ہفتہ , 21 ستمبر 2019

کیا عرب ممالک ایران کو گھیرنے کی سازش کر رہے ہیں. (دوسرا حصہ)

(عبد الباری عطوان)

اگر جنگ کی آگ بھڑکی تو یہ یقینی طور پر ایک علاقائی جنگ ہوگی ۔ اس میں ایک طرف اسلامی مزاحمتی محاذ ہوگا اور دوسری جانب امریکا اور اس کے عرب اتحادی ممالک ہوں گے ۔ مگر اس جنگ کے خطروں کی سطح عالمی ہوگی یعنی اس کا اثر ساری دنیا پر پڑے گا ۔

اس کا سبب یہ ہے کہ یہ علاقہ عالمی اقتصاد میں اہم پوزیشن رکھتا ہے ۔ اسی علاقے کے تیل اور گیس پر دنیا کے متعدد اقتصاد منحصر ہیں ۔ جنگ ہونے کی حالت میں توانائی کے زیادہ تر شعبوں کو نقصان ضرور پہنچے گا ۔ اس لئے کہ ان پر میزائل ضرور گریں گے ۔

ہمیں یقین ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کو اچھی طرح پتہ ہے کہ امریکا کی فوجی طاقت کا دائرہ کتنا وسیع ہے ۔ انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ ان کی جنگ سوپر پاور سے ہے تاہم ہمیں جس کے بارے میں شدید شک ہے وہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران اور اس کے اتحادیوں کی طاقت کی پوری اطلاع ہے یا نہیں۔

ہمیں اس میں بھی شک ہے کہ ٹرمپ کو یہ پتہ ہے کہ جنگ کی صورت میں ان کے جنگی بیڑے، طیارہ بردار بیڑے اور فوجی چھاونیوں کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکا کے عرب اتحادیوں اور ان کے شہروں نیز اقتصاد کو جو نقصان پہنچے گا اس کی بات ہی الگ ہے ۔

جب کویت پر عراق کی صدام حکومت نے حملہ کیا تو کویت کے تیل کے کنوؤں میں آگ لگا دی اور اسے بجھانے میں ایک سال کا وقت لگ گیا ۔ اس بار اگر جنگ ہوتی ہے تو پورے علاقے کے تیل کے کنوؤں میں آگ لگ جائے گی ۔

ٹرمپ کی حکمت عملی ہے کہ اپنے مخالفین کو خوفزدہ کرنے کے لئے سارے حربوں کا استعمال کیا جائے تاکہ وہ خوفزدہ ہوکر مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائے اور امریکا کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دے ۔ یہ حکمت عملی تین ممالک وینزوئیلا، شمالی کوریا اور چین کے حوالے سے پوری طرح ناکام رہی اور اب ایک بار پھر ایران کے بارے میں اس حکمت عملی کو شکست ہونے جا رہی ہے۔

ٹرمپ کی حکمت عملی کی شکست کی اصل وجہ جسے ٹرمپ سمجھ پانے میں ناتوان ہیں وہ ہے قومی عزت اور افتخار کا جذبہ ۔ کیونکہ یہ الفاظ ان کے اور ان کے اتحادیوں کی ڈکشنری میں ہے ہی نہیں جبکہ ان کی مخالف قوموں کی رگوں اور ذہن میں ہر جگہ یہ جذبہ پوری طاقت سے موجود ہے ۔

ایران سے جنگ ہوئی تو یہ جنگ گزشتہ جنگوں سے مختلف ہوگی ۔ اس لئے کہ ایران کے پاس وسیع پیمانے پر دفاعی وسائل موجود ہیں ۔ اس نے اس طرح کی کسی بھیجنگ کی بہت اچھی تیاری کی ہے ۔ ایران کے سامنے عراق اور لیبیا کے خلاف امریکی فوج کشی کا تجربہ موجود ہے ۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایران کے پاس پورے علاقے میں پھیلا ہوا اتحادیوں کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے ۔ یہ اتحادی ایسے نہیں ہیں جنہیں پیسے دے کر خریدا گیا ہو ۔ خریدے ہوئے اتحادی امریکا کے تھے جو شام میں بری طرح شکست کھائے اور امریکا کو کم از کم 150 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا ۔ آنے والی جنگ میں امریکا کی ناک رگڑ دی جائے گی ۔بشکریہ سحر نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …