بدھ , 19 جون 2019

اسلام آباد میں 10 سالہ بچی کے ریپ کیس کو نسلی رنگ کیوں دیا گیا؟

(خدائے نور ناصر)

اسلام آباد کے علاقے علی پور فراش میں دس سالہ بچی کے ریپ کے بعد قتل کیے جانے کے واقعے کو پاکستان میں بعض لوگ اس تناظر میں دیکھتے ہیں کہ اس بچی کا تعلق چونکہ ایک پشتون گھرانے سے تھا، اس لیے نہ صرف پولیس بلکہ میڈیا نے بھی اسے اہمیت نہیں دی۔دوسری جانب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ اُنھوں نے جان بوجھ اس واقعے کو نسلی تعصب کا رنگ دیا۔

صحافی ضرار کھوڑو نے اس واقعے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’اگر کسی کو لگتا ہے کہ لسانی مسئلہ ہے تو یہ اُن کی غلط فہمی ہے، یہ بیماری ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ چکی ہے اور اس کا علاج کرنے کی ہم نے کوشش تک نہیں کی ہے۔‘ادھر پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل نے اپنے ذرائع سے نشر کی جانے والی ایک خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی ایم نے اس واقعے پر اس لیے زیادہ شور مچایا، کیوں کہ بقول اُن کے اس بچی کے خاندان کا تعلق افغانستان سے ہے۔

اس سے قطع نظر کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پاکستان کے کئی شہروں سے رپورٹ ہوئے ہیں اور اُن میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ بچی کا تعلق کہاں سے ہے۔بی بی سی نے ان سوالوں کے جواب جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا پولیس نے بچی کے والد کی بات اس لیے نہیں سنی کیوں کہ وہ پشتون تھے؟ اور بچوں کے ریپ اور قتل جیسے اندوہناک واقعات کو نسلی تعصب کا نام دینا معاشرے کو کس طرف لے جارہا ہے؟

پی ٹی ایم رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ الزام لگاتے ہیں کہ پولیس اور پاکستانی میڈیا نے اس لیے اس واقعے کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی کیوں کے اُن کے مطابق بچی کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا۔لیکن بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات تو صرف پختونوں کے ساتھ نہیں ہو رہے بلکہ دیگر صوبوں اور شہروں سے بھی ایسے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں اور اُن میں بھی جب تک واقعے کے خلاف احتجاج نہیں ہوتا، کوئی بھی کارروائی نہیں ہوتی؟

محسن داوڑ اس کے جواب میں کہتے ہیں، وہ اسے لسانی رنگ نہیں دے رہے، لیکن ریاست اپنے ردعمل سے اسے لسانی رنگ دینا چاہتی ہے۔’آپ خود دیکھ لیں کہ اس سے پہلے اس نوعیت کے واقعات پر چیف جسٹس نے بھی سوموٹو لیا ہے، فوج کے سربراہ نے بھی اپنے ترجمان کے ذریعے بیان دیے، پارلیمان اور میڈیا نے بھی اُن واقعات پر شدید احتجاج کیا ہے۔ جہاں تک اس بچی کی بات ہے تو اگر ہم لاش کے ساتھ پورا دن احتجاج نہ کرتے، تو کیا کوئی اُن کی بات سنتا؟‘

یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا اہم ہے کہ محسن داوڑ کے اس انٹرویو کے وقت تک تو نہیں تاہم اُس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے 22 مئی کی شب کو اس واقعے کے حوالے ٹویٹ کرتے ہوئے فوج کی مدد کی پیشکش کی تھی۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ گذشتہ ہفتے پیش آیا تھا اور بچی کے والد کی جانب سے گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے کے چار دن بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کرائی۔محسن داوڑ کے مطابق پولیس بھی اسی لیے بچی کے والد کی ایف آئی آر درج نہیں کررہی تھی کیوں کہ وہ ایک غریب اور پختون تھا۔

اس بارے میں سابق آئی جی پولیس سندھ شعیب سڈل کا کہنا ہے کہ پولیس تھانے میں اطلاع رپورٹ درج کرتے وقت طریقہ کار اور اہلکار کی نااہلی ہوسکتی ہے، تاہم اُن کے مطابق پولیس یہ نہیں دیکھتی کہ رپورٹ درج کرنے والے کا تعلق کس نسل سے ہے۔

’ایف آئی آر رجسٹریشن کے طریقہ کار مختلف ہوسکتے ہیں، اہلکار کی نااہلی ہوسکتی، جس طرح اس واقعے میں ہوا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ اُس کو معطل کیا، تاہم ایسے واقعات کو یہ رنگ دینا کہ رپورٹ درج کرانے والا کوئی پختون اور بلوچ ہے، اسی لیے نہیں ہوا، تو میرے خیال میں یہ مناسب نہیں۔‘

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن فرزانہ باری کہتی ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل جیسے اندوہناک واقعات کو نسلی رنگ دینا انتہائی غلط ہے لیکن اُن کے مطابق ہر علاقے کے باسیوں کے احتجاج میں اسی علاقے کے رکن اسمبلی ہی جاتے ہیں۔

اُن کے مطابق ایسے واقعات کو یہ رنگ دینا کہ یہ بچی پشتون تھی، اسی لیے اُن کے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہے، تو یہ غلط ہوگا۔’اس بچی کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ جرم کرنے والوں کے اندر ایک حیوانگی اور درندگی ہے۔ اور ایسا بھی نہیں کہ اس طرح کے واقعات پنجاب میں نہیں ہوتے۔‘فرزانہ باری کے مطابق سماج تقسیم در تقسیم ہے اور ہر واقعے کے بعد مختلف باتیں کی جاتی ہیں۔

’ایسے واقعات میں اگر متاثرہ شخص کا تعلق بلوچ، پشتون یا سندھ سے ہے، جو پنجاب کے مقابلے میں یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی قومیت کی وجہ سے اُن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، تو یہ عنصر اس میں خصوصی طور پر شامل ہوجاتا ہے۔‘بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

سوشل میڈیا اور اسکے خطرات

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور فہیم انسان انہی …