جمعہ , 20 ستمبر 2019

ایران کیا کرے گا؟

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

امریکی وزیر خارجہ نے بغداد میں یہی بات کی کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، اسی طرح صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹس میں اور بیان میں بھی کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، اگر جنگ ہوئی تو ایران کو تباہ کر دیں گے۔ ویسے امریکی صدر میڈیا میں رہنے کے ماہر ہوگئے ہیں، وہ تھوڑے تھوڑے عرصے بعد کوئی نہ کوئی ایسا بیان دیتے رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں کافی عرصہ اس پر بحث و مباحثہ جاری رہتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا اور امن کا خواہاں ہے تو امریکی جنگی جہاز بشمول طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن خطے میں خوراک کی سپلائی کے لیے یا کوئی تجارتی سامان اٹھانے کے لیے بھیجا جا رہا ہے؟ ایک لاکھ بیس ہزار افواج بھیجنے کی باتیں کس مقصد کے تحت کی جا رہی ہیں؟ پورا مشرق وسطیٰ جنگی صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایران ایک پرامن ملک کے طور پر موجود ہے اور خطے میں عدم استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کے مدمقابل ڈٹ کر کھڑا ہے، اب یہ سارے ڈرامے فقط ایران کے کردار کو محدود کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاکہ خطے میں ساری قوتیں امریکہ کی فرمانبردار ہوں۔

یہاں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا جاتا ہے تو ایران کیا کرسکتا ہے؟ یا ایران کیا کرنے کی پوزیشن میں ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے سے پہلے ہمیں خطے میں پیش آنے والے چند واقعات کا تجزیہ کرنا ہوگا۔ مدت سے سعودی جہاز امریکہ کو تیل سپلائی کر رہے ہیں، یہ بڑے آرام سے جدہ یا سعودی عرب کی کسی بھی بندرگاہ سے روانہ ہوتے ہیں اور امریکہ میں سپلائی دے کر واپس آجاتے ہیں۔ راستے میں قزاق اور چھوٹے موٹے لٹیرے ان پر لگے امریکی اور سعودی جھنڈوں کی وجہ سے ہی دور چلے جاتے ہیں کہ یہ اقوام کے وسائل لوٹنے کے دو بڑے گروہوں کا سامان جا رہا ہے، جن کے شر سے بچ کر رہنا ہی مناسب ہے۔ اب اچانک ایسا کیا ہوا کہ دو بڑے سعودی ٹینکرز کو نقصان پہنچایا گیا اور تمام تر ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے بھی ان لوگوں کا پتہ نہیں چلایا جا سکا۔ یہ واقعہ ایرانی پانیوں سے کافی دور ہوا اور ایران نے اس کی تحقیقات کا درست مطالبہ کیا کہ پتہ چلے کہ اس کے پیچھے کون سی قوتیں ہیں۔؟

یمن میں پچھلے چند سال سے شدید جنگ جاری ہے، مظلوم یمنی عوام کو محصور کر دیا گیا، وہ حقیقت میں شعب ابی طالب کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے لیے وسائل زندگی نایاب کر دیئے گئے ہیں، مسلسل بمباری سے ان کے شہر ویران اور قبرستان آباد ہوگئے ہیں۔ ان کا جذبہ حریت ہے، جس کے سہارے وہ جدید اسلحے سے لیس اپنے سے بڑے ممالک کو روکے ہوئے ہیں۔ چند ڈرون یمن سے اڑتے ہیں اور چھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے سعودی عرب کی آئل کی بڑی پائپ لائن کو نشانہ بناتے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ سپلائی متاثر ہوتی ہے۔ سعودی عرب کی معیشت تیل پر کھڑی ہے، سعودی عرب کی معیشت سے تیل کو منفی کر دیں تو یہ چند ماہ بھی نہیں گذار سکیں گے۔ سعودی عرب نے ڈرونز سے بچنے کے لیے امریکہ سے جدید ترین سسٹمز خریدے ہیں، جو میزائلوں کو راستے میں تباہ کر دیں اور ڈرونز کو گرا دیں، مگر ان کا پورا نظام ناکام ہوگیا اور سعودی عرب کے اتنا اندر جا کر ڈرونز کے ذریعے کارروائی کی گئی۔ اس طرح ایک حملہ جدہ کے پاس بھی کیا گیا، اسے بھی سعودی دفاعی سسٹم ٹریک نہیں کرسکا۔

ان دو واقعات کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر امریکی اینگل سے دیکھا جائے تو امریکہ کو کھلا پیغام ہے کہ جنگ کی صورت میں تم تیل اتنی آسانی سے حاصل نہ کر سکو گے، سمندری راستہ بھی غیر محفوظ ہوگا اور پائپ لائنز بھی حملوں کی زد میں ہوں گے۔ سوچیئے اگر ایران سمندری راستے سے تیل کی سپلائی صرف چند ہفتے کے لیے ہی بند کر دیتا ہے تو کتنی بڑی تباہی آئے گی؟ تیل کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کریں گے اور سپلائی پوری نہ ہونے کی وجہ سے صنعتوں اور گاڑیوں دونوں کا پہیہ رک جائے گا۔ سعودی اینگل سے دیکھا جائے تو ان کے لیے بڑا دھچکا ہے کہ جس نظام پر وہ اعتماد کرکے بیٹھے ہیں، یہ ان کو بچا نہیں سکا۔ امریکی جہاز ابھی ایران سے بہت دور ہے۔ ایک ایرانی ڈرون ایران سے اڑا ہے اور اس امریکی بحری جہاز کے اوپر پرواز کرتا رہا ہے۔ تمام جدید ترین ٹیکنالوجیز سے لیس یہ جہاز بھی اس ڈرون کا پتہ نہ لگا سکا۔ ڈرون سے کی گئی ریکارڈنگ اتنی واضح ہے کہ جہاز کے عرشے پر کھڑی ہر چیز دیکھی جا سکتی ہے۔ اس سے یہ پیغام دیا گیا کہ ہماری تم پر نظر ہے، ہمیں افغانستان اور عراق کی طرح کا کوئی ملک نہ سمجھنا۔

اسرائیل، سعودی اور کچھ دیگر قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ ہر صورت میں جنگ ہو۔ اسرائیل کی اس خواہش کی وجہ تو صاف ظاہر ہے کہ وہ ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے اور ہر صورت میں اسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ سعودی عرب اور خطے کے دیگر اس کے ہمنوا ممالک فقط امریکی خوشنودی اور اپنی خاندانی بادشاہتوں کا تحفظ چاہتے ہیں۔ سعودیہ اور ان کے ہمنوا یہ چاہیں گے کہ اگرچہ اس میں دس ملین لوگ ہی کیوں نہ مر جائیں، جنگ ہونی چاہیئے۔ شاہی خاندان اس خوش فہمی کا شکار ہے کہ اس کاسہ لیسی کے نتیجہ میں ان کے اقتدار کو دوام حاصل ہوگا، حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ جیسے ہی ان کی ضرورت پوری ہوگی، امریکہ نے سعودی عرب خلاف قبائلی اور مذہبی ہر دو طرح کے گروہ تیار کر رکھے ہیں، جو بدامنی پھیلائیں گے اور امریکہ سعودی عرب کے تحفظ کا نعرہ لگا کر یہاں سیکولر قوتیں مسلط کر دے گا، جس کا آغاز شہزادہ محمد بن سلمان کے اقدامات سے کرا دیا گیا ہے۔

ایک ممکنہ ردعمل خطے میں موجود ان امریکی کاسہ لیسوں کے خلاف اقدامات ہوں گے۔ چند دن پہلے حماس اور اسرائیل کے درمیان لڑائی میں ستر فیصد میزائل اسرائیل کے حفاظتی حصار کو توڑتے ہوئے مطلوبہ جگہوں پر لگے ہیں۔ فلسطین سے ایک بڑی مزاحمتی تحریک اٹھے گی اور لبنان تو پہلے ہی مزاحمت کے حوالے سے معروف ہے، جہاں کا ردعمل بہت شدید ہوگا۔ شام کے بارڈر پر شامی حکومت کی دعوت پر ایرانی فورسز موجود ہیں، ایرانی جنرل کا بیان پڑ ھ رہا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو ہم امریکہ کے سر پر ماریں گے اور وہ سر امریکی مفادات کا سر ہوگا، جو یقیناً اسرائیل ہے۔ اسرائیل جنگ جنگ الاپ رہا ہے، مگر اس کے نتائج سے آگاہ نہیں ہے۔ وہ دو ممالک جو آج جنگ کا سب سے زیادہ دشوق رکھتے ہیں، جنگ کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان بھی انہیں ممالک کا ہوگا۔

شاہ سلمان نے ایک ڈرون حملے پر عرب لیگ، گالف کونسل اور نہ جانے کس کس کا اجلاس مکہ میں طلب کر لیا ہے، یہ تو ابتدا بھی نہیں۔ جنگ بڑی بے رحم ہوتی ہے، اس میں بربادی ہی بربادی ہوتی ہے۔ سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے خلاف ایران کا موقف واضح ہے، یہ امریکہ پر تین حرف بھیجیں اور آزادی سے جینے کا فیصلہ کر لیں، ان کو ہر روز کی امریکی بلیک میلنگ سے نجات مل جائے گی۔ خود امریکہ کے لیے بہتر یہی ہے کہ خونریزی کی بجائے احترام سے بات کرے۔ اگر دوسری قوموں کا احترام کیا جائے گا تو ہی کوئی آپ کی بات سنے گا، دھمکی کی زبان کا اثر آپ نے دیکھ لیا اور باقی بھی دیکھ لیں گے، اس کا نتیجہ فقط اور فقط تباہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …