منگل , 25 جون 2019

سینچری ڈیل ایک تحقیقی جائزہ(1)

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس)

فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے سے لیکر مشرق وسطیٰ میں آنے والی ہر بیرونی تبدیلی کا غاصب اسرائیل سے بالواسط یا بلاواسط تعلق ضرور موجود ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں انجام پانے والا امریکہ اور مغربی طاقتوں کا ہر عمل (بالخصوص ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد) غاصب صہیونیوں کی حمایت اور ایران کی مخالفت میں انجام پاتا ہے۔ گویا مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو مضبوط کرنے کے لیے ایران کا کمزور ہونا یا اسرائیل کے ساتھ ہونا نہایت ضروری ہے۔ اسرائیل کو محفوظ بنانے کے لیے درجنوں منصوبے بنائے گئے، کبھی گریٹر اسرائیل، کبھی عظیم مشرق وسطیٰ کبھی نیا مشرق وسطیٰ اور کبھی دو ریاستی نطریہ پیش کیا گیا۔ ان تمام منصوبوں کے پیچھے اسرائیلی مفاد پوشیدہ تھے اور امریکہ سمیت مغربی طاقتیں اسرائیل کے غاصب وجود کو اس خطے میں مسلط کرنے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کرتی رہی ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور اس کے عالمی اور علاقائی اتحادیوں کو مذکورہ تمام منصوبون میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ان مذکورہ سمیت کئی دیگر خفیہ منصوبے بھی مطلوبہ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ کیمپ ڈیوڈ، اوسلو اور اوسلو دو نیز عرب صلح معاہدے سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ان معاہدوں کے علاوہ ساز باز مذاکرات بھی اسرائیل کے حق میں تمام ہوئے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے اپنی انتخابی مہم اور وائٹ ہائوس میں پہنچنے کے بعد ماضی کے امریکی صدور سے بڑھ کر اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا۔ ڈونالڈ ٹرامپ کی اسرائیل پر خصوصی نوازشات کی ایک وجہ ان کے صہیونی داماد کوشنر کا بنیادی کردار ہے۔ کوشنر اس وقت اسرائیل کے وسیع تر اہداف کے لیے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ کوشنر اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دو قالب ایک جان بن چکے ہیں، دونوں کی قربتیں کیا گل کھلائیں گی، اس کی تفصیلات جلد سامن آنا شروع ہو جائیں گی۔ ڈونالڈ ٹرامپ نے ماضی کے امریکی صدور کی طرح اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے کچھ منصوبوں کا اعلان کیا، جسے مجموعی طور پر سینچری ڈیل کا نام دیا گیا۔ صدر ٹرامپ اسرائیل کے لیے صدی کا سب سے بہترین معاملہ کرکے اپنے آپ کو صہیونی لابی کا سب سے پسندیدہ صدر قرار دینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرامپ مشرق وسطی میں اپنے مذموم اہداف کی تکمیل کے لیے سینچری ڈیل نامی فلسطین دشمن منصوبے کو نافذ کرنے کے خواہشمند ہیں اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس منصوبے کا اصل اور براہ راست فائدہ صہیونی حکومت کو پہنچے گا۔

صہیونی اخبار ہآرتض اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ اسرائیل کے ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ نے اس پروگرام کی ناکامی اور کامیابی کے بارے میں صہیونی شہریوں میں ایک سروے کیا ہے۔ اس سروے کے نتائج کے مطابق 74 فیصد صہیونی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ منصوبہ ناکامی سے دوچار ہوگا۔ صرف پانچ فیصد صہیونی اس کی کامیابی کے بارے میں پرامید ہیں۔ سروے میں شریک 77 فیصد کا ماننا ہے کہ امریکی صدر نے یہ منصوبہ اسرائیل کے فائدے کے لیے شروع کیا ہے۔ سینچری ڈیل منصوبے کی حمایت کا یہ مطلب ہے کہ صہیونی حکومت کو اس بات کی اجازت دے دی جائے کہ وہ جس طرح چاہیں، مطلوم فلسیطنیوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھاتے رہیں۔ اس منصوبے کی بدولت نہ صرف صہیونی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہے گا بلکہ فلسطینی اپنی سرزمین میں اجنبی بن جائیں گے۔ مشرق وسطیٰ کے معروف تجزیہ نگار ایمن دھاج الحفیطی رائے الیوم میں اپنے ایک مقالے میں لکھتے ہیں، جس طرح امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کو صہیونی کالونیوں کی تعمیر کی اجازت دی گئی تھی، وہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور سینچری ڈیل نامی منصوبے کے ساخت کے بعد بھی یہ سلسلہ تیزی سے جاری رہے گا اور صہیونی بستیوں کی تعمیر میں اضافے پر منتہج ہوگا۔

سنچری ڈیل کے نفاذ سے نہ صرف فلسطین کے جغرافیہ میں تبدیلی آجائے گی بلکہ اس کی تاریخی اور مذہبی شناخت کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس وقت وہ علاقے جن پر اسرائیلی قابض ہیں، فلسیطنیوں کی سرزمین ہے اور اس علاقے کو صہیونیوں کو دینے میں برطانوی اور امریکی سامراج کی کوششیں اور حمایتیں بھی شامل ہیں۔ اس منصوبے پر عمل درآمد سے فلسیطن کی جفرافیائی، ثقافتی اور مذہبی شناخت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ مذہبی حوالے سے بیت المقدس فلسیطنیوں کا ہے اور مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ سینچری ڈیل کی صورت میں بیت المقدس یہودیوں کے قبضے میں چلا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بیت المقدس اور فلسیطنیوں کے مختلف علاقوں کو جغرافیائی اور مذہبی شناخت آسانی سے تبدیل ہو جائے گی اور اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آئے گا۔ کیا یہ منصوبہ امن و امان سے نافذ ہوسکتا ہے اور کیا اس کے پرامن نفاذ کے امکانات بھی ہیں یا نہیں۔

سنچری ڈیل کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ فلسطین کی تمام تنظمیں اس کے خلاف ہیں اور اس پر سب کا اجماع ہے۔ اس اتفاق کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس میں کسی بھی فلسطینی تنظیم کو معمولی سا بھی فائدہ نظر نہیں آرہا ہے۔ معروف سیاسی مبصر صالح القلاب الشرق الاوسط میں لکھتے ہیں کہ سنچری ڈیل کے بارے میں زیادہ تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں ہیں، لیکن میڈیا کے موثق ذرائع سے جو خبریں سامنے آرہی ہیں، ان کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس منصوبے میں فلسطینیوں کے معمولی مفادات کو بھی پیش نظر نہیں رکھا اور پورے کا پورا منصوبہ صرف اور صرف صہیونیوں کے حق میں نظر آرہا ہے۔ اس منصوبے میں 1967ء کی سرحدوں کو بھی ذرہ برابر اہمیت نہیں دی گئی ہے۔ اسی طرح اس میں بیت المقدس کو صہیونی حکومت کا دارالحکومت قرار دینے پر تاکید کی گئی ہے، جسے کوئی بھی باشعور فلسطینی ماننے کو تیار نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

صدی معاہدہ یا تباہی کا معاہدہ

(بقلم عادل فراز) ڈیل آف سینچری یعنی ’صدی معاہدہ‘ کو عملی شکل دینے کے لئے …