکی سی پیک کے کھلے عام مخالف ہیں۔

آئی ایم ایف پیکج کا دوسرا مطلب سی پیک کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ وہی سلسلہ ہے جس میں چینی صدر کو دھرنے کے ذریعے سی پیک پر دستخط کے لئے آنے سے روکا گیا تھا۔ یہ اسی سلسلہ کی کڑی ہے جس میں آصف علی زرداری نے اپنی صدارت کے اخری دنوں میں ماسٹر سٹروک کھیلتے ہوئے گوادر بندرگاہ کا ٹھیکہ سنگاپور پورٹ سے منسوخ کر کے چینی کمپنی کو دے دیا تھا۔

معاملات اتنے سادہ نہیں جتنے نظر آرہے ہیں۔ عمان کی بندرگاہ کے استمال کے لئے امریکیوں کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ 25 مارچ کو عمان نے امریکیوں کو اپنی بندرگاہ جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کیلے استمال کرنے کی اجازت دی اور 40 دن کے اندر امریکیوں نے ایران پر مکمل اقتصادی پابندیاں ہی عائد نہیں کیں اپنے دو طیارہ بردار جہاز بھی آبنائے ہرمز میں بھیج دیے اور جدید ترین بی 52 لڑاکا طیارے قطر پہنچا دیے۔ صرف ایران نہیں پاکستان بھی گھیرے میں آ رہا ہے۔ امریکیوں کے لئے عمان سے گوادر کا سفر 30 منٹ کا رہ گیا ہے۔

آئی ایم ایف کی طرف سے جای کردہ پریس ریلیز میں پاکستان کے معاشی بحران کی ذمہ داری گزشتہ سالوں کی اقتصادی پالیسوں پر ڈالی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کی پریس ریلیز کا دوسرا مطلب یہ ہے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار پر عدالتوں، اداروں اور تحریک انصاف کے راہنماؤں کی طرف سے جو الزامات عائد کیے تھے وہ سچے تھے۔ یہ بہت خوفناک بات ہے کہ آئی ایم ایف سابق حکومت پر لگائے جانے والے الزمات کی تصدیق کر رہا ہے۔

سچائی کچھ اور ہے۔ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد حصص بازار کا سو انڈکس 34 ہزار کی نفسیاتی حد پر پہنچ گیا اور یہ اس وقت ہوا جب مارکیٹ میں حصص کی قیمت اتنی کم اور پرکشش تھی کہ خریداری ہونا چاہے تھی لیکن سرمایہ کاروں نے خریداری کیا کرنا تھی الٹا وہ بچے کچھے حصص سے بھی جان چھڑاتے نظر آرہے تھے۔ فنڈ کی پریس ریلیز میں سابق حکومت کی معاشی پالیسوں کی وجہ سے حصص بازار کے 53 ہزار پر پہنچنے، افراط زر کی شرح چھ فیصد تھی جو اب 14 فیصد ہے، زرمبادلہ کے زخائر 25 ارب ڈالر جو اب آٹھ ارب ڈالر ہیں، شرح سود پانچ فیصد جو اب 16 فیصد ہے، معیشت کی شرح نمو کی اپنی پیش گوئی جو 5۔ 5 فیصد تھی کی کوئی تحسین نہیں کی گئی الٹا اقتصادی پالیسوں پر تنقید کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے آئی ایم ایف سی پیک مخالف قوتوں کے اشارے پر پاکستانی معیشت کا بازو مروڑ رہا ہے۔

ایک طرف کہا گیا ہے کاروباری سرگرمیاں بحال ہونا چاہیں اور ترقیاتی پروگرام کے لئے فنڈز مختص ہونا چاہیں جبکہ اگلے پیراگراف میں ٹیکسوں کی وصولی اور درکار اقدامات کی تلقین کے ساتھ تمام اقسام کی حکومتی اعانتوں کے خاتمہ کی بات کی گئی ہے۔ جب رواں مالی سال کے ٹیکسوں میں چار سو ارب روپیہ سے زیادہ کا خسارہ ہو رہا ہے تو اس کا مطب ہے کاروباری اور صنعتی سرگرمیاں جمود کا شکار ہیں۔ ملک میں سیاسی افراتفری اور بے یقینی کے ماحول میں جب افراط زر مسلسل بڑھ رہی ہو، جب بینکوں اور مالیاتی اداروں کی شرح سود میں اضافہ ہو رہا ہو اور جب مقامی کرنسی کو مرکزی بینک کے کنٹرول سے نکال دیا جائے کون سی معاشی سرگرمیاں ہوں گی اور کہاں سے ٹیکس حاصل ہوں گے اس کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔

ہم سمجھتے ہیں پاکستان سازش کا شکار ہوا ہے اور تیزی سے ترقی کرتی معیشت کو پٹڑی سے اتار دیا گیا۔ اب یہاں سرمایہ کار نہیں آتے بلکہ پہلے سے موجود سرمایہ کار فرار ہو رہے ہیں۔ امریکی آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان کو افغانستان میں ہونے والی شکست کا بدلہ لینے کے لئے مہرے رکھ رہے ہیں۔ سی پیک اولین ہدف نظر آرہا ہے جبکہ اگلہ مرحلہ پاکستان کی فوج اور ایٹمی صلاحیت ہو گی۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ملک میں قومی یکجہتی کے حصول کے لئے خود آگے بڑھ کر اقدامات کرنا ہوں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ جمعیت علما اسلام اور بلوچ سیاسی راہنماؤں کے ساتھ مل کر حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی۔ منظور پشتین کے معاملہ کو بہتر طور پر ہینڈل کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی ایم کے رہنما اگر منظور پشتین کی مرضی کے بغیر اعلی فوجی حکام سے ملتے ہیں اور ان ملاقاتوں کے نتیجے میں معاملات بھی حل ہو رہے ہیں تو یہ پختون قوم پرستی کو روکنے کی کامیاب کوشش ہے۔ جو لوگ پشتون قوم پرستی کا نعرہ لگا رہے ہیں وہ پنجاب میں 80 لاکھ پشتونوں کو نظر انداز کرتے ہیں جو امن اور سکون کے ساتھ اپنے کاروبار کر رہے ہیں۔ قوم پرستی کہیں بھی نہیں ہونا چاہیے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی نہیں۔ ہم سب پاکستانی ہیں اور بس۔ جہاں غلطیاں ہوئی ہیں انہیں درست کر لیا جائے، اسی میں ملک وقوم کا بھلا ہے۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …