اتوار , 15 ستمبر 2019

ڈیل آف دی سینچری کا فراڈ اور فراڈی ٹولہ

(تحریر: محمد سلمان مہدی)

اتنا تو سبھی جان چکے ہوں گے کہ فلسطین کے ایشو کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دینے کی نیت سے امریکا کی زایونسٹ لابی نے ڈیل آف دی سینچری یعنی صدی کا (سب سے بڑا) سودا طے کر لیا ہے۔ چونکہ اس فورم پر دیگر اہم لکھاری اپنا اپنا نکتہ نظر پیش بھی کر رہے ہیں تو دیگر زاویوں سے ہٹ کر یہ حقیر اس تحریر کو زایونسٹ لابی کے اس فرنٹ مین پر فوکس کر رہا ہے، جس کے ذریعے ڈیل آف دی سینچری منظر عام پر لائی جا رہی ہے۔ جس طرح صدی کا یہ سب سے بڑا سودا فراڈ ہے، یعنی سب سے بڑا دھوکہ ہے، اسی طرح اس کو پیش کرنے والا جیرڈ کشنر ولد چارلس کشنر بھی ایک فراڈیے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ کہنے کو پولینڈ سے نقل مکانی کرکے امریکا میں آباد ہونے والا کشنر خاندان امریکی ہے، لیکن دیگر زایونسٹوں کی طرح یہ بھی فلسطین کے غاصب اسرائیل کے مفادات کو مقدم رکھتے آئے ہیں۔ حیرت ہے کہ امریکی عوام اس حد تک زایونسٹ لابی کے زیر اثر ہیں کہ انہیں سامنے کی چیز بھی نظر نہیں آرہی!

ایشو یہ ہے کہ فلسطین ایک عرب اکثریت سرزمین ہے اور یہاں 1948ء سے نسل پرست یہودیوں نے ایک جعلی ریاست اسرائیل قائم کر رکھی ہے۔ اس زاویئے سے یہ ایک متنازعہ معاملہ ہے، جس کے لئے مختلف ممالک کی حکومتوں نے سفارتکار یا بین الاقوامی قانون کے دیگر ماہرین کو مقرر کر رکھا ہے۔ لیکن حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے یہودی داماد جیرڈ کشنر کو پہلے اپنا مشیر اعلیٰ مقرر کیا اور ساتھ ہی مشرق وسطیٰ کے امور پر بھی امریکی پالیسی کا اختیار اسکے حوالے کر دیا۔ جیرڈ کشنر نہ تو سفارتکار ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کے ماہر۔ حتیٰ کہ ہارورڈ یونیورسٹی سے انکی تعلیم بھی فراڈ سے کم نہیں ہے۔ نیو جرسی کے ریئل اسٹیٹ ڈیولپر چارلس کشنر نے ہارورڈ کو پچیس لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا تھا اور اسکے کچھ عرصے بعد کشنر کا وہاں داخلہ ہوا۔

کشنر خاندان کی وجہ شہرت ریئل اسٹیٹ یعنی جائیداد کی خرید و فروخت سے منسلک ہونا ہے۔ جیرڈ کشنر بھی اسی شعبے کے آدمی ہیں۔ میڈیا انڈسٹری میں بھی انہوں نے قسمت آزمائی کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس شعبے میں انکی سرمایہ کاری سیاسی و اقتصادی حلقوں میں اپنی اہمیت بڑھانے کی نیت سے تھی۔ انہوں نے 2006ء میں ایک کروڑ ڈالر کے عوض ہفت روزہ نیویارک آبزور خریدا تھا، جس کا پرنٹ ایڈیشن 2016ء میں شائع ہونا بند ہوگیا تھا۔ وہ اس ادارے کو فروخت کرچکے ہیں. اکتوبر 2009ء میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سے شادی کی اور اس شادی کے لئے چند ماہ قبل ایوانکا کو رسمی طور پر راسخ العقیدہ یہودی بننا پڑا تھا. ٹرمپ خاندان پرسیبٹیرین کلیسائی نظام کا پیروکار کرسچین ہے اور یہ کلیسائی نظام زایونزم کو جھوٹا نظریہ اور ایک پرابلم قرار دے چکا ہے، کیونکہ یہ نظریہ یہودی نسل کو بالاتر قرار دیتا ہے!! اس کے بعد زایونسٹ لابی حرکت میں آئی اور پرسیبٹیرین کرسچن میں اپنی لابی کے افراد کے ذریعے انکے کلیسائی نظام کی اس اسٹڈی کو مسترد قرار دلوا دیا۔

کشنر خاندان کی بہو ایوانکا ٹرمپ نے اپنے باپ کی صدارت کے دور میں ایوان صدر (وائٹ ہاؤس) پر قبضہ جما لیا ہے۔ وہ اور ان کے شوہر خود کو وائٹ ہاؤس کے اسٹاف میں قرار نہیں دیتے بلکہ ایوانکا نے وہاں کے سینیئر اور بااثر حکام کے سامنے اپنے لئے ”دختر اول“ کا نیا لقب متعارف کروایا۔ دختر اول اور داماد جی کا کوئی مخالف وائٹ ہاؤس میں ٹک نہیں سکا۔ ایک ایک کرکے سب کو فارغ کر دیا گیا۔ سابق وزیر خارجہ ٹلرسن سے لے کر اسٹیو بینون تک سبھی مخالفین کو گھر کا راستہ دکھایا گیا۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے اور سابق نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر مائیکل فلائن کی برطرفی میں بھی جیرڈ کشنر نے ہی پس پردہ کردار ادا کیا تھا۔ حالانکہ جیرڈ کشنر کو وائٹ ہاؤس کے متعلقہ حکام نے سکیورٹی کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک ساتھ ان کے تعلقات اور ان کے کاروباری مفادات کی وجہ سے انکو سکیورٹی کلیئرنس نہیں دیا جاسکتا۔

ٍٍ چارلس کشنر نے 1985ء میں ریئل اسٹیٹ کاروبار کا باقاعدہ آغاز کیا تھا اور سات بلین ڈالر مالیت سے زائد کی جائیداد کی خرید و فروخت میں انکی کمپنی کا اسرائیل سے بھی تعلق رہا ہے۔ ٹیکس بچانے اور گواہ پر اثر انداز ہونے کے جرم میں چارلس کو امریکی عدالت نے سزا سنائی تھی اور وہ ایک سال دو مہینے جیل میں گذار چکے ہیں۔ سزا یافتہ مجرم چارلس نے اس وقت اپنی کمپنی کا کنٹرول اپنے سب سے بڑے بیٹے یعنی جیرڈ کشنر کے حوالے کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا مشیر اعلیٰ بننے کے بعد اس کمپنی کے عملی سربراہ کے عہدے سے ہٹنے کے باوجود تاحال جیرڈ اپنے خاندان کی کمپنی کی آمدنی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

جب سال 2017ء میں جیرڈ صدر ٹرمپ کے ساتھ اسرائیل کا دور کر رہا تھا تو اس سے پہلے اسرائیل کے بڑے انشورنس و پنشن مالیاتی ادارے مینورا میوٹاچم نے کشنر کمپنی میں تین کروڑ ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کی تھی۔ یہ سرمایہ کاری امریکی ریاست میری لینڈ میں اپارٹمنٹ کمپلیکسز کے لئے کی گئی تھی اور جیرڈ اس منصوبے کا بینیفشری ہے۔ رسمی اور اعلانیہ طور جیرڈ کے اس منصوبے میں ملوث ہونے کے شواہد نہ ہونے کی وجہ سے متعلقہ قوانین کا اطلاق نہیں کیا جاسکا ہے۔ ہیروں کے کاروبار سے منسلک اسرائیل کے دولتمند ترین اسٹائن مٹز خاندان کے راز اصتائنمٹز سے مین ہٹن کے علاقوں میں 19 کروڑ ڈالر مالیت کے اپارٹمنٹ عمارات سے متعلق شراکت داری کی تھی۔ راز اسٹائنمٹز کا چاچا بینی اسٹائنمٹز رشوت ستانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں امریکا، اسرائیل، سوئٹزرلینڈ اور گینیا میں زیر تفتیش ہے۔

کشنر کمپنی نے اسرائیل کے سب سے بڑے بینک ہاپوالم سے کم از کم چار قرضے لئے ہیں۔ یہ اسرائیلی بینک بھی امریکا میں زیر تفتیش ہے، کیونکہ یہ سوئس ڈویژن کے ذریعے امریکی شہریوں کو ٹیکس چوری میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ بینک لیومی سے بھی انکا کاروباری تعلق تصدیق شدہ ہے۔ اسرائیل کے تیسرے بڑے انشورنس گروپ ہارل انشورنس انویسٹمنٹس اینڈ فائنانشل سروسز لمیٹڈ میں کشنر خاندان کے اداروں کے حصص اور منافع کی تصدیق اسرائیلی کمپنی کرچکی ہے۔ اسرائیلی ریئل اسٹیٹ اور ہیروں کے کاروبار کی بڑی شخصیت لیو لیویو کی ملکیت امریکا اسرائیل انویسٹمنٹس سے کشنر نے مین ہٹن میں ساڑھے 29 کروڑ ڈالر مالیت کی چار منزلیں خریدیں، جو ماضی میں نیویارک ٹائمز کا صدر دفتر ہوا کرتی تھیں۔ لیویو روسی کمپنی پریویزون ہولڈنگز میں شراکت دار بھی ہے۔ کشنر کمپنی کے ان کے ساتھ کئی مشترکہ منصوبے رہے ہیں۔ اراکین کانگریس نے اس کی تحقیقات کی تھیں، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ منی لانڈرنگ کیس ہیں۔ جولائی 2014ء میں کشنر کمپنی، اسرائیل کے ڈیلیک گروپ کی فینکس انشورنس کمپنی کی بڑی شراکت دار بنی۔ ڈیلیک گروپ کے بحر متوسط کے ساحل پر قدرتی گیس کے ذخائر تمر اور لیویاتھن میں اسٹیک بھی ہیں۔

کشنر خاندان کی چارلس اینڈ سیرل فاؤنڈیشن نے اسرائیل میں کئی منصوبوں کو چندے کے نام پر خطیر رقوم بھی فراہم کی ہیں۔ فلسطین کے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کو بھی چندے دیئے ہیں۔ خاص طور پر 2013ء میں بیت ایل یہودی بستی کو بیس ہزار ڈالر کا چندہ دیا ہے۔ اس نسل پرست یہودی بستی کے لئے امریکا میں فرینڈز آف بیت ایل انسٹیٹیوشن چندے جمع کرتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ یہودی بستیاں انٹرنیشنل لاء کے مطابق غیر قانونی ہیں۔ یہودی بستی گش ایٹ زیون میں قائم ریبائی شلومو اسکین کی جدید راسخ العقیدہ یہودی تحریک اوھر تورات اسٹون کو بھی کشنر خاندان چندے دیتا ہے۔ شارع میڈیکل سینٹر، یروشلم اسپتال کے لئے کل دو کروڑ ڈالر مالیت کا اعلان کشنر خاندان کرچکا ہے۔

اگر یہ سب کچھ بھی کشنر خاندان کی نسل پرستانہ اسرائیل نوازی کو ثابت کرنے کے لئے کم لگے تو اسرائیلی افواج کے لئے کشنر خاندان کی خدمات کی تفصیلات جان لیجیے۔ امریکا میں ایک تنظیم ہے فرینڈز آف آئی ڈی ایف یعنی اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے دوست۔ 2011ء سے 2013ء تک اس تنظیم کو دیئے گئے لاکھوں ڈالر چندے کی خبریں بھی آچکی ہیں۔ جیرڈ کشنر فرینڈز آف آئی ڈی ایف کے بورڈ میں شامل تھا اور جب ٹرمپ کا مشیر بنا تو اس حوالے سے سوالات اٹھنے کے بعد اسکا نام وہاں کے ریکارڈ سے ہٹا دیا گیا۔

یہ مسائل اتنے سادہ نہیں ہیں۔ قانون کی اصطلاح میں یہ ایشو کنفلکٹ آف انٹریسٹ یعنی مفاد کے تنازعے کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی جیرڈ کشنر کے ذاتی اور خاندانی اور نسلی مفاد اور امریکا کے قومی مفاد کے مابین تنازعہ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ٹرمپ نے کس اہلیت کی بنیاد پر جیرڈ کشنر کو مشیر اعلیٰ مقرر کیا۔ زایونسٹ یہودی داماد کو ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے امور کا چارج بھی دے دیا جبکہ اسرائیل میں جو امریکی سفیر مقرر کیا، وہ بھی زایونسٹ یہودی ڈیوڈ فریڈمین اور دوسرا مشیر گرین جیسن بلیٹ، وہ بھی زایونسٹ یہودی۔ آخر الذکر دونوں ہی وکیل ہیں اور وہ بھی بین الاقوامی قانون کے ماہر نہیں بلکہ امریکا میں جو عام کاروباری مقدمات اور کمپنی دیوالیہ ہونے سے متعلق مقدمات کے وکیل ہیں۔

فلسطین کا ایشو ہو یا عرب اسرئیل تنازعہ، یہ سفارتکاروں اور بین الاقوامی قوانین کے ماہرین کا شعبہ ہے۔ جائیداد کی خرید و فروخت سے منسلک داماد اور کاروباری مقدمات کے وکلاء کو دنیا کے اس اہم ترین پرانے ایشو کو نمٹانے کی ذمے داری دینا، صدر ٹرمپ کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امریکا میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ ذاتی اور خاندانی تعلقات کی حکومت ہے۔ یا پھر یوں کہیے کہ صدر ٹرمپ خود فراڈیے ہیں اور انہوں نے اپنے فراڈیے داماد اور ساتھیوں کو اس لئے فلسطین کا سودا کرنے کا اہم ترین کام سونپا ہے کہ وہ فلسطینیوں، عربوں اور مسلمانوں کے ساتھ ڈیل آف دی سینچری کے نام پر ایک بہت بڑے فراڈ کا سازشی منصوبہ رکھتے ہیں، جس کے لئے یہ فراڈیے ہی موزوں ترین افراد ہیں!!۔ (نوٹ: یہ صرف ایک پہلو ہے، جس پر فوکس کیا گیا۔ ان شاء اللہ دیگر زاویوں سے اس ڈیل کا جائزہ اگلی تحریروں میں لیا جائے گا۔)

یہ بھی دیکھیں

کس کے ہاتھ پہ لہو تلاش کریں؟

(تنویر قیصر شاہد) اگر کسی مغربی ملک میں یہ سانحہ پیش آتا تو پوری حکومت …