منگل , 25 جون 2019

امریکی حماقت کا خمیازہ اسرائیل کو بھگتنا پڑے گا

(حسیب اصغر) 

سابق امریکی صدر بارک اوبامہ نے اپنی فراست سے ایران کے جوہری پھیلاؤ کو روکنے کےلیے ایک معاہد ہ کیا جس میں امریکا کے علاوہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے رکن ممالک جرمنی، فرانس، روس اور چین بھی شامل تھے۔ یہ معاہدہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ ایران نے اس معاہدے کو خوش آمدید کہا تھا۔ بین الاقوامی برادری میں اس معاہدے کو ذہنی بالیدگی کا بہترین نمونہ قرار دیا جارہا تھا جس کے باعث ایران پر عائد پابندیوں میں بہت حد تک نرمی کی گئی تھی جبکہ خطے میں امن و استحکام لانے میں مدد ملی تھی۔ لیکن امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 میں ایران کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کو یک طرفہ طور پر ختم تو کردیا لیکن اس معاہدے کے دوسرے یورپی فریق ممالک اس معاہدے سے دستبردار ہونے سے ہچکچا رہے ہیں۔

ان ممالک کی کوشش ہے کہ یہ معاہدہ برقرار رہے جس کی وجہ سے ایران پر ایٹمی سرگرمیاں محدود رکھنے پر دباؤ برقرار رہنے کے ساتھ ساتھ یورپ کو ایران سے مناسب قیمت پر تیل بھی ملتا رہے۔ اس کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اگر معاہدے کے دیگر فریق بھی امریکا کی طرح اس معاہدے سے دستبردار ہوتے ہیں تو ایران اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ مطلوبہ ایٹمی مواد کے خفیہ طور پر حصول میں آزاد ہوجائے گا، جو مغربی ممالک کےلیے زیادہ خطرے کا موجب ہوسکتا ہے۔ مگر اب ایسے لگتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ 2020 کا الیکشن جیتنے کےلیے ایران کے ساتھ امریکا کے روایتی اختلاف کو ہوا دے کر سرد ہوجانے والی جنگ کی چنگاری کو پھر سے بھڑکانے کے خواہش مند ہیں۔

امریکی حماقتوں کے بعد اس وقت خطے کی صورتحال جہاں تشویشناک ہے، وہیں بڑی مضحکہ خیز بھی ہے۔ ایک جانب امریکا نے مشرق وسطیٰ کے سمندر میں جنگی بحری بیڑا اور بی 52 بمبارطیارے تعینات کردیئے ہیں جبکہ ایران نے امریکا کی جانب سے جنگ کی سنجیدہ دھمکی کو ہنسی میں اڑا دیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ یہ اعصاب کی جنگ ہے، امریکا کبھی ایران پر حملے کی حماقت نہیں کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کو براہ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ کی حماقت کی گئی تو ایران، امریکا اور اس کے اتحادی اسرائیل کو ہر محاذ پر شکست دے دگا۔ ایران کے ساتھ کشیدگی اسرائیل کے سوا دنیا کے کسی بھی ملک کے حق میں نہیں، یہی وجہ ہے اسپین نے مشرقی وسطیٰ میں امریکی بیڑے میں شامل اپنا بحری جنگی جہاز یہ کہتے ہوئے واپس بلا لیا کہ امریکا نے مشن کے مقاصد کو تبدیل کردیا ہے؛ جبکہ روس نے ایران کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی پابندیوں پر ایران کا ردعمل قانونی ہے جس کی حمایت ہونی چاہیے۔

امریکی جنگی تیاریاں ایران کی جانب سے خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات کے ردعمل میں ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ خطے میں امریکی مفادات کو ایرانی خطرے کا تو ذکر کرتی ہے لیکن ابھی تک کسی مخصوص خطرے کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی ہے جس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ امریکا، ایران کے ساتھ اسرائیل کے تیار شدہ جنگ کے پرانے منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ہی ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ ایران کے جدید فوجی دستے کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے سے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں امریکی شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں، عراق میں امریکا کے پانچ ہزار کے قریب فوجی متعین ہیں۔

دنیا کے اکثرممالک کی طرح پاکستان کو بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدہ صورتحال پر تشویش ہے کیونکہ اگر خطے میں جنگ ہوتی ہے تو اس آگ کی تپش پاکستان تک بھی براہِ راست پہنچے گی، جو پہلے ہی دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہونے کے بعد اب امن و سکون کی جانب گامزن ہے۔ یہ پاکستان کےلیے بہت ہی مشکل وقت ہے جہاں ایک جانب پاکستان کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دینے والا ملک سعودی عرب ہے جو ایران کے خلاف ہے تو دوسری جانب ایران ہے جس کے پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بڑی مشکل سے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن رکھا ہوا ہے۔

گزشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان نے ایران کا دورہ کیا تھا، اس دورے سے عرب دوست خوش نہیں ہوئے تھے۔ عرب دوست ممالک کی خواہش ہے کہ پاکستان، ایران کے خلاف کھل کر ان کاساتھ دے مگر ایسا ممکن نہیں۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس کے نتائج پاکستان کےلیے انتہائی بھیانک ثابت ہوں گے۔ پاکستان ابھی تک افغان جنگ کے اثرات سے پوری طرح نہیں نکل سکا ہے۔

دہشت گردی سے پاکستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی اور ابھی پاکستان کی اقتصادی حالت ایسی نہیں کہ وہ غیر جانبدارانہ فیصلہ کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس کشیدگی کو کم کرنے کےلیے بھی کردار ادا نہیں کرسکتا بلکہ چین، روس اور فرانس جیسے بڑے ممالک بھی کھل کر ایران کی حمایت نہیں کررہے۔ یعنی ایران کے ساتھ جنگ کا حامی صرف امریکا ہے؛ اور یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ امریکا کی اپنی کوئی مرضی اور پالیسی نہیں۔ امریکا کی قومی سلامتی سے لے کر داخلی و خارجی پالیسیز کے حوالے سے احکامات تل ابیب سے واشنگٹن کو موصول ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا بلاجواز ایران کے خلاف اقدامات کررہا ہے جو امریکی حماقتوں کی عکاسی کررہے ہیں۔

اس ساری صورتحال کا اگر انتہائی گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مشرقی وسطیٰ میں ہونے والی ہر ایک سرگرمی کے پیچھے ایک ہی طاقت ہے جو اپنے دیرینہ مقاصد کے حصول کےلیے امریکا کو اپنی بے نیام تلوار کی طرح بے دریغ استعمال کررہی ہے۔ یہ وہی طاقت ہے جس نے اپنے توسیع پسندانہ منصوبے کے حصول کےلیے پہلے مرحلہ وار عراق، لیبیا، شام کو تباہ کیا اور اب ایران کی جانب اپنی پوری توجہ لگائی ہوئی ہے۔

مشرقی وسطیٰ کی تباہی کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایران کی صورت حال دیگر اسلامی ممالک سے یکسر مختلف ہے۔ ایران وہ واحد اسلامی ملک ہے جس کے عوام اور حکومت اپنے قومی مفادات کے پیشِ نظر متحد ہیں اور ایک طرح کے خیالات رکھتے ہیں۔ کسی بیرونی دنیا کے آلۂ کار بن کر اپنے ملک کو نقصان نہیں پہنچارہے۔ عوام اور حکومت کے مابین اس غیرمعمولی اتحاد ہی وہ وجہ ہے جس نے ابھی تک ایران پر حملے کو روکا ہوا ہے۔

اس تاثر میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ امریکا، اسرائیل کے تحفظ اور اس کی خواہشات کے مطابق من و عن عمل کرتا جارہا ہے اور اس طرح اسرائیلی خواہشات کے احترام میں امریکا کا اپنا تشخص بری طرح مسخ ہوگیا ہے۔ امریکا ہر گزرتے وقت کے ساتھ اسرائیل کو طاقتور سے مزید طاقتور بنانے میں اپنی توانائیاں صرف کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی ناجائز ریاست گزشتہ 7 دہائیوں سے اپنی زبردست عسکری صلاحیت اور غیر مرئی ایٹمی قوت کے بل بوتے پر فلسطین سمیت خطے کے دیگر ممالک پر اپنی طاقت اور جبر کا کھلا اور وحشت ناک مظاہرہ کرتی آئی ہے۔ اسرائیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی طاقت اور پر تشدد پالیسیوں کی وجہ سے اس خطے کا کوئی ملک خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا جبکہ امریکا، اسرائیل کے ہر جائز و ناجائز مطالبے کو پورا کرنے کےلیے سر دھڑ کی بازی لگا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ایران کا ایٹمی پروگرام ہر طرح سے مکمل جواز ررکھتا ہے۔

حالیہ صورتحال میں یہ امر تو واضح ہے کہ افغانستان میں امریکا کی بدترین شکست اور بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد ایران پر امریکی حملہ سراسر حماقت ہی ہوگا اور امریکا کا کوئی بھی ہمدرد ذہین دماغ اس امریکی حماقت کی حوصلہ افزائی ہرگز نہیں کرے گا کیونکہ اگر امریکا نے ایران پر حملے کی حماقت کی تو ردِعمل میں ایران پوری شدت سے اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔ اسرائیل حماس کے راکٹوں کا مقابلہ نہیں کرسکا تو ایک طاقتور ملک کی مکمل آرمی کا سامنا ناممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر ایرانی حملے کی صورت میں اسرائیل کے اطراف سے جہادی تنظیمیں اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گی اور اس طرح اسرائیل اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

صدی معاہدہ یا تباہی کا معاہدہ

(بقلم عادل فراز) ڈیل آف سینچری یعنی ’صدی معاہدہ‘ کو عملی شکل دینے کے لئے …