جمعہ , 20 ستمبر 2019

گلوبل دہشت گردی اور عالمی لیڈروں کی ناکامی(۲)

(سینیٹر رحمان ملک)

میں دہشت گردی کے سدِباب کے لیے چند ترجیحات پیش کرنا چاہوں گا۔ سب سے اہم یہ ہے کہ دہشت گردی سے طویل المیعاد بنیادوں پر لڑنے کے لیے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے احترام کا شعور اور جذبہ بیدار کیا جائے، ہمیں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹھوس بین الاقوامی تعاون چاہئے جو ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرے اور کائونٹر ٹیریزم کو سرِفہرست ترجیح بنائے ۔ اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے ہر رُکن ملک مشترکہ کائونٹر ٹیررزم سٹریٹجی وضع کرے، لہٰذا ہمارا پختہ عزم، بین الاقوامی یک جہتی ، ہم آہنگی اور تعاون ہونا چاہئے۔ اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ دہشت گردی سے موثر طور پر لڑنے کے لیے دُنیا بھر کی حکومتیں اورسیکورٹی ایجنسیاں ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کریں۔

اگرچہ بین الاقوامی دہشت گردی بارے عالمی سطح پر جامع کنونشن کے لیے بھی ابھی کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا لیکن پھر بھی اس حوالے سے 19 مختلف بین الاقوامی کنونشن اور کئی علاقائی کانفرنسیں وغیرہ ہوتی ہیں۔ ان سے اگرچہ دہشت گردی سے لڑنے میں بڑی مدد ملی ہے لیکن ہمیں اس حوالے سے ایک واحد لیکن ٹھوس کنونشن کی ہنوز ضرورت ہے جو کہ قانون کی عالمی حکمرانی کا حقیقی آئینہ دار ہو۔ سفارشات اور دستاویزات ہی کافی نہیں بلکہ اسے بین الاقوامی قانون کی حیثیت حاصل ہونی چاہئے، جسے تمام رُکن ممالک لازماً اختیار کریں۔ دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ بے روزگاری ہے لہٰذا نوجوانوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ اُنہیں مختلف پیشوں کی تربیت بھی دی جائے اور اس امر کو ملک کے ترقیاتی منصوبوں میں سرِفہرست رکھاجائے۔ نوجوان، معاشروں کا قیمتی اور مثبت جزو ہوتے ہیں۔ ہمیں ان پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی تاکہ انہیں معاشرے کا مفید رُکن بنایا جا سکے۔

آخر میں میں پاکستان میں اپنے تجربے کو شیئر کرنا چاہوں گا۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ کر بین الاقوامی برادری کو اپنے عزم سے آگاہ کر دیا ہے۔ اگرچہ ابھی ہم دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ ہم اپنے کم وسائل کے باوجود اس آگ میں کود پڑے اور فتح کے لیے ستر ہزار سے زائد شہریوں ، دس ہزار فوجیوں کی قربانی دی اور لاکھ کھرب ڈالر سے زائد معیشت کو نقصان برداشت کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا ہمیں یہ بھی خمیازہ بھگتنا پڑا کہ ہماری شرح نمو گر گئی اور بیرونی سرمایہ کار امن و امان کی مخدوش صورتِ حال کے پیش نظر رخصت ہو گیا۔ مجھے کہنے دیجئے کہ معیشت کا زوال حد درجہ مایوس کن سطح تک آ پہنچا ہے اور اس ساری صورتحال کی بڑی وجہ دہشت گردی کی جنگ میں شرکت ہے۔ اس فیکٹر نے ہماری معیشت تباہ کر دی اور آج ہم اپنے وسائل پر انحصار کرنے کی بجائے کشکول پکڑے آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹا رہے ہیں۔ بدقسمتی (اتنی قربانیوں کے باوجود) مغرب ابھی بھی دہشت گردی کے حوالے سے ہم سے بدظن ہے، وہ ہمیں شک و شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے۔ امریکہ نے (جانتے بوجھتے) ہم سے ڈومور کے تقاضوں کی رٹ لگا رکھی ہے۔

میں نے دو امریکی صدور جارج ڈبلیو بش اور بارک اوباما سے ہونے والی علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں میں کہا کہ آخر کیوں ہروقت پاکستان ہی ڈومور کرے؟ مشترکہ دشمن سے لڑنے کے لیے ، کیوں نہیں مشترکہ حکمتِ عملی وضع کی جاتی؟ لیکن دونوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔ دوسری طرف صدر بش سے ملاقات میں اُس وقت کی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس نے اعتراف کیا کہ مشترکہ دشمن (دہشت گردی) سے لڑنے کے لیے امریکہ کے پاس کوئی مشترکہ سٹریٹجی نہیں۔ میں نے یہی باتیں بعد میں آنے والے امریکی وزرائے خارجہ ہلیری کلنٹن اور جان کیری سے بھی کیں لیکن صورتحال بہتر نہ ہوئی اور امریکہ مشترکہ دشمن سے لڑنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی وضع کرنے سے قاصر رہا۔ میری خواہش ہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان موجودہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں۔!(یہ مضمون فاضل کالم نگار کی 20 مئی 2019ء کی اس تقریر کا ترجمہ ہے جو انہوں نے آکسفورڈ یونین ؍ مجلس سے خطاب کے دوران کی۔) … (ختم شد)

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …