بدھ , 19 جون 2019

فوجی، دیوار اور چوکیاں قبلہ اول تک رسائی روکنے کے مذموم صہیونی حربے!

بالعموم عام دنوں بالخصوص ماہ صیام میں فلسطینی روزہ داروں اور نمازیوں کو قبلہ اول تک رسائی میں طرح طرح کی رکاوٹوں‌ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غاصب صہیونی ریاستی فلسطینیوں‌ کو طرح طرح کی سازشوں اور حربوں‌ سے روکنے کی مذموم کوشش کرتی ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین کی رہائشی 60 سالہ الحاجہ ام محمد اپنی تین بیٹیوں کے ساتھ صبح کو ماہ صیام کے دوسرے جمعہ کی ادائی کے مسجد اقصیٰ کی طرف روانہ ہوئی۔ وہ اپنے گھر سے چل کر قلندیا چیک پوسٹ پر پہنچی۔ القدس اور جنین کے باہمی ملاپ اور آمدو رفت کے لیے یہ واحد گذرگاہ ہے جہاں سے فلسطینیوں کو آمد ورفت کی اجازت ہوتی ہے۔ وہاں ام محمد فلسطینی مرد وخواتین کی لمبی قطاریں دیکھ کر حیران و پریشان ہوگئی۔

ان فلسطینیوں‌ کی تعداد سیکڑوں‌ نہیں بلکہ ہزاروں میں‌ تھی اور ان میں سے بیشتر نماز جمعہ کی ادائی کے لیے قبلہ اول میں‌ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر یہاں انہیں جس ذلت آمیز تلاشی اور تفتیش کا سامنا تھا اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطینی روزہ داروں کو گھنٹوں سے چوکی پر کھڑا گیا گیا تھا جہاں قابض فوجی اور تفتیشی کتے ان کی تلاشی لیتے اور انہیں انتہائی اشتعال انگیز کیفیت کا سامنا تھا۔ام محمد نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جگہ جگہ لگائے گئے ناکے، چوکیاں، اسرائیلی فوجی اور دیگر حربے صرف فلسطینیوں‌ کی نقل وحرکت محدود کرنے اور ان کی قبلہ اول تک رسائی روکنے کی مذموم کوششوں کا حصہ ہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے فلسطینی شہریوں نے بتایا کہ صہیونی فوج نے غرب اردن، القدس اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے فلسطینیوں کو قبلہ اول میں‌ نمازوں‌ کی ادائی سے روکنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتی ہے۔ حال ہی میں القدس سے باہر کے فلسطینیوں‌ کے لیے مسجد اقصیٰ میں‌ داخلے پر کم سے کم 40 سال کی عمر کی شرط لگائی۔نامہ نگار کے مطابق غزہ کے فلسطینی کئی سال سے قبلہ اول میں‌ نماز جمعہ کی ادائی سے محروم ہیں۔ پرانے بیت المقدس کو جمعہ کی صبح کو نماز فجر کے فوری بعد سیل کر دیا گیا اور فلسطینیوں‌ کو گھروں‌ میں‌ محصور کر دیا گیا۔

اندرون شہر کی کالونیوں وادی الجوز، الشیخ‌ جراح، راس العامود، شاہراہ سلطان سلیمان ، صلاح الدین اور الساھر کالونی کے فلسطینیوں کی قبلہ اول میں داخلے کی راہ روکنے کے لیے کڑے حربے استعمال کیے گئے۔فلسطینی نمازیوں کو مسجد اقصیٰ میں لانے والی بسوں کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں اور نمازیوں‌ کو بسوں سے اتار کر انہیں نہ صرف شناخت پریڈ کیا جاتا ہے بلکہ انہیں حراست میں بھی لے لیا جاتا ہے۔

فلسطینی شہریوں‌ کا کہنا ہے کہ قبلہ اول تک رسائی کے لیے فلسطینیوں کو جب رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اسرائیل کی تعمیر کردہ نام نہاد دیوار فاصل کو سیڑھیوں کے ذریعے عبور کر کے دوسری طرف جاتےہیں۔خیال رہے کہ جمعہ کو 2 لاکھ فلسطینیوں‌ نے قبلہ اول میں نماز جمعہ ادا کی۔ ان فلسطینیوں‌ کو قبلہ اول تک پہنچنے میں جگہ جگہ رکاوٹوں اور صہیونی فوج کے توہین آمیز طرز عمل کا سامنا تھا۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

سوشل میڈیا اور اسکے خطرات

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور فہیم انسان انہی …